A general view shows a besieged hospital, the last remaining Syrian army foothold in the town of Jisr al-Shughour, in the province of Idlib May 3, 2015. Syrian troops backed by heavy air strikes have edged closer to a hospital in northwestern Syria where dozens of Syrian soldiers and loyalist fighters have been holed up for the past two weeks, the army said on Sunday. The town was overrun last month by insurgents, including al Qaeda's wing in Syria, Nusra Front. Picture taken May 3, 2015. REUTERS/Ammar Abdullah
شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادی باغی گروپوں نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے زیر انتظام ایک اسپتال پر قبضہ کر لیا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے جسرالشغور شہر میں واقع اسپتال پر قبضے کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ بیسیوں افراد وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن وہاں رہ جانے والے افراد کو یا تو قتل کردیا گیا ہے،لڑائی میں وہ زخمی ہوگئے ہیں یا پھر انھیں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے ہلاکتوں اور یرغمالیوں کے حقیقی اعداد وشمار فراہم نہیں کیے ہیں۔
آبزرویٹری کے مطابق النصرۃ محاذ سمیت جنگجو گروپوں پر مشتمل جیش الفتح نے گذشتہ کئی روز سے جسرالشغور اسپتال کا محاصرہ کررکھا تھا۔شامی صدر بشارالاسد نے اس ماہ کے اوائل میں محاصرہ زدہ فورسز کو رہا کرانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ فوج بہت جلد ان کی بازیابی کے لیے آئے گی۔
اسپتال پر اسلامی جنگجوؤں کے قبضے اور محاصرے کے خاتمے کے حوالے سے النصرۃ محاذ اور شامی حکومت نے متضاد بیانات جاری کیے ہیں۔شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک نشریے میں حسب روایت فوج کی شکست کو فتح کی صورت میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
ٹی وی نے بتایا ہے کہ ”آرمی کامیابی سے ایک حربی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے محاصرے کو توڑنے میں کامیاب رہی ہے۔جسرالشغور اسپتال کا دفاع کرنے والے ہیروز کو ان کے ساتھی فوجیوں سے ملا دیا گیا ہے”۔
النصرۃ محاذ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر فوجیوں کی تباہ شدہ اسپتال سے نکلتے ہوئے تصاویر پوسٹ کی ہیں اور کہا ہے کہ وہ محاصرے کی سختی کے بعد وہاں سے نکل گئے ہیں۔یہ اسپتال جسرالشغور کے شمال مغرب میں واقع ہے۔اس شہر پر باغی جنگجوؤں نے 25 اپریل کو قبضہ کر لیا تھا۔
اس کے بعد قریباً ڈیڑھ سو فوجی، بیسیوں شہری ،سرکاری افسر اور ان کے خاندان اسپتال میں محصور ہو کررہ گئے تھے۔باغی گروپوں نے ادلب میں حالیہ ہفتوں کے دوران صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کو پے درپے شکستوں سے دوچار کیا ہے۔انھوں نے صوبائی دارالحکومت ادلب پر 28 مارچ کو قبضہ کر لیا تھا۔گذشتہ منگل کے روز انھوں نے صوبے میں واقع شامی فوج کے سب سے بڑے اڈے مسطومہ پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔
العربیہ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…