خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے چھ فروری دوہزار پندرہ کے خطبہ جمعہ میں دعوت الی اللہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے امربالمعروف ونہی عن المنکرکو معاشرے کی ظاہری و باطنی سلامتی یقینی بنانے کا راز قرار دیا۔
زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ» [لقمان: 17]، (بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت واقع ہو اس پر صبر کیا کر یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔) کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: انسانی معاشرے کا سب سے بڑا خطرہ اور چیلنج پوری انسانی تاریخ میں گناہ اور معصیت ہی کا چیلنج ہے جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی مخالفت ہے۔ جو شخص گناہ و معصیت کا ارتکاب کرتاہے وہ نہ صرف اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتاہے بلکہ وہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان اپنی اور پوری انسانیت کی بقا کے لیے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بجا لانا چاہیے۔ معاشرے کو بھلائی اور اچھائی کی طرف بلانا چاہیے۔ دعوت کے کام سے معاشرے کی ظاہری و باطنی سلامتی اور صحت یقینی بن جاتی ہے۔ آج اگر انسانی معاشروں میں جنگیں اور لڑائیاں عام ہوچکی ہیں اور مختلف قسم کے گناہ پھیل چکے ہیںاس کی واحد وجہ غفلت اور خدا بے خبری ہے۔ بعض لوگ چوری کر کے چند روپوں کی خاطر دوسروں کو ماردیتے ہیں اور قتل و اغواکاری سے گریز نہیں کرتے ہیں۔
’اقامہ صلوة‘ پر زور دیتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ بہت سارے مسلمان یا بالکل نماز نہیں پڑھتے ہیں یا سستی وکاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں؛ یہ سب خطرناک ہیں۔ نماز دین کا سب سے بڑا رکن اور بنیاد ہے۔ نماز کو صحیح طور پر جماعت کے ساتھ قائم کرنی چاہیے۔ قرآن پاک کی متعدد آیات میں اقامت صلوة کا حکم آیاہے اور یہ ممکن نہیں مگر جماعت کے ساتھ۔
انہوں نے کہا: آج کے معاشرے میں لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں۔ دوسروں کا حق پاو ¿ں تلے روندنا بہت بڑا گناہ ہے جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرہ اور وبال جان بن جاتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے امر بالمعروف میں سستی دکھانے کو گناہوں کے پھیل جانے کا اصل سبب قرار دیتے ہوئے کہا: افسوس ہے کہ معاشرہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کرتا۔ معاشرے کے حوالے سے علمائے کرام اور تعلیم یافتہ افراد کی ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں۔ معاشرے کے تمام طبقوں کو اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنا چاہیے اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری پر عمل کرنا چاہیے۔ دعوت صرف علما یا تبلیغی حضرات کا کام نہیں ہے، بلکہ سب کو اصلاح ِ معاشرہ کے لیے محنت کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید: ایرانی اہل سنت کے حقوق انہیں فراہم کیاجائے
ایران میں انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے اہل سنت کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے ملک کے اعلی اداروں اور عہدوں پر ان کی تعیناتی کو ملکی اتحاد کے لیے ضروری قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں ایران کے عوامی انقلاب 1979ء کی سالگرہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایرانی قوم کا انقلاب آزادی اور حق خودارادیت کے لیے تھا۔ جب قوم نے محسوس کیا ایران دوسروں کا غلام بن چکاہے اور عوام آزادی و استقلال سے محروم ہیں، تو سب نے آیت اللہ خمینی کی قیادت میں آمر حکومت کے خلاف قیام کیا۔
انہوں نے مزیدکہا: ایرانی قوم اس لیے سڑکوں پر شاہ کی حکومت کے خلاف نکل آئی تا کہ دینی و انسانی آزادیوں پر دسترسی حاصل کرے اور اپنی تقدیر کا لگام اپنے ہی ہاتھوں میں لے لے۔ اس انقلاب کی کامیابی میں معاشرے کے تمام طبقوں نے حصہ لیا۔ اہل سنت ایران نے بھی اس انقلاب میں پوری قوم کے ساتھ جد وجہد کی۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت ہمیشہ قومی میدانوں میں سرگرم رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کی ہے۔ اس برادری کا اتحاد و بھائی چارہ کے فروغ میں بڑا حصہ ہے جو کسی بھی حکومت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
ممتاز سنی عالم دین نے اہل سنت ایران کے بعض مطالبوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایرانی اہل سنت کا تعلق ایران ہی سے ہے اور وہ اسی ملک کے رہنے والے ہیں۔ ایران ان کا مادر وطن ہے۔ اسی لیے امید کی جاتی ہے ان کے اہل اور قابل افراد سے ملک چلانے میں کام لیاجائے اور چھوٹے بڑے محکموں میں مختلف عہدوں کو ان سے دریغ نہ کیاجائے ۔ اس طرح وہ اپنے ملک کی ترقی اور امن میں شریک ہوں گے۔
مولانا عبدالحمید نے یاددہانی کرتے ہوئے کہا: اہل سنت ایران کا ایک مطالبہ یہ ہے انہیں ان کے آئینی حقوق اور آزادیاں فراہم کی جائیںتاکہ اپنی فقہ کے مطابق کسی خوف وہراس کے بغیر اللہ کی عبادت کیا کریں اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں۔ ہم چاہتے ہیں اہل تشیع کے ساتھ کسی خوف و ہراس کے بغیر پرامن زندگی گزاریں۔
انہوں نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا اہل سنت ایران کے مطالبات پر مزید توجہ دیں اور ان کے مسائل کا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا: امیدہے ملک میں اتحاد و بھائی چارہ پہلے سے زیادہ مستحکم ہوجائے اور اہل سنت ایران پہلے کی طرح ہر ملکی و قومی موقع میں سرگرم نظر آئیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ڈاکٹر ابراہیم جمالزہی کے سانحہ انتقال کو صوبے کے علمی حلقے کے لیے ’بڑا سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے جو شہر کے ایک مخلص اور متواضع سپیشلسٹ ڈاکٹر تھے۔ ڈاکٹر جمالزہی ایک حادثے میں شدید زخمی ہوئے اور پھر ان کا انتقال ہوا۔
اپنے بیان کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے شہر کے ایک عالم دین حافظ محمدظاہر خمر کی شہادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شہید کے علودرجات اور پس ماندگان کے لیے اجروصبر کی دعا کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ان کے قاتل جلدازجلد گرفتار ہوکر رسوا ہوجائیں اور شہر میں امن قائم ہو۔