- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

شادیوں میں بھاری اخراجات ایک سنگین مسئلہ ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبہ جمعہ میں شادی پارٹیوں میں اسراف و تبذیر سے دوری پر تاکید کرتے ہوئے ایسی پارٹیوں میں بھاری اخراجات کو معاشرے کے اہم مسائل میں شمار کیا۔
تین اپریل دوہزار پندرہ کے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ» [النور:32]، (اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو۔ اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں (نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان کو اپنے فضل سے خوش حال کردے گا۔ اور خدا (بہت) وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے) کی تلاوت سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا: آج کے معاشرے کے اہم مسائل اور پریشانیوں میں ایک شادی کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے نے والدین، حکام اور ذمہ دار افراد کو پریشان کر رکھاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ’خلاف شریعت رسومات‘ اور ’بھاری اخراجات‘ کو شادی کے حوالے سے اہم پریشانیوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: لوگ شریعت کے خلاف آداب و رسوم اور بھاری اخراجات سے تنگ آچکے ہیں اور اسی وجہ سے شادی کا مسئلہ نادار لوگوں کے لیے گھمبیر ہوچکاہے۔ اس کے علاوہ دلہن کے خاندان سے جہیز لینا، دلہا سے سونے کی جیولری لینا اور ولیمہ میں اسراف کرکے بھاری اخراجات کا بوجھ ڈالنا شادی کے متعلق دیگر مسائل ہیں۔ یہاں تک کہ بعض لوگ جن کی مالی حالت کمزور ہے، شادی کی اخراجات پورے کرنے کے لیے سودی قرضے لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: شادی جو نوجوانوں کی اصلاح و پاکی کا باعث ہونی چاہیے تھی ناجائزامور اور غلط آداب و رسوم کی وجہ سے نوجوانوں کو خلاف شریعت کاموں پر مجبور کردیتی ہے۔ امہات المومنین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شادیاں بہت سادی تھیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی شادی کے موقع پر صرف ایک بھیڑ ذبح فرماکر صحابہ کو ولیمہ دیا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں حلوے و کھجور سے صحابہ کی تواضع کی گئی۔ حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی کی تقریب بھی انتہائی سادگی سے منعقد ہوگئی۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے شرعی اصول و احکام پر زور دیتے ہوئے مزید گویا ہوئے: اسلامی تہذیب و ثقافت دنیا میں بہترین تہذیب ہے جو زندگی کے ہر شعبے کے لیے اس کے ہدایات موجود ہیں۔ مسلمانوں کو کسی بھی تہذیب کی تقلید کی ضرورت نہیں ہے۔ لہذا شادی تقریبات میں اسلامی اصول کا خیال رکھ کر بے جا تکلفات و اسراف سے سخت پرہیز کرنا چاہیے۔ جس شادی کے اخراجات جتنے کم ہوں گے اتنا ہی وہ اسلامی ثقافت سے قریب ہوگی۔

اجتماعی شادیوں کا سلسلہ عام ہونا چاہیے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں یونیورسٹیوں سمیت بعض مقامات پر اجتماعی شادیوں کے رواج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا: اگر اس خطے میں کئی شادیوں کو اکٹھی کرکے اجتماعی شادی کی صورت میں انہیں یکجا کیا جائے۔ پھر اخراجات میں بھی کافی کمی آئے گی اور اس کے اثرات بھی مثبت ہوں گے۔
اسلامی نقطہ نظر سے شادی کے بعض مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: فقہی احکام کی رو سے ماں باپ زبردستی سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کراسکتے، بیٹی کی رضامندی ضروری ہے۔ جو شخص کسی خاتون سے شادی کرنا چاہتاہے تو اسے والدین و سرپرستوں سے رابطہ کرنا چاہیے۔ براہ راست اسے خاتون کے سامنے اپنی درخواست پیش نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح یہ رسم بھی مغربی کلچر کا حصہ ہے کہ لڑکی خود اپنا شوہر تلاش کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے، یہ ذمہ داری اس کے سرپرستوں اور بڑوں پر عائد ہوتی ہے۔ والدین بھی اس کی مرضی کی خیال داری کے پابند ہیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے شادی میں دلہا اور دلہن کی برابری و ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا: شادی سے پہلے بعض مسائل کو غور سے دیکھنا چاہیے تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہوجائے؛ ہر جہت سے جوڑوں میں یکجہتی ہونی چاہیے۔ دین دار و باحیا لڑکی کی شادی فاسق و فاجر مرد سے یا الٹا نہیں ہونی چاہیے۔ ان مسائل کو شادی سے قبل خیال رکھنا چاہیے ورنہ خاندان ختم ہوں گے اور بچوں کا مستقبل بھی خراب ہوگا۔

