خطیب اہل سنت زاہدان نے تقوی و پرہیزکاری پر تاکید کرتے ہوئے گناہ و معصیت کو معاشرے میں پریشانی اور بے چینی کے سب سے اہم اسباب میں شمار کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے چھ مارچ دوہزار پندرہ (پندرہ جمادی الاولی) کے خطبہ جمعے کا آغاز قرآنی آیت: «یا ایها الذین امنوا تقوا الله حق تقاته و لاتموتن الا و انتم مسلمون» کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: کسی بھی مسلمان کے لیے تقوی بہت ضرروی و اہم ہے۔ قرآن و سنت نے ہماری کامیابی و سعادت تقوی ہی میں رکھا ہے۔ تقوی کا مطلب ہے گناہوں سے پرہیز کرنا اور حقوق اللہ و حقوق العباد کا خیال رکھنا۔
انہوں نے مزیدکہا: اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا ہر شخص کی جہنم دنیا و آخرت میں اس کے گناہوں کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔ گناہ و معاصی ہی کی وجہ سے انسان کی دنیا و آخرت جہنم بن جاتی ہیں اور تقوی کی برکت سے وہ جنت بن جاتی ہیں۔ حیات طیبہ اور پاکیزہ زندگی تقوی ہی کے سایہ میں مل جاتی ہے اور ابدی زندگی میں بھی جنت نصیب ہوتی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: متقی لوگوں کی دنیوی زندگی آرام و سکون سے گزرتی ہے لیکن مجرم اور گناہ کار لوگوں کی زندگیاں خراب و تباہ ہیں اور ان کی آخرت بھی ویراں ہوجاتی ہے۔ معصیت اور لوگوں کے حقوق ضائع کرنے سے پریشانی، اضطراب اور ذہنی دباؤ کے دروازے کھل جاتے ہیں اور آرام و سکون کا خاتمہ ہوجاتاہے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: اگر معاشرے اور اپنی اولاد کی کامیابی و نجات چاہتے ہیں تو ہمیں گناہوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ ورنہ ہم کیسے معاشرہ اور اپنی اولاد کو اللہ تعالی کی نافرمانی سے منع کرسکتے ہیں؟ ہمیں گناہ تک پہنچانے والے رستوں سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ اسلامی شریعت کی رو سے جو عمل گناہ پر ختم ہوجاتاہے اس سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ مثلا کسی بھی انسان کے سامنے رکوع کی طرح جھک جانا یا تعظیم کے لیے سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔یہ اعمال شرک تک پہنچانے والے ہیں۔ رکوع و سجدہ خاص اللہ تعالی کے لیے ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مختلف قسم کے گناہوں سے اجتناب کو متقی لوگوں کی واضح صفات میں شمار کرتے ہوئے کہا: متقی و پرہیزکار لوگ گناہوں سے دوری کرتے ہیں۔ مرد حضرات سونا اور ریشمی کپڑے استعمال نہیں کرسکتے ہیں اور تقوی اسی میں ہے۔متقی لوگ ٹی وی سکرین پر ظاہر ہونے والی نیم برہنہ عورتوں کو نہیں دیکھتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے بعض مسلمانوں کے میڈیا ذرائع میں خواتین کو نیم برہنہ حالت میں دکھائی جاتی ہے، اگر کسی خاتون کو ٹی وی اور سیٹلائیٹ چینلوں میں لانا ہی ہے تو کم از کم ان کا سر ڈھانپنا چاہیے۔ اہل دین کے لیے کوئی بھی گناہ مناسب نہیں ہے۔
نوجوانوں کی شادی پر توجہ دیکر معاشرے کو محفوظ رکھیں
حضرت شیخ الاسلام نے بات جاری رکھتے ہوئے نوجوانوں کی شادی کے اسباب فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: نوجوان بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں مختلف ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ و سیٹلائیٹ چینلز کا غلبہ ہے اور نوجوانوں کو فحاشی و معاصی کی دعوت دی جارہی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: شادی کے مسئلے پر توجہ دینے سے پورا معاشرہ محفوظ اور صحیح و سالم رہتاہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے مالی استطاعت رکھنے والوں کو شادی کی سفارش کی اور دوسروں کو روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا۔ روزہ انسان کی خواہشات میں تعدیل پیدا کرتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے شادی پارٹیوں میں سادگی اختیار کرنے اور اسراف سے گریز پر تاکید کرتے ہوئے کہا: شادی محافل سادہ اور کم خرچے پر منعقد کرائیں تاکہ جن لوگوں کی معاشی حالت کمزور ہے وہ بھی شادی کرسکیں۔ جہیز مہنگا نہیں ہونا چاہیے۔ بعض علاقوں میں کئی شادیوں کو یکجا کرکے ایک ہی پارٹی دی جاتی ہے جو نہایت پسندیدہ اور قابل تقلید امر ہے۔
صہیونی ریاست کی پالیسی جنگ پر مبنی ہے
ممتاز سنی عالم دین نے زاہدانی سنی عوام سے خطاب جاری رکھتے ہوئے امریکی کانگریس میں اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: صہیونی ریاست کے وزیراعظم نے امریکی کانگریس میں اپنے حالیہ خطاب میں واضح کردیا اس شیطانی ریاست کو جنگ و جبر کے علاوہ کسی چیز پر بھروسہ نہیں ہے اور اسرائیلی حکام مکالمہ، امن اور صلح کے دشمن ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: اگر اسرائیلی حکام مکالمہ و مصالحہ پر یقین رکھتے تو آج تک فلسطین کا مسئلہ حل ہوجاتا۔ لیکن ان کے ہاتھ فلسطینی عوام اور دیگر لوگوں کے خون سے لہولہاں ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اس صہیونی ریاست انسانی حقوق کی پامالی میں سب سے پیش پیش ہے۔ فلسطینی عوام کا قتل عام اور ان کے گھروں کو مسمار کرنے کا داغ اس کے ماتھے پر دور سے نمایاں ہے۔ یہاں تک کہ مختلف عالمی تنظیمیں، متعدد ممالک اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے ادارے بھی اس کی مذمت کرتے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: امیدہے ایران کے جاری مذاکرات کا نتیجہ سب کے لیے کامیابی ہو اور ایرانی قوم کے علاوہ دیگر اقوام بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