انھوں نے کل اسلام آباد میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی سے گفتگو کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں اغیار کا وجود جائز نہیں ہے اور اس ملک سے ان غیر ملکیوں کو نکال باہر کرنے کیلئے، کوششیں کئے جانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام، پاکستان کے سیاسی و مذہبی حکام کی نظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے اور وہ پاکستان و افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے عمل میں لائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں پاکستان کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم محمد نواز شریف اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ہے۔
ایران اردو ریڈیو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…