شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اسلام دشمن عناصر کی ریشہ دوانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دین اور سیاست کی جدائی کو ایک’ مغربی اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف‘ سوچ قرار دے دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ تیس جنوری دوہزار پندرہ کا آغاز قرآنی آیت: «يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ»، (یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (یعنی دین اسلام ) کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھادیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچاکر رہے گا گو کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں ۔) ]الصف: 8[ کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: اسلام کے دشمنوں نے ہمیشہ اس عظیم اور کامل دین کا چراغ بجھانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ ہرگز پوری طرح اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔
انہوں نے مزیدکہا: خیرالقرون کے بعد رفتہ رفتہ مسلمانوں پر عملی و اخلاقی غفلت و پستی غالب ہوگئی اور مسلم معاشرے کا ایک بڑا حصہ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑگیا؛ اعمال و اخلاق میں سستی کی وجہ سے اسلام دشمن عناصر کو اپنی سرگرمیاں آگے بڑھانے میں آسانی ہوئی۔
اسلام کے دشمنوں کی بعض سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: اسلام دشمن عناصر براہ راست جنگوں اور فوجی مداخلت کے علاوہ فکری، ثقافتی اور معاشی طور پر بھی مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں تاکہ عالم اسلام پر اپنا قبضہ جمالیں۔ ان کی کوشش ہے جس طرح عیسائیت چرچ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اسلام بھی مسجد تک محدود ہو۔ وہ چاہتے ہیں اسلام کو ایک ذاتی مسئلہ قرار دیں جس کا معاشرہ اور معاشرتی و سیاسی امور پر کوئی اثر نہ ہو۔ اسلام دشمنوں نے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کیا ہے اسلام کو مختلف محکموں، بازار، معاشرتی امور اور سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ساتھ نہیں ر ہ سکتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: نہ صرف مغربی ممالک نے عالم اسلام کو فکری اور ثقافتی یلغار کا نشانہ بنایا ہے بلکہ مشرق سے لے کر مغرب تک مختلف طاقتیں مسلم ممالک اور برادریوں پر پروپگینڈا وار کرتی چلی آرہی ہیں جن میں روس بھی شامل ہے جو خدا کے وجود کا انکار بھی اس کے پروپگینڈا کا حصہ رہاہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مسلم معاشرے کا ایک بڑا حصہ ایسے فاسد اور ملحدانہ پروپگینڈوں سے متاثر ہوا ہے چنانچہ بہت سارے لوگ دین کو سیاست سے الگ سمجھتے ہیں۔ پروپگینڈا کرنے والوں نے سیاست کو ’جھوٹ‘ کا معنی دے کر تفسیر کی اور کہاگیا سیاستدان دیندار نہیں ہوسکتے چونکہ کسی بھی ملک کو جھوٹ کے بغیر نہیں چلایا جاسکتا۔ حالانکہ درست اور سچی سیاست دین میں ہے۔ انسانی تاریخ میں بہت سارے لوگوں نے سچائی کے ساتھ حکومتیں چلائیں؛ بعض انبیائے کرام مثلا حضرت سلیمان، داوود اور خاتم النبیین علیہم السلام نے سچائی و صداقت سے لوگوں پر حکومت کی اور صحابہ کرام نے بھی مثالی حکومت کرکے سب کو دکھادی سچ کے ساتھ بھی حکومت چلائی جاسکتی ہے۔ ان کی زبان پر ایک جھوٹ بھی نہیں آیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: خلفائے راشدین و دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے جو حکومت کی، وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتے تھے بلکہ ان کی حکومتیں بہترین تھیں۔ وہ دیندار مسلمان تھے جو معاشرے کے ہر شعبے میں حاضر تھے اور انسانی معاشرے کو ایسے انداز میں چلانے میں کامیاب ہوئے کہ دنیا میں بے مثال ہیں۔ ان کی سیاست میں کوئی جھوٹا اور منافقانہ لفظ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا: دوسری جانب مغربی ممالک اور آج کی دنیا کی حکومتوں کی سیاست کا دارومدار اور بنیاد جھوٹی سیاست پر ہے۔ لیکن اسلامی سیاست سچائی پر مبنی ہے۔ اسلام میں دیانتداری اور سچائی سب سے بڑی سیاست ہے۔ اسلامی تہذیب میں کوئی داغ دبہ نہیں پایا جاتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: اسلام دشمن عناصر نے اپنی جھوٹی سیاست و تہذیب کو مسلم ممالک پر غالب کی جس کی بنیاد جھوٹ، بے راہ روی اور ہزاروں دیگر عیوب پر ہے۔ وہ آلائشوں سے پاک اسلامی تہذیب کو میدان سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے وہ بعض افراد کو تربیت دے کر ان کی برین واشنگ کرتے ہیں؛ یہ لوگ اسلامی کلمات زبان پر لانے سے شرم محسوس کرتے ہیں اور پھر ہم مسلمانوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ انہی لوگوں کے ذریعے وہ اسلامی تحاریک اور داعیان دین کو کچلنے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں۔
مسلمانوں کی مقدسات کی شان مین گستاخی اسلامی بیداری کے خلاف ردعمل ہے
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے کہا: اسلامی بیداری کو مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے؛ اسلام کے دشمنوں نے اس بیداری کو مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں اور انتہاپسندی میں تبدیل کیاہے۔ البتہ مختلف مسلمان طبقوں کی اسلام کی طرف واپسی و رجوع دیکھ کر امید پیدا ہوتی ہے کہ یہ بیداری اپنی صحیح راہ پر دوبارہ چل پڑے گی۔
انہوں نے کہا: مغرب میں اسلامی مقدسات و شعائر کی توہین و گستاخی دراصل مسلمانوں کی بیداری پر ردعمل ہے۔ لیکن انہیں معلوم نہیں ایسی گستاخیوں سے مسلمان مزید بیدار وآگاہ ہوجائیں گے۔
یاددہانی کرتے ہوئے مولانا نے کہا: اسلام کے دشمنوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح خوش کرنے کا بہترین طریقہ قرآن وسنت کی طرف لوٹنا اور سچی توبہ کرنا ہے۔ جس کے وجود میں ذرا ایمانی غیرت موجود ہو وہ ایسے حالات میں خالص توبہ کرکے قرآن وسنت کی تعلیمات اپنی زندگی میں نافذ کرے گا۔
آمریت کسی بھی انقلاب کے لیے وبا ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے ایرانی انقلاب کی سالگرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اتحاد اور انصاف کی فراہمی انقلاب کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ جس طرح ایران کے اسلامی انقلاب اتحاد کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہوا، اسی طرح یہ انقلاب اتحاد ہی کے ساتھ آگے جاسکتاہے۔ مختلف قومیتوں، مذاہب ومسالک اور معاشرتی طبقوں کی یکجہتی، انصاف کی فراہمی اور امتیازی رویہ و فساد سے مقابلہ کرکے یہ انقلاب محفوظ رہ سکتاہے۔
ممتاز سنی عالم دین نے مزیدکہا: کسی بھی انقلاب کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ جمہور سے خارج ہوکر کسی مخصوص سوچ، گروہ اور مسلک کے قبضے میں چلا جائے اور دوسروں کے لیے مسائل و مشکلات پیدا ہوجائے۔
انہوں نے کہا: آمریت ہر انقلاب کے لیے وبا ہے۔ ایران کے انقلاب نے آمریت اور مخصوص گروہ یا خاندان کی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ جب آمریت سے مقابلہ اسلامی انقلاب کے اصول کا حصہ ہے تو ہمیں چوکس رہنا چاہیے کہیں ہم خود استبداد و آمریت کا شکار نہ ہوجائیں۔ اسی لیے ملک کی تمام اکائیوں اور معاشرے کے تمام افراد کے مطالبات پر کان دھرنا چاہیے۔ پوری قوم کو یکساں نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اصول انقلاب کی رعایت نظام حکومت کی بقا کے لیے بہت اہم اور ضروری ہے۔