- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے عزائم سے واقف ہونا ضروری ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اسلام دشمن عناصر اور طاقتوں کے عزائم سے واقفیت کو ’بہت ضروری‘ یاد کرتے ہوئے کہا دشمن اپنا اصلی چہرہ خوش نما نعروں اور دلکش باتوں میں چھپاتاہے۔

 

خطیب اہل سنت زاہدان نے چودہ نومبر دوہزار چودہ ( بیس محرم)کے خطبہ جمعے کا آغاز قرآنی آیت: «يُرِيدُ اللّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ*اللّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُواْ مَيْلًا عَظِيمًا» [النساء:26-27]، (الله چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے بیان کرے اور تمہیں پہلوں کی راہ پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے. اور الله چاہتا ہے کہ تم پر اپنی رحمت سے متوجہ ہو اور جو لوگ اپنے مزوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے بہت دور ہٹ جاؤ) کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: آج کل مسلمانوں کے لیے اپنے دشمنوں کو پہچاننا اور ان کے عزائم سے واقف ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم دشمن کی نیتوں سے غافل ہوں تو ان کے جال میں پھنسنے کا قوی امکان ہے۔ اس صورت میں دشمن اپنے پلانوں کے نفاذ میں کامیاب ہوگا۔

انہوں نے مزیدکہا: ہم مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اچھی طرح اپنے دشمنوں کو نہیں جانتے؛ دشمن اپنے اصل چہرے کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتا بلکہ وہ دوستی اور خیرخواہی کے دروازے سے اندر آتاہے۔ دشمن دلکش اور خوش نما باتوں سے مسلمانوں کو ورغلاتاہے؛ شاید اس کی باتیں درست بھی ہوں مگر اس کا مقصد کچھ اور ہوتاہے۔ وہ اپنے اصل عزائم کو ایسی ہی باتوں کے پیچھے خفیہ رکھتاہے تاکہ مسلمانوںکو دھوکہ دے سکے؛ اسی کو عربی میں ”کلمة حق ارید بہا الباطل“ کہتے ہیں۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: اگر تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوجائے گا کہ کسی دور میں اگر مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانی پڑی ہے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اپنے دشمن کو نہیں پہچان سکے تھے یا اس کی نیتوں اور مذموم عزائم سے ناواقف رہ چکے تھے۔ آج بھی اسلام دشمن قوتیں دوستی کا ہاتھ بڑھاکر مسلمانوں کو تہس نہس کرنا چاہتی ہیں۔ وہ دہشت گردی کی بیخ کنی، معیشت و صنعت کی بہتری وبہبود اور تعلیم و ثقافت کے شعبوں کی ترقی کا نام لیتے ہیں اور اسی بہانے سے مسلم ملکوںکو قرضوں کے دلدل میں پھنساتے ہیں۔ اس طرح مسلم ممالک ان کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔

مولانا عبدالحمید نے عالمی طاقتوں کو مسلم ممالک کے استقلال اور بے نیازی کے دشمن یاد کرتے ہوئے کہا: اسلام دشمن طاقتیں ہمیشہ دوسروں کی ترقی اور استقلال کے مخالف رہ چکی ہیں۔ وہ مسلم ممالک کی سیاسی، معاشی اور تعلیمی ترقی کے بطور خاص دشمن ہیں؛ اگر کسی کو ہوائی جہاز فروخت کرکے دیتے ہیں تو ان کا مقصد سپیئرپارٹس میں اس ملک کو اپنے دست نگر بنانا ہوتاہے۔

انہوں نے اپنے بیان کے اس حصے میں کے آخر میں کہا: اگرچہ دشمن کی کوشش یہی ہے کہ اپنے عزائم کو چھپا کر رکھے، مگر بعض اوقات ان کے دل کی باتیں زبان سے نکل ہی جاتی ہیں۔ لیکن ہر صورت میں صرف سادہ لوح مسلمان ہی ان کے خوش نما نعروں اور دعووں کو سچ سمجھ کر انہیں اپنا خیرخواہ گردانتے ہیں۔

