انھوں نے کل اسلام آباد میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی سے گفتگو کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں اغیار کا وجود جائز نہیں ہے اور اس ملک سے ان غیر ملکیوں کو نکال باہر کرنے کیلئے، کوششیں کئے جانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام، پاکستان کے سیاسی و مذہبی حکام کی نظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے اور وہ پاکستان و افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے عمل میں لائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں پاکستان کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم محمد نواز شریف اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ہے۔
ایران اردو ریڈیو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…