- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اسلام میں مسئلہ غلامی کی حقیقت

حق جل شانہ نے جو عزت اور کرامت انسان کو عطا فرمائی ہے وہ کسی مخلوق کو نہیں دی، اپنی خاص صفات کمالیہ، علم و قدرت، سمع و بصر، تکلم و ارادہ کا مظہر اور تجلی گاہ بنایا،

اپنی خلافت سے سرفراز فرمایا مسجود ملائکہ بنایا، تمام مخلوق پر اس کو فضیلت دی حتی کہ ابلیس لعین یہ بول اُٹھا ’’ھذا الذی کرمت علی‘‘۔ تمام کائنات کو اس کے لیے پیدا کیا اور اس کو اپنی عبادت اور عبودیت کے لیے بنایا، اس کو وہ حریت اور آزادی عطا فرمائی کہ تمام روئے زمین اس کی مِلک اور تصرف میں دی، کما قال تعالی ’’خلق لکم ما فی الارض جمیعا‘‘ لیکن جب اس نادان انسان نے اپنے خالق اور پروردگار کے واجب الاطاعت ہونے ہی سے انکار کردیا اور خداوند ذوالجلال سے بغاوت (کفر) کی ٹھان لی اور انبیاء و مرسلین سے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے میدان میں نکل آیا تو ساری کرامتیں اور عزتیں خاک میں مل گئیں اور وہ حریت و آزادی جو اس کو عطا کی گئی تھی وہ یکلخت سلب کرلی گئی اور حق جل و علا نے اس باغی اور سرکش انسان کو اپنے اُن عباد صالحین کا (جنہوں نے اس کا بول بالا کرنے کے لیے جان کی بازی اور سرفروشی کی) عبد اور مملوک بنادیا اور ان کو یہ اجازت دی کہ بہائم اور اموال مملوکہ کی طرح جس طرح چاہو اس کی خرید و فروخت کرو، تم کو اس کی بیع و شراء ہبہ اور رہن کا کلی اختیار ہے، اور یہ تمہاری بغیر اجازت کے کوئی تصرف نہیں کرسکتا، جرم کی سزا اس نوعیت کے لحاظ سے ہوتی ہے جس درجہ کا جرم ہوگا، اسی درجی کی سزا ہوگی۔ چوری اور زنا کے مجرم چند روز سزا پانے کے بعد رہا کردیئے جاتے ہیں کیونکہ یہ جرم رعیت کے مقابلے میں ہے، لیکن بغاوت کا جرم معاف نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہ حکومت کے مقابلہ میں ہے اور حکومت سے انحراف اور سرتابی ہے۔
کیونکہ کافر و منکر اصولی طور پر خدا تعالی کو واجب الاطاعت اور اس کے بھیجے ہوئے قانون کو واجب العمل نہیں سمجھتا، اور نہ اپنے کو خداوند ذوالجلال کی مرضی کا پابند خیال کرتا ہے، اس لئے یہ شخص کا باغی ہے، اگر چہ فطری یا عقلی یا اخلاقی طور پر اس سے ایسے ہی اعمال صادر ہوتے ہوں کہ جو شریعت کے مطابق ہوں کیونکہ یہ اطاعت اور مطابعت نہیں، بلکہ محض صورۃ تو اُفق اور موافقت ہے اصولی طور پر تو مخالفت اور باغی ہی ہے اور ظاہر ہے کہ اصولی مخالفت، کلی نافرمانی اور اعتقادی انحراف کے ہوتے ہوئے جزئی اور ظاہری موافقت کیا معتبر ہوسکتی ہے اس لئے بغیر ایمان اور تسلیم کے مغفرت ناممکن ہے اور تمام اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ بغیر ایمان کے ہیچ ہیں، بخلاف مؤمن فاسق کے کہ اس کی مخالفت جزئی ہے، وہ اصولی طور پر خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو واجب الاطاعت سمجھتا ہے، جب کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو بارگاہ ربوبیت میں رجوع ہو کر بصد عجز و نیاز اور بہزار خجالت و ندامت عفو تقصیر کی درخواست کرتا ہے، اسی وجہ سے قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۱ میں ارشاد باری تعالی ہے جس کا ترجمہ ہے:
’’اور ایک غلام مسلمان آزاد کافر سے کہیں بہتر ہے اگر چہ وہ تم کو پسند آئے، کیونکہ یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔‘‘

جان نثار اور وفادار کو باغی اور غدار کے برابر کردینا عقل و فطرت اور قوانین سلطنت میں صریح ظلم ہے، وہ کونسی متمدن حکومت ہے کہ جس کے قانون میں فرمانبردار اور مجرم تمام احکام میں مساوی ہوں۔
تمام متمدن حکومتوں میں باغیوں اور پولیٹکل مجرموں کی سزا چوروں، بدمعاشوں، دھوکہ بازوں اور جعل سازوں سے کہیں زیادہ ہے، جس پر بغاوت اور سازش کا جرم ہو، اس کی سزا بجز سزائے موت یا عمر بھر کی جلائے وطنی کے اور کچھ نہیں ہوتی اگر چہ مادہ تمرد و عصیاں اور سرکشی کا دونوں مجرموں میں ہے، مگر چوروں اور بدمعاشوں کا تمرد رعیت کے کسی ایک یا چند افراد کے مقابلہ میں ہوتا ہے، باغیوں اور پولیٹکل مجرموں کا تمرد اور عصیان سلطان وقت، حکومت اور قانون حکومت کے مقابلہ میں ہوتا ہے، وہ یہ چاہتا ہے کہ یہ حکومت ہی مٹ جائے۔ اور تمام متمدن حکومتوں کی نظر میں بغاوت سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں، چوری اور بدکاری کا جرم بغاوت کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا، حکومتوں کا مسلّمہ قانون ہے کہ جو شخص بغاوت کرے تو اس کی تمام فطری آزادی یکلخت سلب ہوجاتی ہے اور مال و جائیداد سب ضبط ہوجاتی ہے اور حقیر و ذلیل چوپایوں کا سا معاملہ اس کے ساتھ کیا جاتا ہے، اگر چہ یہ پولیٹکل مجرم کتنا ہی لائق اور عاقل اور فاضل کیوں نہ ہو اور عجب نہیں کہ یہ مجرم عقل، فہم اور تعلیم میں صدر جمہوریہ سے بھی بڑھ کر ہو، پس جبکہ خالی اور مجازی حکومتوں کو اپنے باغیوں کی آزادی سلب کرنے کا اختیار ہے تو اس خداوند ذوالجلال کو (جس نے ان باغیوں کو وجود، حیات اور عقل و فہم کی دولت عطا کی ہے) یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے باغیوں (کافروں) سے اپنی دی ہوئی آزادی سلب کرسکے۔
چونکہ غلامی خداوند ذوالجلال سے بغاوت یعنی کفر کی سزا ہے اس لئے اس مسئلہ کا ذکر توریت اور انجیل میں بھی پایا جاتا ہے، بلکہ کوئی ملت اور مذہب ایسا نہیں کہ جس میں غلامی کا مسئلہ نہ ہو، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ استرقاق اور غلامی کا مسئلہ تمام ادیان اور ملل کا اجماعی اور اتفاقی مسئلہ ہے۔
استقراق اگر قبیح لذاتہ ہوتا تو کسی شریعت میں جائز نہ ہوتا، توریت و انجیل سے ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء و مرسلین اس کو جائز رکھتے آئے ہیں۔ معاذاللہ اگر استرقاق قبیح لذاتہ تھایا کوئی وحشیانہ رسم تھی یا کوئی شرمناک فعل تھا تو حضرات انبیاء علیہم السلام نے اس کو کیسے جائز رکھا، کیا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو اس کا علم نہ تھا کہ استرقاق قبیح لذاتہ ہے اور قانون فطرت کے خلاف ہے۔ ماریہ قبطنہ بطور کنیز آپ کے فراز میں تھیں جن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدۃ العمر اس قبیح ذاتی کے مرتکب رہے اور معاذاللہ قانون فطرت کے خلاف کرتے رہے اور اگر بفرضِ محال حضرات انبیاء سے اس بارے میں کوئی اجتہادی غلطی ہوگئی تھی تو پھر سوال یہ ہے کہ اس علیم و قدیر نے بذریعہ وحی کے اس غلطی پر کیوں نہ متنبہ کیا۔
