- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اللہ حسب ونسب کونہیں دیکھتا

’’یاایھاالناس اناخلقناکم من ذکروانثٰی وجعلناکم شعوباوقبائل لتعارفواان اکرمکم عنداللہ اتقاکم،ان اللہ علیم خبیر‘‘۔(الحجرات:۱۳)
ترجمہ:اے آدمیو!ہم نے تم کوبنایاایک مرداورایک عورت سے ،اوررکھیں تمہاری ذاتیں اور قبیلے،تاکہ آپس کی پہچان ہو،تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کوبڑی جس کوادب بڑا،اللہ سب کچھ جانتا ہے، خبردار۔(ترجمہ شیخ الہندؒ ۶۸۶)

اسلام نے جہاں جاہلیت کے بہت سارے خرافات وبرائی کومٹایاوہیں ذات،پات،قبیلہ، برادری،حسب ونسب،رنگ ونسل اورعربی وعجمی جیسے تفاخروتکبرجیسی لعنت سے بھی انسانیت کوآزادکیا، اور قرآن کریم نے پوری انسانیت کودرس دیتے ہوئے یہ جتلادیاکہ اے لوگو!تم ایک ہی مردوعورت کی اولاد ہو،یہ جوہم نے تمہیں قبیلوں اوربرادریوں میں تقسیم کیا،یہ تقسیم محض تعارف کے لیے ہے نہ کہ تفاخریعنی فخر و غرورکے لیے ہے،اوراس سے بڑھ کریہ اعلان کردیاکہ خوب جان لوکہ اللہ کے نزدیک فضیلت اوربڑائی صرف اسی شخص کے لیے ہے جواللہ کے نزدیک سب سے بڑاپرہیزگاراورمتقی ہے۔
اسلام سے قبل پوری دنیااس لعنت میں مبتلاتھی،عربی عجمی کواپنے سے کمترسمجھتاتھا،گورے کالے کوحقیروذلیل جانتاتھا،انسانیت قبیلوں اوربرادریوں میں تقسیم ہوکررہ گئی تھی،حسب ونسب کوفخریہ بیان کرنے کے لیے بڑے بڑے میلوں کاانعقادکیاکرتے اوران میلوں میں اپنے آباواجدادکی تعریف میں، اشعاراورتقاریرکے ذریعے اپنی سحرالبیانی وطلاقت لسانی کامظاہرہ کیاکرتے تھے۔
لیکن اسلام نے جاہلیت کے اس بت کویہ کہہ کرتوڑدیاکہ حسب ونسب اوررنگ ونسل اسلام کے نزدیک فضیلت کامعیارنہیں ہے بلکہ فضیلت وبڑائی کے لیے تقویٰ اورپرہیزگاری شرط ہے۔
مذکورہ آیت کے مطالعے سے تین باتیں بخوبی سمجھ میںآتی ہیں:(۱)تمام انسانوں کی اصل ایک ہے۔(۲)قبیلوں اوربرادریوں کی تقسیم محض تعارف کے لیے ہے نہ کہ تفاخرکے لیے۔(۳)فضیلت اور برتری کامعیارتقویٰ اورپرہیزگاری ہے نہ کہ حسب ونسب۔
(۱)اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ:ہم نے تم کوایک مرداورایک عورت سے پیداکیا۔یعنی تخلیق کے اعتبارسے تمام انسان ایک ہیں،تمام انسانوں کاپیداکرنے والاایک ہے،مادۂ تخلیق بھی ایک ہے یعنی اسی ایک ناپاک نطفے سے ہرایک کی پیدائش ہوئی،کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتاکہ وہ دوسرے سے اس لیے افضل ہے کہ اس کی پیدائش کے لیے پاک نطفہ کااستعمال کیاگیا،اورطریقۂ تخلیق بھی ایک ہی ہے اورایک ہی ماں باپ یعنی حضرت آدم وحواعلیہماالصلوٰۃ والسلام کی اولادہیں۔حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’کلکم بنوآدم وآدم خلق من تراب‘‘(ابن کثیر:۴؍۱۹۵)تم سب آدم کی اولادہواورآدم مٹی سے پیداکیے گئے تھے۔
