داعش جنگجوؤں نے آخری محفوظ شامی عراقی سرحد پر قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد شام کا آدھا حصہ داعش کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے ۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی افواج کی پسپائی کے بعد داعش نے عراق جانے والی الطناف سرحد کی اہم چوکی پر قبضہ کرلیا ہے جو اس سے قبل تک عراق جانے والی ایک محفوظ راہ تھی۔ اس بات کا انکشاف شام میں موجود برطانوی رضاکار تنظیم ’سیرین آبزوریٹری آف ہیومن رائٹس‘ نے کیا ہے جو اپنے رضاکاروں کے ذریعے معلومات جمع کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس سرحد کا عراقی حصہ الولید کہلاتا ہے اور وہاں سے بھی عراقی افواج جاچکی ہے۔
اس سے قبل داعش کے جنگجوؤں نے اہم عراقی شہر رمادی اور شام کے قدیم تاریخی شہر پالیمرا پربھی قبضہ کرتے ہوئے پالمیرا کی جیل سے سیکڑوں قیدیوں کو بھی چھڑالیا جب کہ حکومتی عمارات، اسلحہ خانوں، میوزیم اور دیگر اہم سرکاری عمارات بھی داعش کے قبضے میں ہیں، جنگجوؤں کے شہر پر قبضے کے بعد ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبورہوگئے جس کے بعد شہر میں بنیادی سہولتوں کی قلت بھی پیدا ہوگئی۔
واضح رہے کہ عراق کا ایک بڑا حصہ اور شام کا قریباً نصف علاقہ اب داعش کے تسلط میں چلا گیا ہے جب کہ یمن اور لیبیا میں بھی داعش کے جنگجو بہت منظم اورسرگرم ہیں۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…