زاہدان (سنی آن لائن) اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت شیخ محمدصالح پردل نے ’کمّی ترقی کے ساتھ کیفی ترقی‘ پر زور دیتے ہوئے کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد تعلیم یافتہ طبقے پر منحصر قرار دیا۔
تیرہ مارچ دوہزار پندرہ جمعہ میں زاہدان کے ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد صالح پردل نے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان آبادی کے لحاظ سے ساڑھے تین ملین سے زائد آبادی کا خطہ ہے؛ یہاں کمی حیثیت سے کوئی کمی نہیں ہے۔ البتہ اس ترقی کے ساتھ ساتھ کیفی ترقی کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ لوگ اخلاقی، ایمانی، ثقافتی، علمی، ذمہ دارانہ صلاحیتوں اور تعلیمی میدانوں میں پیش پیش ہوں۔
انہوں نے مزید کہا: کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار باصلاحیت افراد اور تعلیم یافتہ طبقے پر ہے۔ آپ لوگ نہ صرف ایران میں بلکہ پوری دنیا میں فخر سے سر اٹھاتے ہیں کہ تمہارے یہاں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید ہیں۔
صوبہ ہرمزگان کے ممتاز سنی عالم دین نے ایرانی بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں یونسیف کی جانب سے کی گئی ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: چند سال پہلے جاسک، کنارک اور زرآباد جیسے علاقوں میں اقوام متحدہ کے یونسیف ادارے کی ایک ٹیم نے مطالعاتی دورہ اور سروے کیا۔ ان کی رپورٹ کے مطابق اس خطے کے طلبہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ذہین ہیں۔ یہ ہمارے لیے سرمایہ ہیں جنہیں برآمد کرکے اور ان پر توجہ دینی چاہیے۔
شیخ محمدصالح پردل نے دارالعلوم زاہدان کی انتظامیہ کو پیش کش کی نوجوانوں کی صلاحیتوں کی رہنمائی اور انہیں صحیح رخ پر چلانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ باصلاحیت افراد کو پیدا کرکے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مختلف تعلیمی ادوار میں انہیں مشورت دی جاسکے۔
جامع مسجدمکی و دارالعلوم زاہدان کی شہرت عالمی ہے
ممتاز سنی دانشور نے اپنے خطاب جاری رکھتے ہوئے ایرانی اہل سنت کی سب سے بڑی مسجد ’جامع مسجدمکی‘ کی تعمیرنو پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے تمہیں مکی مسجد کی تعمیر کی توفیق عطا فرمائی۔ اس مسجدکی تعمیر آپ کے لیے ایک امتحان ہے؛ یہ آپ ہی کے پیسے اور باہمی مشارکت سے تعمیر ہوجائے تو بدرجہا بہتر ہے اس سے کہ کوئی اور باہر سے آکر تمہاری مسجد تعمیر کرواکے چلاجائے۔
انہوں نے مزیدکہا: جامع مسجدمکی و دارالعلوم زاہدان کی شہرت عالمی بن چکی ہے اور لوگ جوق درجوق اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔ زاہدانی عوام انصار کی مانند ہیں اور مہاجرین ان کے پاس آتے ہیں۔ آخرالزمان میں انصار ومہاجرین کی داستانیں یہاں رقم ہوتی ہیں۔