- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

علم و علماء کی فضیلت

’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔
امام محمد رحمہ اللہ کو کسی نے خواب میں دیکھا، پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا، جب میں درگاہ رب العزت میں حاضر ہوا مجھ سے فرمایا گیا کہ کیا مانگتے ہو؟ میں نے عرض کیا، ’’یا رب اغفرلی‘‘، ’’اے میرے رب مجھے معاف کردے‘‘۔ ارشاد ہوا کہ اے محمد اگر ہمیں تم کو عذاب دیان ہوتا تو تم کو یہ علم عطا نہ کرتے۔ تم کو ہم نے اپنا علم اسی لئے عطا کیا تھا کہ ہم تم کو بخشنا چاہتے تھے۔
اسی سے بعض نے استنباط کیا ہے کہ کسی کو خبر نہیں کہ میرے ساتھ خدا کو کیا منظور ہے بجز علماء کے۔ کیونکہ ارشاد ہ: ’’ من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین‘‘، اب سمجھ میں آگیا کتنی بڑی ضرورت اور کیسی فضیلت ہے علم دین کی کہ خدا تعالی بدوں اس کے خوش نہیں ہوسکتے۔ رضا حق علم دین حاصل کرنے پر موقوف ہے۔ (حق الاطاعۃ عبدیت، و۴۲ ج۱۹)

علماء کی ضرورت
میں پوچھتا ہوں کہ آیا علماء کا قوم کے لئے ہونا ضروری ہے یا نہیں، اگر نہیں ہے تو اس کا قائل ہونا پڑے گا کہ پھر اسلام کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ بدوں علماء کے اسلام قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ کوئی پیشہ بدون اس کے ماہرین کے چل نہیں سکتا۔ یہ اور بات کہ تھوڑی بہت دینی معلومات سب کو ہوجائیں اور اس سے وہ محدود وقت تک کچھ ضرورت رفع کریں مگر اس سے اس مقدار ضرورت کا بقا نہیں ہوسکتا۔ بقاء کسی شے کا ہمیشہ اس کے ماہرین سے ہوتا ہے تو ماہرین علماء کی ضرورت ٹہھری۔
پھر یہ ماہرین کیسے پیدا ہوں؟ سو تجربہ سے اس کی صرف یہی صورت ہے کہ ساری قوم پر واجب ہے کہ چندہ سے کچھ سرمایہ جمع کرکے علماء کی خدمت کرکے آئندہ نسل کو علوم دینیہ پڑھائیں اور برابر یہی سلسلہ جاری رکھیں۔ سو عقلا تو یہ بات واجب تھی کہ ساری قوم اس کی کفیل ہوتی مگر ایک طالب علم بیچارہ آپ ہی ہر مصیبت جھیل کے تحصیل علوم دینیہ میں مشغول ہوا تو چاہئے تو یہ تھا کہ آپ اس کی قدر کرتے بجائے اس کے رہزنی کرتے ہیں کہ عربی پڑھوگے تو کھاؤگے کیا؟ کیا مسجد کے مینڈھے بنوگے؟ ہاں صاحب دنیا کا کتا بننے سے اچھا ہے۔

عالم کی مثال
عالم کی مثال آفتاب کی سی ہے اس کے طلوع ہوتے ہی نصف کرۂ زمین (پوری زمین کا آدھا حصہ) منور ہوجا تا ہے اور ظلمت بالکل جاتی رہتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ دیندار عالم ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری تابع بن جائے اس کی صفت یہ ہو کہ ’’لایخافون فی اللہ لومۃ لائم‘‘ ’اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔‘‘ (دعوات عبدیت طریق النجاۃ، ص۵۳ ج ۱۲)

دنیاوی امن و سلامتی کے لئے بھی علماء کی جماعت کا ہونا ضروری ہے
’’ادعوا ربکم تضرعا و خفیۃ، و لا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا‘‘
دعا دونوں معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ اس آیت میں اگر عبادت کے معنی لئے جائیں تب خلاصہ یہ ہوگا کہ اول بھی عبادت کا حکم ہے اور بعد میں بھی۔ اور درمیان میں فساد کی ممانعت ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عبادت نہ کرنا فساد ہے۔ قرآن شریف اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ عبادت کا ترک کرنا موجب فساد فی الارض ہے اور انتظام عبادت کو اصلاح فی الارض فرمایا ہے۔ تو آیت کا حاصل یہ ہوا کہ عبادت یعنی دین نہ ہونا موجب فساد ہے اور اب میں اس کو مشاہدہ سے ثابت کرتا ہوں دین حقیقت میں چند چیزوں کے مجموعے کا نام ہے اور وہ پانچ چیزیں ہیں، عقائد، عبادات، معاملات، آداب معاشرت، اخلاق باطنی۔
اصلاح الارض میں جدا جدا ہر ایک کا دخل ہے مثلا معاملات کا اثر امن عام میں ظاہر ہوتا ہے کیونکہ معاملہ کے احکام کا حاصل حقیقت یہ ہے کہ کسی کا حق ضائع نہ کیا جائے پس معاملات کو اتفاق میں بڑا اثر ہے۔
اور مثلا اخلاق میں جھوٹ نہ بولنا، ہمدردی کرنا، خود غرضی نہ کرنا سب داخل ہے اور یہ اصول تمدن میں بہت چیز ہے جن پر تمام دنیا کا دار و مدار ہے اور واقعات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ اخلاق دو شخصوں میں پائے جائیں جن میں ایک تو توحید و رسالت کا قائل ہو اور دوسرا اس کا قائل نہ ہو تو یقیناًدونوں میں بہت بڑا فرق ہوگا یعنی منکر توحید میں یہ اخلاق محدود العمر ہونگے اس طرح سے کہ جب تک ان اخلاق پر عمل کرنے سے اس کے دنیاوی منافع فوت نہ ہوں ان کے خلاف کرنے سے رسوائی کا اندیشہ ہو اس وقت تو ان اخلاق پر عمل کیا جائے گا اگر ایسا موقع آپڑے کہ ان اخلاق پر عمل کرنے سے دنیوی ضرر ہوتا اور ان کے خلاف کرنے میں بدنامی کا اندیشہ نہ ہو تو اس منکر توحید و رسالت کو کبھی ان اخلاق کی پرواہ نہ ہوگی۔ البتہ جو اخلاقی تعلیم کے ساتھ خدا اور قیامت میں ضرور ہی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
اب عمل کا دخل لیجئے سب کو معلوم ہے کہ اخلاق میں بڑی چیز تواضع ہے اس کے نہ ہونے سے تمام عالم میں فساد پھیلتا ہے کیونکہ فساد کی جڑ ہے نا اتفاقی اور نااتفاقی تکبر سے پیدا ہوتی ہے اگر تکبر نہ ہو تو نااتفاقی کی کوئی وجہ نہیں تو اتفاق کے لیے تواضع پیدا کرنے اور تکبر کو مٹانے کی ضرورت ہے۔
اور تواضع کی عادت نماز سے خوب ہوتی ہے نفس کا خاصہ ہے کہ اگر اس کو کہیں ذلت نہ سکھلائی جائے تو اس میں فرعونیت پیدا ہوجاتی ہے اور نماز میں اول ہی سے اللہ اکبر کی تعلیم ہے تو جس کے دل میں خدا کی عظمت ہوگی وہ اپنے کو چیونٹی سے بھی مغلوب اور ناتواں سمجھے گا کیونکہ بڑوں کے سامنے ہوتے ہوئے چھوٹوں پر بھی حکومت نہیں رہتی تو اللہ اکبر کی وہ تعلیم ہے کہ اس سے تکبر کی بالکل جڑ کٹ جاتی ہے۔
علیٰ ہذا قوت بہیمیہ سے سینکڑوں فساد لڑئی جھگڑے دنیا میں ہوتے ہیں اور روزے سے قوت بہیمیہ ٹوٹتی ہے۔
اسی طرح زکوٰۃ کے لینے والے کے علاوہ دوسروں کو بھی زکوۃ دینے والے کے ساتھ محبت ہوتی ہے دیکھو حاتم طائی سخاوت کی وجہ سے سب کو اس سے محبت ہے اور اتفاق کی جڑ محبت ہے تو زکوۃ کو اتفاق میں کتنا بڑا دخل ہے۔
علی ہذا حج پو غور کیجئے کہ اس میں ساری دنیا کے آدمی ایک شغل میں ایک زمانہ میں ایک مکان میں جمع ہوتے ہیں اور تمام سامان تکبر سے خالی ہوکر ایک عظیم الشان دربار میں حاضر ہوتے ہیں، جس کو اتحاد و اتفاق میں بہت بڑا دخل ہے چنانچہ وہاں بہت کم حادثے پیش آتے ہیں۔
اب رہی معاشرت سو تامل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے جتنے طریقے ناجائز ہیں وہ کے سب وہی ہیں جن سے تکبر ٹپکتا ہے۔ مثلا ناجائز وضع سے شریعت نے منع کیا ہے۔
ہر چیز میں ایک خاصیت ہوتی ہے۔ اسی طرح اعمال میں بھی ایک خاصیت ہے اور عقائد میں بھی اور معاشرت میں بھی اور وہ یہ ہے کہ ان سب سے قلب میں ایک نور پیدا ہوتا ہے اور اس نور سے اس کی وہ حالت ہوتی ہے۔
المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ (مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے لوگ محفوظ ہوں) اب یہ بھی سمجھو کہ اطاعت ایک عمل ہے اور عقلی مسئلہ ہے کہ عمل بدون علم کے ہو نہیں سکتا تو امن عالم کے لئے علم دین کی ضرورت ہوئی اور اس کے حامل علماء ہیں تو اب بتاؤ یہ جماعت دنیا میں سب سے زیادہ ضروری ہوئی یا نہیں؟ میں نے کوئی شاعری نہیں کی، نہ کسی کی طرف داری کی امید ہے کہ اس بیان سے حقیقت حال منکشف ہوگئی ہوگی۔(دعوات عبدیت ضرورۃ العلماء ص۸۴ ج۱۱)

