- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کے زمانہ نزول کے تعین کا مسئلہ

شان نزول کی روایات اور سورتوں کی اندرونی شہادتیں
کتب تفاسیر میں بعض اوقات ایک ہی سورت کے متعلق شان نزول کی بہت سی روایات مل جاتی ہیں۔

بعض اوقات ایک ہی آیت کے گئی اسباب نزول ذکر کیے جاتے ہیں۔ کبھی آیات کے مضامین کی اندرونی شہادت یہ ہوتی ہے کہ ان کا نزول مکہ میں ہوا تھا، لیکن شان نزول کی روایت میں مدنی دور کا واقعہ ذکر ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات سورت کے نظم کی گواہی یہ ہوتی ہے کہ پوری سورت بیک وقت نال ہوئی مگر روایات میں بعض آیات کا الگ الگ شان نزول ذکر ہوتا ہے۔ اس قسم کی الجھنوں کے حل کے لیے امام الہند شاہ ولی اللہ نے جو تحقیق اپنے رسالے ’’الفوز الکبیر فی علوم التفسیر‘‘ میں پیش کی ہے، اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
صحابہ کرام اور دیگر متقد میں علما جب ’نزلت فی کذا‘ اور اس قسم کی دیگر تراکیب استعمال کرتے تھے تو ان کا یہ مطلب نہیں ہوتا تھا کہ بعینہ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب بنا جو اس روایت میں بیان ہوا، بلکہ بعض اوقات ان کی مراد یہ ہوتی تھی کہ عہد نبوی یا اس کے بعد کا یہ واقعہ بھی اس آیت کا مصداق ہے۔ کبھی صحابہ کوئی سوال کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی سے نازل شدہ کسی آیت سے اس کا حکم مستنبط کرکے بیان فرمادیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استنباط بھی دراصل وحی، القا اور نفث فی الروع کی قسم ہوتی، اس لیے اس طرح کے موقع پر ’فانزل اللہ تعالی قولہ‘ کے الفاظ کا استعمال جائز ہوتا۔ کبھی صحابہ کرام کی باہمی مباحثوں میں آیات سے استشہاد ہوتا یا بطور تمثیل ان کا ذکر ہوتا۔ اس قسم کی روایات کو بھی مفسرین اسباب نزول میں ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح صحابہ کرام یہود، نصاریٰ، مشرکین اور دوسرے فرق ضالہ کی اعتقادی اور عملی برائیاں بیان کرکے کسی آیت کی تلاوت کرتے اور کہتے کہ ’نزلت فی کذا‘۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا تھا کہ بعینہ یہی اعمال و عقائد ان آیات کے نزول کا سبب بنے، بلکہ ان کا مراد یہ ہوتی تھی کہ اسی قسم کے عقائد اور اعمال کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یہ آیات ان عقائد اور اعمال پر بھی منطبق ہوتی ہیں۔ اسی طرح کبھی قرآن مجید میں اچھے اور برے لوگوں کی صفات بیان کی جاتی ہیں۔ ان صفات کا کسی خاص شخص یا اشخاص سے مخصوص کرنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ عام طور پر جن میں بھی وہ صفات ہوں، وہ ان آیات کے مصداق شمار ہوں گے۔
شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ فی الجملہ مفسر کے لیے دو چیزوں کی معرفت ضروری ہے: ایک وہ واقعات جن کی طرف آیات میں اشارہ ہو کیونکہ ان کے علم کے بغیر آیات کے ایما کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ دوسرے وہ واقعات جن سے عام کی تخصیص ہوتی ہو یا اور کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہو۔ اس مؤخر الذکر اصول کو شاہ ولی اللہ علم توجیہ اور تاویل سے متعلق کردیتے ہیں۔ (1)
شاہ صاحب کی رائے کوئی انوکھی یا منفرد رائے نہیں ہے۔ یہی رائے دیگر محققین علما نے بھی اختیار کی ہے۔ (2) اس اصولی تحقیق کو ماننے کے با وجود مفسرین بالعموم شان نزول کی روایات کو ان کے ظاہری مفہوم کے ساتھ قبول کرکے انہیں سورت کی اندرونی شہادتوں پر فوقیت دیتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض سورتوں کا نزول ٹکڑوں میں ہوا۔ یہ بھی مسلم ہے کہ بعض سورتوں کے چند ٹکڑے ہجرت سے قبل اور چند ٹکڑے ہجرت کے بعد نازل ہوئے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان ٹکڑوں کی پہچان کے لیے سورت کے اندر کوئی نشانی نہیں پائی جاتی۔ نیز ان دونوں حقائق کے ساتھ ساتھ ایک تیسری حقیقت بھی مسلم ہے کہ بہت سی سورتوں کا نزول یک بارگی ہوا ہے۔ پس کسی سورت کی مختلف آیات کے متعلق محض یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ چونکہ بعض سورتیں ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہیں، اس لیے یہ بھی ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہوگی، کیونکہ اس کے جواب میں بالکل برابر کی سطح پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ بعض سورتیں پوری کی پوری بیک وقت نازل ہوئی ہیں، اس لیے یہ سورت بھی یک بارگی ہی نازل ہوئی ہوگی۔ گویا ہر سورت کے متعلق الگ سے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ پوری کی پوری یک بارگی نازل ہوئی یا اس کا نزول ٹکڑوں میں ہوا، اور اگر ٹکڑوں میں ہوا تو ٹکڑے کب نازل ہوئے؟ اس سلسلے میں شان نزول کی روایات سے یقیناًمد دلی جاسکتی ہے، لیکن کیا سورت کی اندرونی شہادتوں مثلا سورت کے نظم اور آیات کے سلسہ بیان کی بھی اس ضمن میں کچھ اہمیت ہے؟ اگر شان نزول کی روایت کی اس طرح تاویل کی جائے گی جس طرح شاہ ولی اللہ اور دیگر محققین نے کی ہے یا شان نزول کی روایت کو قبول کرتے ہوئے سورت کی اندرونی شہادت نظر انداز کی جائے گی، یا اس کی تاویل کی جائے گی؟
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سورت کے زمانہ نزول کے تعین کے لیے شان نزول کی روایات کے علاوہ سورت کی اندرونی شہادتوں کا بھی بعض مقامات پر تجزیہ کرتے ہیں۔ سورۃ ابراہیم کے زمانہ نزول کا تعین کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
’’عام انداز بیان مکی کے آخری دور کی سورتوں کا سا ہے۔ سورہ رعد سے قریب زمانہ ہی کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہے۔ خصوصاً آیت 13 کے الفاظ: [و قال الذین کفرو لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا اور لتعودن فی ملتنا] (انکار کرنے والوں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ یہ تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے) کا صاف اشارہ اس طرف ہے کہ اس وقت مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم انتہا کو پہنچ چکا تھا اور اہل مکہ پچھلی کافر قوموں کی طرح اپنے ہاں کے اہل ایمان کو خارج البلد کردینے پر تل گئے تھے۔ اسی بنا پر ان کو وہ دھمکی سنائی گئی جو ان کے سے رویہ پر چلنے والی پچھلی قوموں کو دی گئی تھی کہ ’’لنھلکن الظالمین‘‘ (ہم ظالموں کو ہلاک کرکے رہیں گے) اور اہل ایمان کو وہی تسلی دی گئی جو ان کے پیش روؤں کو دی جاتی رہی ہے کہ ’’لنسکننکم الارض من بعدھم‘‘ (ہم ان ظالموں کو ختم کرنے کے بعد تم ہی کو اس سرزمین میں آباد کریں گے) اسی طرح آخری رکوع کے تیور بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہ سورہ مکہ کے آخری دور سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘ (3)
