- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اہل سنت کی نماز کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنا ناقابل قبول ہے

ممتاز ایرانی سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے ’تعصب وتفرق‘ کو بے تہذیب اور ان پڑھ لوگوں کی علامت قرار دے کر ایران کے بڑے شہروں میں اہل سنت کی نماز کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
پندرہ فروری دوہزار پندرہ (25 ربیع الثانی 1436هـ) میں ایرانشہرکے عوام و خواص کے جم غفیر سے خطاب کرتے خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مسلمانوں کی بیداری و شعور پر زور دیتے ہوئے کہا: دشمن نے معاشرے کے تمام شعبوں کو نشانہ بنایاہے؛ علما، دانشور حضرات، اکیڈمینز اور تعلیم یافتہ طبقے سب نشانے پر ہیں تاکہ مغرب کے باطل اور منحرف کلچر و ثقافت مسلمانوں میں پھیل جائیں۔
ایرانشہر کے تین اہم مدارس (جامعہ حقانیہ، شمس العلوم اور فاروقیہ)کی تقاریب دستاربندی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: مغرب نے عالم اسلام کے خلاف کافی عرصے سے ایک ’ثقافتی جنگ‘ کا آغاز کیا ہے۔بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں امریکا و یورپ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، حالانکہ یہ دعوی جھوٹا ہے اور دراصل ان کا مقابلہ اسلامی بیداری سے ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اگر امریکا واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا چاہتاہے تو اسرائیل کو کیوں لگام نہیں لگاتاہے جو ایک دہشت گرد ریاست ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے مذموم ثقافتی پروگرامز آگے لے جانا چاہتے ہیںتاکہ مسلم ملکوں میں مغربی بے راہ روی کا رواج ہو۔ اس مقصد کے لیے وہ حکام و عام لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: اسلام دشمن عناصر دین اسلام کو اپنی خواہشات کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں اور اسی لیے اس کے مقابلے پر تلے ہوئے ہیں۔ لہذا تمام مسلمانوں کو چوکس و بیدار رہنا چاہیے اور قرآن وسنت اور سیرت صحابہ کی اتباع کرنی چاہیے۔

مشکلات کا حل باہمی گفت وشنید سے ہونا چاہیے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں کہا: ایران میں شیعہ وسنی کے بعض مسائل ضرور ہیں، لیکن ان مسائل کا حل باہمی گفت وشنید سے نکالنا چاہیے۔ شیعہ وسنی کے مشترکات بہت ہیں اور اتحاد تک پہنچنے کے لیے یہی مشترکات کافی ہیں۔ عقائد کے اختلاف کو ان دو مذاہب کے لیے چھوڑا جائے۔ حکام کو چاہیے ملک کے شیعہ وسنی برادریوں کو برداشت کریں۔
لڑائی و فرقہ وارانہ تعصب کو تہذیب سے عاری قوموں کی نشانی قرار دیتے ہوئے صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے کہا: نادان اور تہذیب سے عاری قومیں ایک دوسرے سے لڑتی جگھڑتی ہیں۔ شیعہ وسنی کو چاہیے ایک دوسرے کو برداشت کرکے رواداری کا مظاہرہ کریں۔ میرے لیے انسانیت اہم ہے اور اسی لیے ہم شیعہ وسنی کے خلاف حملوں کی مذمت کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے ذمہ داروں سے ہماری درخواست یہی ہے کہ جن شہروں اور خطوں میں اہل سنت اقلیت میں ہیں وہاں اہل سنت کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو اور انہیں نماز کے بارے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ ہو۔ جس طرح ہمارے لیے بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں ایک ہی شیعہ خاندان کی نماز کے حوالے سے کوئی حساسیت نہیں، اسی طرح ہمارے سنی بھائیوں کو جہاں وہ اقلیت میں ہیں نماز و عبادت کے مسئلے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے۔ اہل سنت کو آزادی حاصل ہونی چاہیے جہاں وہ چاہیں نمازخانہ بنائیں، دینی مدرسہ قائم کریں، نماز کا اہتمام کریں اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں۔ یہ ہمارے مسلمہ اور قانونی حقوق ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: تعصب جاہل قوموں کی نشانی ہے؛ ہم تہذیب یافتہ اور تعلیم کے زیور سے آراستہ قوم کے افراد ہیں۔لہذا مناسب نہیں مذہبی مسائل پر ہم ایک دوسرے کے ساتھ الجھ پڑیں اور لڑائی میں لگ جائیں۔ ہمیں فراخدلی و دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ شیعہ وسنی علما کو چاہیے واضح طورپر اپنے پیروکاروں کو رواداری اور فراخدلی کی نصیحت کریں۔