- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قیام عدل وانصاف کیلیے تھا حکومت کیلیے نہیں!

اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے واقعہ کربلا کو ’انتہائی ناگوار اور المناک‘ حادثہ یاد کرتے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قیام کے مقصد کو انصاف کی فراہمی قرار دیا۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے اکتیس اکتوبر دوہزار چودہ (۶ محرم الحرام) کے بیان میں عاشورا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ایام کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا: امام حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے اور آپ ؓ تمام مسلمانوں کے لیے نمونہ اور قابل تقلید ہیں۔ آپ سے عقیدت و محبت تمام مسلمانوں کے عقائد کا حصہ ہے۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے حضرت امام حسین کے قیام کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے دور میں حکومت یزید کے ہاتھ میں آگئی تھی جس نے حکومت کے لیے اپنی نالائقی سب کو دکھادی تھی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو محسوس ہوا کہ قرآن وسنت اور اسلام و مسلمان خطرے میں ہیں۔ انہیں محسوس ہوا حکومت کسی خاص خاندان کے ہاتھوں یرغمال ہورہی ہے اور اس طرح نااہل لوگ حکومت پر قابض ہوجائیں گے۔ جب حسین رضی اللہ عنہ نے دیکھا انصاف کا جنازہ نکل رہاہے اور بیت المال ذاتی مفادات پر خرچ ہورہاہے، تو انہوں نے قیام کیا۔

انہوں نے مزیدکہا: حضرت حسین سمیت تمام اہل بیت نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ وہ طاقت اور حکومت کے پیاسے نہیں ہیں۔ وہ ہرگز اپنے ذاتی مفادات یقینی بنانے کے درپے نہیں تھے۔ ان کا واحد مقصد یہی تھا کہ انصاف سب کو مل جائے اور مظلوم لوگ اپنے حقوق حاصل کریں۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے واقعہ کربلا کو ایک ناگوار حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا: اگر واقعہ کربلا کو مختلف پہلووں سے تجزیہ کیاجائے تو واضح ہوگا اسلام سے پہلے اور بعد اس جیسے ناگوار اور المناک واقعات بہت کم رونما ہوئے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے بعض مسلمان نما لوگ طاقت اور دنیا کے ناچیز مفادات کی خاطر ہرقسم کے جرائم اور مظالم کا مرتکب ہوتے ہیں۔

انہوںنے مزیدکہا: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قیام سے جو سبق ہمیں ملتاہے وہ یہ ہے کہ ظالم اور آمر حکام کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرنا چاہیے۔ آپؓ نے عدل کی خاطر نادان لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائی جو حرف حق سننے کے لیے تیار نہ تھے۔ آپ کا مقصد حقوق الناس کی حفاظت تھا۔ آپ نے دنیا والوں کو شجاعت وبہادری کا سبق دیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یہ بہادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ سے وراثت میں ملی تھی۔ آپ نے ذلت اور اسارت کے بجائے حق کی راہ میں شہادت کو ترجیح دی۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت سے نہ صرف تمام مسلمان بلکہ آزادخیال غیرمسلم بھی غمزدہ اور افسردہ ہیں۔ لیکن ہرکوئی اپنے غم ورنج کا اظہار اپنے طرز پر کرتاہے۔ اگر ہم اہل سنت کالے لباس نہیں پہنتے اور عزاداری کے لیے جلوس نہیں نکالتے ہیں، تو اس کی وجہ ہماری فقہ اور مذہبی مسائل ہیں۔ ہم اپنے ہی خونی رشتہ داروں کی موت پر کالا نہیں پہنتے اور صرف تین دنوں تک عزا کرسکتے ہیں۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت کی اتباع پر تاکید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: سب سے اہم نکتہ ہمارے لیے اس دور میں امام حسین کی سیرت کی پیروی ہے؛ ہم ان کی سیرت اور اخلاق کی اتباع کرکے ان کی روح کو خوش کرسکتے ہیں۔ اگر صرف محرم میں ان کی خوبیوں کو گناکر ان کا تذکرہ کیاجائے اور باقی مہینوں میں انہیں اور ان کی سیرت کو پس پشت ڈال دیاجائے، تو یہ ہرگز ان سے محبت و عقیدت کی نشانی نہیں ہے۔ ہمیں ہمیشہ ان کی یاد تازہ کرنی چاہیے اور ان کے تقوا، توکل اور بہادری سے سبق لینا چاہیے۔

انہوںنے مزیدکہا: ہم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے افسردہ وغمزدہ ہیں۔ اگر ہم میدان کربلا میں ہوتے اور لائق ہوتے تو ضرور حضرت حسین کے دفاع میں اپنی جان لگادیتے اور ان کی حمایت کرلیتے۔ جو امام حسین کے خلاف کھڑے ہوئے تھے ہم انہیں باطل سمجھتے ہیں۔

واقعہ کربلا کو بیان کرنے والے ذاکرین و خطبا دیگر مسلمانوں کی مقدسات کی توہین نہ کریں
خطیب اہل سنت زاہدان نے تمام مسلم فرقوں کی مقدس شخصیات و مقامات کے احترام و عزت پر زور دیتے ہوئے کہا: افسوس کا مقام ہے بعض اوقات کچھ نادان لوگوں کی بداخلاقی وتشددپسندی یا دشمنان اسلام کی سازشوں کی وجہ سے فرقہ وارانہ مسائل پیش آتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو چاہیے ایک دوسرے کی مقدسات کا احترام کریں۔ اتحاد کا تقاضا ہے مشترکہ مسائل پر بات کی جائے اور اختلافی مسائل کو اہل مسلک کے لیے چھوڑدیاجائے۔ فرقہ واریت کسی بھی قوم کے لیے عار اور بدنامی کا باعث ہے۔

انہوںنے مزیدکہا: جو ذاکرین اور خطیب حضرات ان دنوں میں واقعہ کربلا کی تشریح کرتے ہیں یا مجالس عزا بپا کرتے ہیں، خیال رکھیں کہیں کسی دوسرے فرقے کی مقدسات کی توہین ان سے سرزد نہ ہو۔ اس سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

سیستان بلوچستان کے مسائل کو مبالغہ آرائی سے پیش کرنا ملکی مفادات کو نقصان پہنچتاہے
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں صوبہ سیستان بلوچستان میں انتہاپسند حکومت نوازعناصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا: گزشتہ دنوںمیں ایک (شیعہ) ٹیچر ضلع قصرقند میں قتل ہوا۔ ہم نے اس واقعے کی مذمت کی۔ مگر اس کے باوجود بعض لوگوں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صوبے کو بدامن دکھانے کی کوشش کی۔ ایسے مسائل پر مبالغہ آرائی سے کام لینا ملکی مفادات کے خلاف ہے اور اعلی حکام بھی ایسے رویوںکی تردید کرچکے ہیں۔

انہوںنے مزیدکہا: اس واقعے سے پہلے ایک بلوچ شہری بہرام باشندہ بھی قتل ہوئے جو ایرانشہر کے کمشنر ہاوس کے ملازم تھے اور صوبے کے مفید لوگوںمیں شمار ہوتے تھے۔ لیکن ہم نے کسی کو شورشرابے کرنے کی اجازت نہیں دی۔ لہذا سب کو احتیاط کرنا چاہیے؛ کہیں کسی کے کردار یا باتوں کی وجہ سے مسائل زیادہ گھمبیر نہ ہوجائیں۔ ہمارا خیال ہے اس طرح کے واقعات بڑے صوبوں میں رونما ہوتے ہیں اور ان کا حل قانونی اور جائز طریقوں سے ڈھونڈنا چاہیے۔ کسی کو ایسے مسائل سے اپنی دوکانداری چمکانے اور ذاتی مفادات یقینی کرنے کی اجازت نہیں ہے؛ اس سے پورے ملک اور صوبے کے عوام کو نقصان پہنچے گا۔

اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایرانی پارلیمنٹ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے کہا: مجلس شورای اسلامی کو چاہیے جماعتی رجحانات سے بالاتر ہوکر حکومت کے ساتھ تعاون کرے۔ حکومت اور مجلس کے ممبران سب عوام کے ووٹ سے اپنی کرسیوں پر ہیں، لہذا انہیں عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کام کرنا چاہیے۔

خواتین پر تیزاب پھینکا غیراسلامی اور انتہاپسندوں کا کام ہے
ایران کے شہر اصفہان میں بعض خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے اس واقعے کو انتہاپسندوں کا کام قرار دیا۔ انہوں نے کہا: اصفہان میں تیزاب حملہ قابل مذمت اور غیراسلامی حرکت ہے۔ ایسے انتہاپسندوں کا راستہ روکنا چاہیے جو اپنی حرکتوں سے مہذب ایرانی قوم کو دنیا میں بدنام کررہے ہیں۔