بسا اوقات وہ شان نزول کے متعلق مفسرین کے اقوال پر سورت کی اندرونی شہادتوں کو فوقیت دیتے ہیں۔ مثلاً سورۃ العنکبوت کے زمانہ نزول کے متعلق وہ کہتے ہیں:
’’آیات 56 تا 60 سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ باقی مضامین کی اندرونی شہادت بھی اسی کی تائید کرتی ہے، کیونکہ پس منظر میں اسی زمانہ کے حالات جھلکتے نظر آتے ہیں۔ بعض مفسرین نے صرف اس دلیل کی بنا پر کہ اس میں منافقین کا ذکر آیا ہے اور نفاق کا عملی ظہور مدینہ میں ہوا ہے، یہ قیاس قائم کرلیا کہ اس سورہ کی ابتدائی دس آیات مدنی ہیں اور باقی سورہ مکی ہے۔ حالانکہ یہاں جن لوگوں کے نفاق کا ذکر ہے، وہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے ظلم و ستم اور شدید جسمانی اذیتوں کے ڈر سے منافقانہ روش اختیار کررہے تھے، اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ ہی میں ہوسکتا تھا نہ کہ مدینہ میں۔ اسی طرح بعض دوسرے مفسرین نے یہ دیکھ کر کہ اس سورہ میں مسلمانوں کو ہجرت کی تلقین کی گئی ہے، اسے مکہ کی آخری نازل شدہ سورت قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مسلمان حبشہ کی طرف بھی ہجرت کرچکے تھے۔ یہ تمام قیاسات دراصل کسی روایت ہر مبنی نہیں ہیں بلکہ صرف مضامین کی اندرونی شہادتوں پر ان کی بنا رکھی گئی ہے اور یہ اندرونی شہادت، اگر پوری سورت کے مضامین پر بحیثیت مجموعی نگاہ ڈالی جائے، مکہ کے آخری دور کی نہیں بلکہ اس دور کے حالات کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔‘‘ (4)
بعض سورتوں کے زمانہ نزول کی تحقیق میں مولانا مودودی روایات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک روایت کو دوسری پر فوقیت بھی دے دیتے ہیں۔ (5) سورۃ الانعام کی تفسیر کے دیباچے میں انہوں نے مکی سورتوں کے مضامین پر بڑی معرکہ آرا تحقیق کی ہے اور مکی دور کے مختلف ادوار متعین کیے ہیں۔ (6) تا ہم انہوں نے تمام سورتوں میں تحقیق کا یہ معیار برقرار نہیں رکھا۔ مثلاً سورۃ البینۃ کے زمانہ نزول کے متعلق وہ پہلے مختلف اقوال نقل کرتے ہیں:
’’ اس کے بھی مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک یہ مکی ہے اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک مدنی ہے۔ ابن الزبیر اور عطاء بن یسار کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما اور قتادہ کے دو قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکی ہے، دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا اسے مکی قرار دیتی ہیں۔ ابوحیان صاحب بحرالمحیط اور عبدالمنعم ابن الفرس صاحب احکام القرآن اس کے مکی ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ (7)
اس کے بعد سورت کی اندرونی شہادتوں کے متعلق اتنا کہہ دینے پر اکتفا کرتے ہیں:
’’جہاں تک اس کے مضمون کا تعلق ہے، اس میں کوئی ایسی علامت نہیں پائی جاتی جو اس کے مکی یا مدنی ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔‘‘(8)
مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ سورت کے زمانہ نزول کے تعین کے لیے سورت کی اندرونی شہادتوں اور نظم کی طرف بھرپور توجہ دیتے ہیں اور انہوں نے اپنے استاد حمیدالدین فراہمی رحمہ اللہ سے ایک قدم آگے بڑھا کر یہ طے کیا ہے کہ قرآن مجید کی سورتیں سات گروپوں میں تقسیم ہیں جن میں ہر گروپ کا اپنا ایک الگ مضمون ہوتا ہے۔ ہر گروپ کا آغاز ایک یا زائد مکی سورتوں سے ہوتا ہے اور ہر گروپ کا اختتام ایک یا زائد مدنی سورتوں پر ہوتا ہے۔ مولانا اصلاحی نے گروپوں کی جو تقسیم کی ہے اور ان میں مدنی اور مکی سورتوں کی جس طرح تقسیم کی ہے، وہ حسب ذیل ہے:
