خطیب اہل سنت زاہدان نے بعض فرانسیسی اخبارات میں محسن انسانیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایسے اقدامات کو مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت قرار دیا۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے چوبیس ربیع الاول چودہ سو چھتیس (2015-01-16)کے خطبہ جمعے کا آغاز قرآنی آیت:« ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ» [روم:41]، (خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب بلائیں پھیل رہی ہیں تاکہ الله تعالیٰ انکے بعض اعمال کا مزہ ان کو چکھا دے تاکہ وہ باز آجائیں۔) کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: آج کل انسانیت بدامنی کی لہر میں پھنس چکا ہے، ہرسو قتل وغارتگری، بدامنی اور زمینی و ہوائی حملوں کا بازار گرم ہے۔ عالم اسلام بھی بدامنی، فرقہ واریت اور مختلف قسم کے تنازعات جیسے شوم رویوں کا شکار ہے جس سے قوموں اور حکومتوں کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اگر دنیا میں بدامنی پھیلنے کے اسباب پر گہری نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا آج کا انسان چشم کشا اور حیرت انگیزمادی ترقی کے باوجود ہدایت کی نعمت سے محروم ہے؛ دنیا و آخرت کے امور میں ہدایت انسانیت کے پاس نہیں ہے۔ آج کا انسان دین و دنیا اور روحانی وعرفانی امور میں ہدایت کی کمی سے نالاں ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: انسان اپنی دنیوی زندگی چلانے کے لیے بھی حقائق سمجھنے اور معنویت تک پہنچنے کے لیے بھی اللہ تعالی کی ہدایت کا محتاج ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ انسانیت صحیح سوچ اور تفکر کی نعمت سے محروم ہے، غرور اور انا کی آفت نے سب کو گھیر لیاہے۔ خودپسندی اور نفس کی بندگی کی وجہ سے انسان زمینی حقائق نہیں دیکھ سکتا اور بالاخر مصائب و بحرانوں سے دوچار ہوتاہے۔ آج کا انسان اپنے ہلاکت خیز اسلحے دیکھ کر مغرور ہوچکاہے اور دوسروں کی زندگیاں اس کے لیے اہم نہیں رہی ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: مغرور انسان یہ نہیں سوچتا کہ دیگر لوگوں کے ساتھ اس کے کچھ مشترکہ امور بھی ہیں، اس طرح وہ امن اور مفاہمت کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ تمام آسمانی مذاہب کا تعلق اللہ تعالی سے ہے۔ مسلم فرقے اور مسالک بھی اکثر مسائل میں مشترک و متفق ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ بعض لوگ اس امر پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔
اللہ کی نافرمانی کو آج کے انسان کے مصائب و مشکلات کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: افسوس کا مقام ہے معاشرے میں مختلف قسم کے گناہوں اور کشت وخون کا بازار گرم ہے۔ لوگ اللہ سے دور ہوچکے ہیں اور انبیا علیہم السلام کی تعلیمات سے دوری اختیار کرتے ہیں، حتی کہ بعض لوگ اپنی عقل سے بھی کام نہیں لیتے ہیںاور دنیا کو اپنے اور دوسروں کے لیے جہنم بناتے ہیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے فرانسیسی رسالوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: محسن انسانیت حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اس بات کی علامت ہے کہ کچھ لوگ عقل کی راہ چھوڑکر ایک ایسے رستے پر چل پڑے ہیں جس کا انجام اللہ کے غضب اور قوموں کی نفرت ہے۔
انہوں نے کہا: بعض متکبر اور مغرور لوگ یہ نہیں سوچتے کہ ایک ارب ستر کروڑ سے زائد مسلمانوں کے دلوں میں محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق موجزن ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بڑھ کر کوئی محبت نہیں ہے حتی کہ ماں باپ اور اولاد و رشتے دار بھی ان تک نہیں پہنچ سکتے۔
محسن انسانیت کی شان میں گستاخی تمام مسلمانوں پر گولی چلانا ہے
مہتم دارالعلوم زاہدان نے مغربی دنیا کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: جب تم اپنے ملکوں میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اجازت دیتے ہو اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ تم نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے سینوں پر گولی چلائی ہے۔ ایک طرف سے تم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کے دعوے کرتے ہو اور دوسری جانب کروڑوں مسلمانوں کے جذبات پر وار کرتے ہو؛ یہ کھلا تضاد ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں لیکن جن کاموں کا ارتکاب تم کرتے ہو اس سے جذباتی اور جوشیلے لوگ اپنی جگہ خواتین اور بچے بھی غصے میں آتے ہیں اور بے قابو ہوکر تمہاری جانوں اور مفادات پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا: فرانسیسی صدر اور دیگر مغربی حکام کیوں مسلمانوں کی اپنے نبی ﷺ سے محبت اور عشق کا اندازہ نہیں کرسکتے ہیں اور انہیں نظرانداز کرتے ہیں؟ اگر مغربی حکام حقائق پر آنکھیں بند نہیں کرتے تو آج انہیں اپنے ملکوں میں بدامنی سے دوچار ہونا نہیں پڑتا۔ ان کے رویے سے لوگ دہشت گردی پر راغب ہوتے ہیں۔ چند سال پہلے جب قرآن پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی تو پوری دنیا میں مسلمانوں نے احتجاج کیا اور بعض قتل بھی ہوئے، مغربی حکام نے اس حقیقت کو نظرانداز کیا اور پھر مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کی اجازت دی۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: مسلمان کسی بھی دین و مذہب کی توہین نہیں کرسکتے حتی کہ انہیں بت پرستوں کی توہین کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن تم تہذیب و ترقی کے دعویدار ہو، پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا خیال کیوں تمہیں نہیں آیا؟ یہ کم بختی و مصیبت کی نشانی ہے کہ ان ہستیوں کی شان میں گستاخی کی جائے جن کا عشق کروڑوں لوگوں کے دلوں میں ہے۔
ہمیں ایٹم بم سے مارو لیکن محمدرسول اللہ کی شان میں گستاخی نہ کرو
خطیب اہل سنت زاہدان نے فرانسیسی اخبارات و رسائل کی گستاخی کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا: تم اگر چاہو ہمیں گالیاں دو اور ہمارے آباو ¿ اجداد کے خلاف بھی بکتے رہو، لیکن محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہ کرو۔ کاش تم ہزاروں مسلمانوں کو بم اور میزائل سے ماردیتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساحت اقدس کی گستاخی نہ کرتے۔ ہم تمہارے ایٹمی بموں کو برداشت کرسکتے ہیں لیکن سیدالمرسلین کی اہانت ناقابل برداشت ہے۔
انہوںنے اپنے خطاب کے آخر میں کہا: توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے ہماری مقدسات کی توہین نہ کرو جس سے دنیا میں آگ لگ جائے۔ دنیا والوں کو امن سے رہنے دو۔ اقوام متحدہ کو چاہیے فوری طور پر ایسے اقدامات کے انسداد کے لیے کوشش کرے۔ تمام عالمی تنظیمیں اور یورپی ممالک کو چاہیے مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی و توہین کا سلسلہ روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ اگر دنیا میں امن کے قیام چاہتے ہو اور ہم سے توقع رکھتے ہو مسلمانوں کو امن کا خیال رکھنے کی دعوت دیں تو گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