انھوں نے کل اسلام آباد میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی سے گفتگو کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں اغیار کا وجود جائز نہیں ہے اور اس ملک سے ان غیر ملکیوں کو نکال باہر کرنے کیلئے، کوششیں کئے جانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام، پاکستان کے سیاسی و مذہبی حکام کی نظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے اور وہ پاکستان و افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے عمل میں لائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں پاکستان کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم محمد نواز شریف اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ہے۔
ایران اردو ریڈیو
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید