یمن میں سرگرم شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ذیلی گروپ انصار الشریعہ کے جنگجوئوں نے دارالحکومت صنعاء کے شمالی میں ارحب شہر میں ایک گوریلا کارروائی میں اہل تشیع مسلک کے شدت پسند حوثیوں پر حملہ کر کے کم سے کم بیس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
العربیہ نیوز چینل کے مطابق انصارالشریعہ نے ٹیوٹر پر ایک بیان میں بتایا ہے کہ تنظیم کے جنگجوئوں نے ارحب میں کوہ الصمع میں حوثیوں کی پیش قدمی روکتے ہوئے ان پر گھات لگا کرحملہ کیا اور حوثیوں کے کئی جنگجو موت کے گھاٹ اتار دیے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ حوثی شدت پسند رات کی تاریکی میں اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار کوہ نقیل۔ بن غیلان، بنی حارث اور ھمدان کے علاقوں میں موجود اپنے ٹھکانوں میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔
انصار الشریعہ کے مطابق تنظیم کے چھ جنگجوئوں نے ری پبلیکن گارڈز کے ارحب میں بنی حارث میں قائم کیمپ 63 بیت دھرہ میں قائم کیمپ 61 کی چیک پوسٹوں سے گذرتے ہوئے جبل الصمع اور بنی جرموز پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انہوں نے رات کے وقت انہی علاقوں میں گھات لگا کر حوثیوں کے ایک قافلے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں بیس سے زاید حوثی عسکریت پسند ہلاک اور بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود تباہ ہو گیا۔
العربیہ
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید