شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتب کے تربیت یافتہ شاگرد اور محبوب قرار دیتے ہوئے حضرت عمرفاروق اور عثمانی غنی رضی اللہ عنہما کے بعض فضائل کا تذکرہ کیا۔
چوبیس اکتوبیر دوہزار چودہ میں زاہدان کی مرکزی نمازِجمعہ سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطاب کا آغاز سورت العصر کی تلاوت سے کیا۔ انہوں نے کہا: ان ایام میں اسلامی تاریخ کے بعض اہم واقعات رونما ہوئے ہیں؛ اٹھارہ ذوالحجہ میں شہید مظلوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بے دردی سے شہید کردیے گئے وہ بھی اہل خانہ کی آنکھوں کے سامنے اور جب آپ خلیفة المسلمین تھے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا: یکم محرم الحرام میں شہیدمحراب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک سانحہ پیش آیا۔ جبکہ دس محرم الحرام کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت ہے؛ صحرائے کربلا میں آپ ساتھیوںسمیت انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید ہوگئے۔ یہ تمام اکابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور محبوب تھے جن کی تربیت مکتب نبوی میں ہوئی تھی۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے دامادِرسول حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے بعد پہلے شخص ہیں جنہوں نے راہ اسلام میں اپنی بیوی کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم فرمایا. اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے ۔لوگوں نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔جب سب لوگ بیعت کر چکے تو رسول مقبول ﷺ نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا : جنگ تبوک کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا جبکہ مدینہ منورہ میں سخت قحط پڑا ہوا تھا اور عام مسلمان بہت زیادہ تنگی میں تھے۔ اسی لئے اس جنگ کے لشکر کو جیش عُسرہ کہا جاتا ہے یعنی تنگدستی کا لشکر ۔ حضرت عبد الرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر تھا جب آپ جیش عُسرہ کی مدد کے لئے لوگوں کو جوش دلا رہے تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آپ کے پر جوش لفظ سن کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!(ﷺ)میں سواونٹ پالان اور سامان کے ساتھ اللہ کی راہ میں پیش کروں گا۔اس کے بعد پھر حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سامان لشکر کے بارے میں ترغیب دی اور امداد کے لئے متوجہ فرمایا ۔تو پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں دو سو اونٹ مع سازو سامان اللہ تعالیٰ کے راستہ میں نذر کروں گا۔ اس کے بعد پھر رسول کریم ﷺ نے سامان جنگ درستگی اور فراہمی کی طرف مسلمانوں کو رغبت دلائی۔ پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں تین سو اونٹ پالان اور سامان کے ساتھ خدا ئے تعالیٰ کی راہ میں حاضر کروں گا ۔ غزوہ تبوک کے موقع پر آپ نے جس ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا اس سے خوش ہو کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”آج کے بعد عثمان جو کام بھی کریں گے ، وہ ان کو نقصان نہ دے گا۔“
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: آنحضرت ﷺ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت کا نتیجہ تھا کہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد آپ نے اپنی دوسری لخت جگر حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی آپ سے کر دیااور جب حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہو گیا ،آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا:”اگر ہماری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو ہم آپ کو بیاہ دیتے۔“
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: سرورِکونین صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ پر مکمل اعتماد تھا۔ واقعہ ہجرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کے سپرد میں تمام لوگوں کی امانتیں چھوڑکر مدینہ کی جانب تشریف لے گئے۔ جب سفر ہجرت پر چلے تو علی ہی ان کے بستر پر تھے اورحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ دے رہے تھے۔ یہ سب کچھ آپ ﷺ کے اعتماد کی نشانیاں ہیں۔
اللہ تعالی نے حضرت عمرفاروق کے ایمان لانے سے اسلام کو تقویت پہنچائی
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل پر روشنی ڈالتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” تم سے سابقہ قوموں میں صاحبِ الہام یا صحیح گمان رکھنے والے لوگ ہوا کرتے تھے، پس اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہے تو وہ عمر ہیں۔ ” آپ رضی اللہ عنہ کو اس لیے بھی فضیلت حاصل ہے کہ آپ کی ہدایت کے لیے رسول اکرم ﷺ نے خود خاص الخاص دعا فرمائی کہ دونوں عمر (ابوجہل اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ)میں سے ایک کو ہدایت دے اور آپ کے حق میں اللہ نے دعا قبول کی اور آپ کو مشرف بہ اسلام کیا ۔ ابن مسعود روایت کرتے کہ آپ کا اسلام لانا تھا کہ اس کے بعد اسلام عزت ہی پاتا گیا۔ گویا کہ آپ کا اسلام فتح تھی آپ کی ہجرت نصرت تھی اور آپ کی امامت رحمت۔ عبداللہ بن عمر نے رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا میں نے خواب میں دودھ پیا، اتنا کہ میں دودھ کی تازگی دیکھنے لگا جو میرے ناخن یا ناخنوں پہ بہ رہی ہے۔پھر میں نے پیالہ عمر کو دے دیا’. صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کی تعبیر علم ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو قمیص پہنے ہوئے تھ.ے ان میں سے بعض کی قمیص صرف سینے تک تھی اور بعض کی اس سے بھی چھوٹی. اور میرے سامنے عمر پیش کئے گئے تو وہ اتنی بڑی قمیص پہنے ہوئے تھے کہ چلتے ہوئے گھسٹتی تھی ، صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی تعبیر کیا لی ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین مراد ہے۔
خلیفہ ثانی کے اسلام لانے کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے سے پہلے مسلمان کھل کر کعبہ کا طواف نہیں کرسکتے تھے، عام جگہوں پر جماعت کے ساتھ نماز ادا نہیں کرسکتے تھے اور دعوت کا کام بھی خفیہ طور پر جاری تھا۔ لیکن جب حضرت عمر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو حضرت ارقم کے گھر سے ایک ایسی تکبیر کی آواز اٹھی جس سے مکہ کے پہاڑ گونج اٹھے اور اس کے بعدمسلمان کھلے عام مسجدالحرام میں داخل ہوکر نماز پڑھنے لگے اور دعوت اسلام کا کام علانیہ ہوگیا۔
دنیا میں صحابہ کرام کی بے رغبتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دنیا میں کوئی رغبت نہ تھی، یہاں تک دوران خلافت ایک مرتبہ ان کے کپڑوں کے پیوندوں کی گنتی ہوئی تو سترہ جوڑے اور پیوند لگے ہوئےتھے۔ یہی حال حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تھا؛ خلافت سے پہلے اور بعد ان حضرات نے دنیا میں کوئی رغبت نہ دکھائی۔ خلافت اور حکمرانی میں بھی انہیں کوئی شوق نہ تھا۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ فرماتے تھے اگر انصاف کی فراہمی اور ظالم سے مظلوم کے حق لینے کی ذمہ داری نہ ہوتی تو میں ضرور خلافت چھوڑدیتا۔
اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے گفتگو سمیٹے ہوئے کہا: صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تربیت دربار رسالت میں ہوئی تھی اور اسی لیے ان عظیم ہستیوں نے اسلام کی خاطر اپنی جان ومال لگادی۔آج ہم ان کے فضائل کا تذکرہ کرکے ان کی پیروی کے لیے کوشش کریں گے اور ایک مسلمان کا کام یہی ہونا چاہیے۔
اہل قلم کو قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں ایرانی بلوچستان میں ایک سکول ٹیچر کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل قلم کے قتل کو سنگین جرم اور ظلم قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ میں ضلع قصرقند میں ایک سکول ٹیچر کے قتل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: قصرقند میں ایک معلم اور اسکول ٹیچر کا قتل افسوسناک ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ کسی بھی نہتے اور معصوم شخص کا قتل بڑا گناہ ہے مگر اہل قلم کا قتل بہت بڑا ظلم ہے جن کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں بلکہ صرف قلم ہے۔ جن لوگوں سے یہ حرکت سرزد ہوئی ہے ہمارے لوگ ہرگز انہیں معاف نہیں کریں گے۔ ہمارے عوام کے لیے بدامنی ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: الحمدللہ ہمارا صوبہ درست سمت کی طرف رواں دواں ہے اور موجودہ مرکزی وصوبائی حکام کی تدبیر اور محنت سے ہم خوشحالی وترقی کا سفر تیزی سے طے کررہے ہیں۔ ایسے میں بدامنی و انارکی پھیلانے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔ لہذا جو لوگ صوبے سے باہرہیں، انہیں کسی کے بہکاوے میں آکر اپنے لوگوں کا مستقبل برباد نہیں کرنا چاہیے۔ مسائل ومشکلات کے حل کے لیے قانونی اور جائز راستوں کا انتخاب کرکے مذاکرات و بات چیت سے کام لینا چاہیے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے سیستان بلوچستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا: کچھ فرقہ پرست عناصر صوبے میں فرقہ واریت کی ترویج اور فروغ کی تلاش میں ہیں مگر ہم ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ ہم پرامن طریقے سے مختلف مسالک وقومیتوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ؛ ان برادریوں میں کوئی چپقلش نہیں ہونی چاہیے۔
امید ہے مسلمانوں کے لیے نیا اسلامی سال توفیق وعمل اور صلح کا سال ہو
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطاب میں محرم الحرام کی آمد اور نئے اسلامی سال کے آغاز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں صحابہ کرام نے مسلمانوں کی اپنی تاریخ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔مختلف اہم واقعات پر مشورت اور غوروخوض کے بعد فیصلہ ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے مدینہ ہجرت کا واقعہ اسلام کی تاریخ میں سب سے اہم واقعہ ہے، چنانچہ اسی سال کو محرم کے مہینے سے اسلامی تاریخ کا نقطہ آغاز قرار دیا گیا۔
مولاناعبدالحمید نے امید ظاہرکی نیا سال مسلمانوں کے لیے توفیق و عمل اور امن وصلح کا سال ہو اور مختلف گروہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متحد و متفق ہوجائیں۔
اپنے بیان کے آخر میں مولانا نے دارالعلوم زاہدان کے سینئر استاذالحدیث و مفتی مولانا محمدقاسم قاسمی کے سسر اور ماموں کے انتقال پررنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مکمل مغفرت اور پس ماندگان کے اجر وصبر کے لیے دعا مانگی۔ انہوں نے ایران کی اعلی مجلس ماہرین کے چیئرمین آیت اللہ مہدوی کنی کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہل خانہ اور متعلقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