(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشادفرمایا:’’اورہم نے تمہیں قبیلوں اوربرادریوں میں تقسیم کیا تاکہ آپس میں ایک دوسرے کی پہچان ہو‘‘۔حسب ونسب کی حقیقت بس اتنی ہے کہ سارے انسان حضرت آدم وحواعلیہماالسلام کی اولادہیں،شیخ،سید،مغل،پٹھان،فاروقی،صدیقی،عثمانی،انصاری،ان سب کا سلسلہ حضرت آدم وحواعلیہماالسلام پہ جاکرختم ہوجاتاہے،کوئی شیخ یاپٹھان یہ دعویٰ نہیں کرسکتاکہ ہمارانسب حضرت آدم علیہ السلام تک نہیں پہونچتاہے۔یہ ذاتیں اورخاندان تواللہ تعالیٰ نے محض تعارف اورشناخت کے لیے بنائی ہیں۔محض شیخ یاسیدہونافضیلت کامعیارنہیں ہے بلکہ اللہ کے نزدیک فضیلت کامعیارتوصرف اورصرف تقویٰ اورپرہیزگاری ہے۔اللہ کے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پہ ارشادفرمایا : الحمدللہ الذی اذھب عنکم عیبۃ الجاہلےۃ وتعاظمہابآباءھا،فالناس رجلان،برتقی کریم علی اللہ،وفاجرشقی ھین علی اللہ،الناس کلھم بنوآدم وخلق اللہ آدم من تراب‘‘(ترمذی:۳۲۷۰تفسیرالقرآن)
’’شکرہے اس خداکاجس نے تم سے جاہلیت کاعیب اورآباواجدادپرفخر کو دور کردیا ۔ لوگو! تمام انسان بس دوہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں:ایک نیک اورپرہیزگارجواللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے۔ دوسرافاجراورشقی جواللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے،ورنہ سارے انسان آدم کی اولادہیں اوراللہ نے آدم کومٹی سے پیداکیاتھا۔‘‘
(۳)فضیلت اوربرتری کامعیاراللہ کے نزدیک تقویٰ اورپرہیزگاری ہے،فتح مکہ کے موقع سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ جوکہ حبشی النسل تھے کواذان کاحکم دیاتوقریش مکہ جوابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان میں سے ایک نے کہاکہ اللہ کاشکرہے کہ میرے والدپہلے ہی وفات پاگئے،ان کویہ روزبددیکھنانہیں پڑا،اورحارث بن ہشام نے کہاکہ کیامحمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کواس کالے کے سواکوئی آدمی نہیں جڑاکہ جومسجدحرام میں اذان دے۔ابوسفیان بولے کہ میں کچھ نہیں کہتا کیوں کہ مجھے خطرہ ہے کہ میں کچھ کہوں گاتوآسمانوں کامالک ان کوخبرکردے گا۔چناں چہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اورآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوتما م گفتگوکی اطلاع دی۔آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھاکہ تم نے کیاکہاتھا،انہوں نے اقرارکرلیااسی پریہ آیت نازل ہوئی ،جس نے بتلایاکہ فخروعزت کی چیزدرحقیقت ایمان وتقویٰ ہے،جس سے تم لوگ خالی اورحضرت بلال آراستہ ہیں اس لیے وہ تم سب سے افضل اوراشرف ہیں۔(معارف ۸؍۱۲۵)
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’یاایھاالناس الاان ربکم واحدواباکم واحد،فلافضل لعربی علی عجمی ولالعجمی علی عربی،ولالاسودعلی احمر ولا لاحمرعلی اسود،الابالتقویٰ،ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم،الاھل بلغت ؟ قالوا بلی یارسول اللہ ،قال فلیبلغ الشاھدالغائب‘‘۔(کنزالعمال :حدیث نمبر۵۶۵۲عن جابرؓ)
لوگوخبرداررہو!تم سب کاخداایک ہے ،کسی عرب کوکسی عجمی پراورکسی عجمی کوکسی عرب پراورکسی گورے کوکسی کالے پراورکسی کالے کوکسی گورے پرکوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔مگرتقویٰ کے اعتبارسے اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والاوہ ہے جوسب سے زیادہ پرہیزگارہو۔بتاؤ میں نے تمہیں بات پہونچادی ہے؟لوگوں نے عرض کیاہاںیارسول اللہ!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااچھا تو جو موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہونچادے جوموجودنہیں ہیں۔

غفران ساجدقاسمی
(بصیرت فیچرسروس)