جوہری مفاہمت ایرانی قوم کیلیے بڑی کامیابی ہے
اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں ایرانی اہل سنت کی سماجی ودینی شخصیت مولانا عبدالحمید نے ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے جوہری تنازع پر اتفاق کو ایرانی قوم کے لیے ’بہت بڑی کامیابی‘ قرار دے دی۔
انہوں نے کہا: ملک کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری سے اتفاق پیدا کرنے سے قوم میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے۔ ایران کا جوہری تنازع دنیا کے اہم مسائل میں تھا جس سے پوری دنیا کی رائے عامہ مصروف ہوچکی تھی۔ ہرچند جامع اتفاق پر ابھی تک دستخط نہیں ہوا ہے مگر یہی مفاہمت اور فریم ورک پر اتفاق بھی قوم کی خوشی کے لیے کافی تھا۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے ایرانی قوم کے مطالبات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: موجودہ مذاکرات میں قوم کے بعض اہم مطالبات ڈیسک پر تھے جو الحمدللہ پورے ہوکر مان لیے گئے۔ ایران کا جوہری حق تسلیم کرنا قوم کا ایک مطالبہ تھا جسے عالمی طاقتوں نے اب تسلیم کرلیاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: عالمی برادری اور 5+1 گروپ ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات کا اظہار کرتے رہتے تھے اور ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا الزام لگاتے تھے۔ اگرچہ ایرانی قوم اور حکام کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، تا ہم ان بامقصد مذاکرات سے دنیا پر واضح ہوگیا ایران ایٹم بم اور جوہری ہتھیار کے درپے نہیں ہے۔ عالمی طاقتوںنے ایرانی قوم کے لیے جوہری طاقت کا حق تسلیم کرتے ہوئے پابندیاں ختم کرنے کا وعدہ کیاہے۔
ممتاز سنی رہ نما نے ’تمام پابندیوں کی منسوخی‘ کو قوم کا مطالبہ یاد کرتے ہوئے کہا: ایران کے خلاف تمام پابندیوں کی منسوخی قوم کا دوسرا مطالبہ تھا جو الحمدللہ اس پر اتفاق رائے حاصل ہوچکاہے۔ امید ہے ملک کی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری حاصل ہوجائے۔ نئے شمسی سال کے آغاز میں پرامن طریقے سے ایک بڑا اتفاق حاصل ہوجانے سے معلوم ہوتاہے جنگ، لڑائی اور تشدد کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔
مولانا عبدالحمید نے جمعرات دو اپریل کو حاصل ہونے والے نتیجے کو ’جیت – جیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا: جوہری پروگرام پر حاصل ہونے والا نتیجہ ’جیت – جیت‘ کے مصداق ہے۔ قوم کے مطالبات بھی پورے ہوئے اور عالمی برادری کے خدشات بھی دور ہوگئے۔ عنقریب سب مطمئن ہوجائیں گے۔ اس کامیابی پر سب سے پہلے اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہیں اور پھر مذاکراتی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

افغان صدر ہامون تالاب کا مسئلہ بنیادی طورپر حل کرے
خطیب اہل سنت زاہدان نے افغان صدر کی ایران آمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سیستان میں ہامون تالاب کی خشکی ختم کرنے پر ڈاکٹر غنی سے تعاون کا مطالبہ کیا۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان کے عوام افغانستان پر انسانی و اسلامی حقوق کے علاوہ پڑوسی کا حق بھی رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ڈاکٹر اشرف غنی سے درخواست ہے ہامون تالاب کا مسئلہ جڑ سے بنیادی طور پر حل کرے۔
انہوں نے مزیدکہا: مذکورہ تالاب اس سے قبل پانی سے بھرا ہوا تھا لیکن اب کئی سالوں سے خشک ہوچکاہے۔ اس کا پانی افغانستان سے آتاہے اور اسی پانی سے وہاں زراعت، مویشی پالنے کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ اگر یہ پانی بند ہوجائے تو زندگی وہاں کے عوام کے لیے اجیرن بن جاتی ہے جن کا اصل ذریعہ معاش یہی ہے اور یہ صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