- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

مشورہ کی اہمیت

اگر کسی کا شیخ زندہ نہ ہو وہ بھی مشکلات میں اپنی وائے سے فیصلہ نہ کرے بلکہ اس کو اپنے چھوٹوں سے مشورہ کرنا چاہئے۔ غرض چھوٹے بڑوں کا اتباع کریں اور بڑے چھوٹوں سے مشورہ لیں، اس امت کے چھوٹے بڑے سب کام کے ہیں۔ اس رائے کا ماخذ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’و شاورھم فی الامر‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔(انفاس عیسی ص۳۱۱)

مشورہ کا مقصد اور اس کا فائدہ
مشورہ کا حکم محض اس لئے ہے کہ اس کی برکت سے حق واضح ہوجاتا ہے خواہ مشورہ دینے والوں کی رایوں میں سے کسی ایک کا حق ہونا واضح ہوجائے یا سب رایوں کے سننے سے کوئی صورت ذہن میں آجائے جو حق ہو۔
حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’و شاورھم فی الامر‘‘، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ اگر بڑا اپنے چھوٹوں سے مشورہ کیا کرے۔ ان شاء اللہ غلطیوں سے محفوظ رہے گا چہ جائیکہ چھوٹا اپنے بڑے سے مشورہ کرے وہ بدرجہ اولیٰ محفوظ رہے گا۔ انفاس عیسیٰ

تصدیق و تائید بھی مشورہ ہے
تصدیق و تائید بھی ایک مشورہ ہے اور مشورہ کی صورت میں اختلاف رائے ہونا ممکن ہے (لیکن اس سے ناگواری نہ ہونا چاہئے) چنانچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختلاف رائے سے ناگواری نہ ہوتی تھی۔ (انفاس عیسیٰ ۴۱۷ ج۱)

اہل شوریٰ کی رائے کا اتباع ضروری نہیں
دیکھئے قرآن شریف میں مشورہ کا بھی امر ہے۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’و شاورھم فی الامر‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشورہ کیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کرنے کا حکم ہے لیکن یہ حکم نہیں کہ ان کے مشورہ پر عمل کریں بلکہ آگے عمل کے متعلق یہ ارشاد ہے: ’’فاذا عزمت فتوکل علی اللہ‘‘ کہ مشورہ کے بعد آپ کا جو ارادہ ہو جائے اللہ پر توکل کرکے اس پر عمل کیجئے اہل شوریٰ کی رائے کا اتباع ضرور نہیں۔
یعنی جب خود آپ کا قصد ہوجائے تو آپ خداتعالیٰ پر بھروسہ کرکے اس کام کو کرڈالئے۔
یہ نہیں فرمایا ’’فاذا عزموا‘‘ کہ جب وہ عزم کریں یا ’’فاذا عزم اکثرھم‘‘ کہ ان میں سے اکثر عزم کریں۔ مطلب (صرف) یہ ہے کہ مشورہ تو ان سے کیجئے اور عزم اپنا ہو کہ مشورہ کے بعد جس بات پر آپ کی رائے قرار پائے وہ کیجئے، اہل شوریٰ کی رائے کا اتباع ضروری نہیں۔ (التبلیغ ص ۱۱۴ ج۱۱۵۔ انفاس عیسی ۴۳۳)

تحفۃ العلماء جلد اول، ص ۸۶۔۸۵، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی، ۲۰۰۷
مرتب: حضرت مولانا مفتی زیدمظاہری ندوی