علماء کے وجود سے دنیا قائم ہے
اس سے اس حدیث کا مطلب بھی سمجھ میں آگیا ہوگا ’’لا تقوم الساعۃ حتی لایقال فی الارض اللہ اللہ‘‘ یعنی جب تک کوئی بھی اللہ اللہ کہنے والا موجود ہے قیامت نہ آئے گی۔
مختصر وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام طاعت ہے اور کفر بغاوت ہے تو دنیوی سلطنتوں کا تو یہ قاعدہ ہے کہ اگر کسی شہر میں باغی زیادہ ہوں تو شہر پر توپ خانہ لگادیا جاتا ہے۔ خدا تعالی بھی اگر یہی کرتے تو اکثر اوقات توپ لگے ہوتے۔ مگر یہ خدا تعالی کی رحمت ہے کہ اس نے یہ قانون مقرر کیا کہ اگر کل باغی ہوں مگر صرف ایک غیر باغی ہوتو اس کی بدولت تمام عالم محفوظ رہے گا۔ ہاں جب بغاوت عام ہوجائے اس وقت پھر ہلاکت بھی عام ہوگی۔ (یعنی قیامت آجائے گی اور یہیں سے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ بہت سے لوگ جن کو آپ حقیر سمجھتے ہیں وہ آپ کی بقاء کے سبب ہیں) (دعوات عبدیت ضرورۃ العلماء و۸۳ ج۱۱)

قومی ترقی کے لئے علم دین ضروری ہے
افسوس کہ آپ کے ہم وطن ہندوؤں نے تو تعلیم کے اہم ہونے تو محسوس کرلیا کہ ان میں بکثرت لوگ امتحان سے فارغ ہوکر اس کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک بڑی جماعت سررشتہ تعلیم (سرکاری تعلیم کا محکمہ) میں داخل ہو اس لئے کہ سب شاخیں اسی کی فرع ہیں تو تعلیم میں دخیل ہونا ذریعہ ہے ترقی کا۔ مگر ہم کو اب تک اس کی خبر نہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو عاقل سمجھے ہوئے ہیں۔ تعلیم کی حالت دوسرے کاموں کے مقابلوں میں ایسی ہے جیسے انجن کا پہیہ کہ اس کے چکر پر تمام گاڑیوں کو حرکت ہوتی ہے۔ اگر اس کی حرکت بند ہوجائے تو تمام گاڑیوں کی حرمت بند ہوجائے۔ مگر اس کی ضرورت کا احساس لوگوں کو نہیں ہوتا۔ درس و تدریس سب محکموں کی روح ہے خواہ تقریر ہو خواہ تصنیف۔ سب اسی تعلیم کی فرع ہیں مگر اس وقت سب سے زیادہ اسی کو بیکار سمجھ رکھا ہے۔ عام طور سے لوگوں کی نظر میں علماء کی وقعت کم ہے۔( ضرورۃ العلماء عبدیت ص۴۹ ج۱۱)

علماء کرام دنیوی فلاح کا بی ذریعہ ہیں
میں ترقی کرکے کہتا ہوں کہ وقت نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ علماء دنیا بی سکھلاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ تاریخ اس امر کی شہادت دے رہی ہے کہ مسلمانوں کی دنیا دین کے ساتھ درست ہوتی ہے۔ یعنی جب ان کے دین میں ترقی ہوتی ہے تو دنیا میں بھی ترقی ہوتی اور جب دین میں کوتاہی ہوتی ہے تو دنیا بھی خراب ہوجاتی ہے تو جب ہم دین سکھلاتے ہیں معاملات معاشرت اخلاق کو درست کرتے ہیں تو گویا ہم دنیا کی ترقی کی تدابیر بھی کرتے ہیں۔ (طریق النجاۃ عبدیت ص۲۶ ج۱۲)

تحفۃ العماء، جلد اول، ص ۶۱۔۶۵، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی، ۲۰۰۷
مرتب: حضرت مولانا مفتی زیدمظاہری ندوی