اسلام سے پیشتر کوئی قوم ایسی نہ تھی کہ جس میں غلامی کا رواج نہ ہو، اسلام آیا اس نے فقط غلامی کو جائز رکھا، لیکن ان تما حیاء سوز اور خلاف انسانیت امور کو جو غلاموں کے ساتھ برتے جاتے تھے یکلخت بند کردیا، ان کے اور ان کے آقاؤں کے حقوق متعین کے طرح طرح سے ان کے آزاد کرنے کی راہیں بتلائیں جو کتب حدیث و فقہ میں بہ تفصیل مذکور ہیں۔
ہاں اسلام نے غلامی کو بالکلیہ ختم نہیں کردیا کیونکہ وہ خداوند ذوالجلال سے بغاوت یعنی کفر کی سزا ہے۔ جب تک اس عالم میں کفر و شرک باقی ہے اس وقت تک استرقاق اور غلامی بھی باقی ہے اور رہنی بھی چاہئے، جب جرم موجود ہے تو سزا کیوں نہ ہو، شریعت نے اصل غلامی کو برقرار رکھا اور اس کے مفاسد کی اصلاح کردی، اس میں شک نہیں کہ غلامی بہت بڑی ذلت ہے، لیکن کفر و شرک کی ذلت اس سے کہیں زائد ہے، ہر جرم کا قبح اور اس کی برائی محدود ہے مگر خداوند ذوالجلال سے بغاوت اور سرتابی کے قبح اور برائی کی کوئی حد نہیں یہی وجہ ہے کہ کفر کی سزا دائمی سزا اور ایمان کی جزاء دائمی ثواب مقرر ہوئی، کیونکہ کفر کی قبح اور برائی کی اور ایمان کے حسن اور خوبی کی کوئی حد اور نہایت نہیں، اور اسلام کا مقصد ہی کفر کو ذلیل کرنا ہے، چوری اور بدکاری کا منشاء حرص اور شہوت ہے اور خداوند ذوالجلال سے بغاوت کا منشاء اباء اور استکبار یعنی تکبیر اور نخوت ہے، اس لئے اول الذکر جرائم کی سزا ان کے مناسب تجویز کی گئی اور جس جرم کا منشاء تکبر اور نخوت تھا اس کی سزا ذلت یعنی غلامی سے تجویز کی گئی۔ جن لوگوں نے اللہ اور کے رسول کی اطاعت کو تسلیم کیا اور اس کی راہ میں جانبازی و سرفروشی دکھلائی، حق جل وعلا نے ان کی عزت افزائی فرمائی کہ اُن کو ان متکبرین اور باغیوں کا مالک اور آقا بنادیا۔
جو شخص اس عالم میں خیر و شر، ایمان و کفر، نیک و بد، مؤمن و کافر کی تقسیم کا قائل ہے اس کے لئے اس مسئلہ میں کوئی اشکال نہیں، اور جو شخص سرے سے خیر و شر اور نیک و بد کی تقسیم ہی کا قائل نہیں اس سے ہمارا کوئی خطاب نہیں وہ انسان نہیں بلکہ حیوانِ مطلق ہے۔
قرآن کریم میں ’’ما مَلَکَت اَیْمَانَکُم‘‘ کا لفظ پندرہ جگہ آیا ہے اور گناہوں کے کفارہ میں غلام کے آزاد کرنے کا حکم بھی قرآن کریم میں صراحۃ مذکور ہے اور اسی طرح غلاموں کو مکاتب بنانے کا حکم بھی قرآن کریم میں صراحۃ مذکور ہے، اس قسم کی تمام آیات سے غلامی کا ثبوت اس درجہ واضح ہے کہ کسی بینا اور شنوا کے لئے تو مجال انکار نہیں، اور حدیث میں ہے ’’المکاتب عبد ما بقی علیہ درھم مکاتب‘‘ غلام ہے جب تک اس پر ایک درہم بھی باقی رہے، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جب بنی قریظہ کے بارے میں حکم دیا کہ ’’تقتل مقاتلھم و تسبی ذریتھم‘‘ کہ ان کے لڑنے والے جو ان تو قتل کئے جائیں اور ان کی ذریت غلام بنالی جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ’’قضیت بحکم اللہ‘‘ اے سعد! تو نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا اور غزوہ اوطاس کے استرقاق کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ’’والمُحصنت من النساء الا ما ملکت ایمانکم‘‘ کہ قرآن و حدیث سے غلامی کا ثبوت اظہر من الشمس ہے۔

دین اسلام ویب سائٹ