مسلم ممالک میں فحاشی و عریانی کا فروغ دشمن کی خواہش ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب جاری رکھتے ہوئے رجوع الی اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت واضح کرتے ہوئے کہا: دشمن کئی عشروں سے سرتوڑ کوششیں کررہاہے تاکہ مسلم معاشروں میں فحاشی و عریانی پھیل جائے۔ دشمن اربوں کھربوں ڈالر خرچ کرکے نئے آلات کے ذریعے مسلمانوں کے عقائد و افکار کی تبدیلی کے لیے محنت کرتاہے؛ اس کی کوشش ہے مسلمان اپنے دین سے دور ہوجائیں۔ اسلام طہارت و پاکیزگی اور عفت کا دین ہے، مگر دشمن اخلاقی بے راہ روی اور آلودگی و خباثت کی اشاعت و پھیلاو کے لیے دن رات محنت کررہاہے۔

انہوں نے مزیدکہا: سوال یہ ہے امریکا کیوں لاکھوں ڈالر افغانستان میں خرچ کرتاآرہاہے؟ واضح ہے امریکیوں کا مقصد افغانستان کی ترقی نہیں ہے بلکہ وہ بے حیایی اور فساد کی ترویج کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں مسلم خواتین انہی کی خواتین کی طرح حجاب اور پردے کی نعمت سے محروم ہوجائیں ۔ ان کی خیرخواہی یہی ہے کہ مسلمان ان کے نقش قدم پر چلیں؛ لیکن مسلم خواتین کی عزت اور قدر ان کے حجاب و پردے میں ہے۔ اسلام اور مسلمانوںکے دشمن اپنے ڈالروں کے زور پر خاندانی نظام تباہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ میاں بیوی کے تعلقات خراب ہوجائیں اور مرد وخواتین اپنے جنس مخالف سے ناجائز تعلقات پر آمادہ ہوجائیں۔ بدکاری و عریانی کی اشاعت کے لیے وہ ہر ممکن کوشش سے دریغ نہیں کرتے۔

خواتین کی جگہ پولیس اور فوج نہیں!
ممتاز سنی عالم دین نے اسلام دشمنوں کی شہوت پرستی اور خواتین کے جنسی استحصال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: مختلف ملکوں کی بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین کے ہاتھوں بندوق تھمادیاگیا اور انہیں جنگ و جدل کے میدانوں میں اتارا گیا۔ خواتین جو جیولری کے ساتھ نشوونما پاتی ہیں وہ ہرگز میدان جنگ میں کوئی کارنامہ نہیں دکھاسکتیں۔ لیکن دشمنوں نے اپنی جنسی تسکین اور شہوت پرستی کی خاطر خواتین کو پولیس اور فوجی اداروںمیں داخل کرایا۔ دشمن کا واحد مقصد اپنی لذتوں کا حصول ہے۔

انہوں نے مزیدکہا: جہاد کی تمام تر اہمیت اور فضائل کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز خواتین کو براہ راست میدان جہاد میں کودنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں اسلحہ نہیں دیاگیا۔ خواتین صرف بعض مخصوص حالات میں دشمن سے لڑسکتی ہیں جب مرد دفاع کے لیے کافی نہ ہوں یا دشمن براہ راست خواتین کو نشانہ بنائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’عمرہ‘ کو خواتین کا جہاد قرار دیاہے۔ البتہ عوامی مقامات پر خواتین پردے اور شرعی حجاب کے ساتھ باہر نکل سکتی ہیں لیکن میک اپ اور پردے کے بغیر نامحرم مردوں کے سامنے ظاہر ہونا ان کے لیے حرام اور ناجائز ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے حقیقی کامیابی کو قرآن وسنت کی پیروی قرار دیتے ہوئے کہا: زندگی کی حقیقی لذت اور سعادت اللہ تعالی کے احکام کے بجالانے میں ہے۔ اللہ جل جلالہ کے احکام ماننے اور سنتوں کی اتباع سے جو سکون ملتاہے وہ کسی بھی چیز میں نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے جنت اور جہنم دونوں کے راستوں کو ہمارے سامنے رکھاہے، اب ہمیں انتخاب کرناہے کہ کس رستے پر چلیں۔

مولانا نے حاضرین کو دعوت دی اللہ کی طرف لوٹ جائیں اور قرآن پاک اور نماز و ذکر سے دشمن کے حیلوں سے اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔ دین مسلمانوں کے لیے قلعہ ہے اور اس کی برکت سے کوئی بھی شخص انہیں کوئی گزند نہیں پہنچاسکتا۔