پہلا گروپ: الفاتحۃ تا المائدۃ۔ اس گروپ میں صرف الفاتحۃ مکی ہے۔ باقی چار سورتیں مدنی ہیں۔
دوسرا گروپ: الانعام تا التوبۃ۔ اس گروپ میں دو سورتیں الانعام اور الاعراف مکی ہیں جبکہ دو سورتیں الانفال اور التوبۃ مدنی ہیں۔
تیسرا گروپ: یونس تا النور۔ اس گروپ میں مولانا اصلاحی کی تحقیق کے مطابق آخری سورت النور کے ماسوا باقی تمام سورتیں مکی ہیں۔ سورۃ الحج کی صرف چار آیات کو مدنی مانتے ہیں اور مجموعی لحاظ سے وہ اسے مکی دور کے آخر کی سورت قرار دیتے ہیں۔
چوتھا گروپ: الفرقان تا الاحزاب۔ اس میں بھی آخری سورت کے ماسوا باقی تمام سورتیں مکی ہیں۔
پانچواں گروپ: سبا تا الحجرات۔ اس میں سبا سے الاحقاف تک سورتیں مکی ہیں، جبکہ آخری تین سورتیں محمد، الفتح اور الحجرات مدنی ہیں۔
چھٹا گروپ: ق تا التحریم۔ اس گروپ میں ق تا الواقعۃ سات مکی سورتیں ہیں، جبکہ الحدید تا التحریم دس مدنی سورتیں ہیں۔
ساتواں گروپ: الملک تا الناس۔ اس گروپ میں مولانا اصلاحی کی تحقیق کے مطابق الملک تا الکافرون مکی سورتیں ہیں، جبکہ آخری پانچ سورتیں النصر، لہب، الاخلاص، الفلق اور الناس مدنی ہیں۔(9)
مولانا اصلاحی قرار دیتے ہیں کہ ان میں ہر گروپ کا اپنا الگ موضوع اور مضمون ہوتا ہے اور گروپ کی ہر سورت اس مرکزی مضمون کے کسی خاص پہلو کی وضاحت کرتی ہے۔ وہ یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ ہر گروپ کے اندر گروپ کے مضمون کا بتدریج ارتقا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک گروپ کے اندر سورتوں کی ترتیب نزولی کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ مثلا سورۃ المائدۃ ایک ہی گروپ میں یکے بعد دیگرے رکھی گئی ہیں، اس لیے سورۃ النساء سورۃ المائدۃ سے قبل نازل ہوئی۔
مولانا اصلاحی سورتوں کے باہمی رابط، گروپ کے مضمون، سورت کی اندرونی شہادتوں، نظم اور آیات کے سلسلہ بیان پر تدبر کرکے سورت کا زمانہ نزول متعین کرتے ہیں اور اس سلسلے میں یقیناًانہوں نے بڑا قابل قدر کام کیا ہے۔ تا ہم زمانہ نزول کے تعین میں وہ بالعموم روایات کا تجزیہ نہیں کرتے۔
سورتوں کے زمانہ نزول کے تعین میں نظم قرآن سے استدلال کے طریق کار کو مولانا اصلاحی کے شاگرد جناب جاوید احمد غامدی نے مزید آگے بڑھایا ہے۔ مثلا سورتوں کے آخری گروپ (سورۃ الملک تا سورۃ الناس) کے زمانہ نزول کو انہوں نے پانچ مراحل میں تقسیم کیا ہے اور طے کیا ہے کہ سورۃ الملک تا سورۃ الجن ’’مرحلہ انذار‘‘ میں نازل ہوئیں۔ سورۃ المزمل تا سورۃ الم نشرح ’’مرحلہ انذار عام‘‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ سورۃ التین تا سورۃ الکوثر ’’اتمام حجت‘‘ کے دور کی ہیں۔ سورۃ الکافرون تا سورۃ الاخلاص ’’براء ت و ہجرت‘‘ کے مرحلے کی سورتیں ہیں۔ یہ تمام مراحل مکی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ آخری دو سورتیں، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس، مدنی دور کی ابتدا میں نازل ہوئیں۔ (10)

سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کا زمانہ نزول
سورۃ النحل کی آیت 118 میں بظاہر اشارہ سورۃ الانعام کی آیت 146 کی طرف ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ الانعام کا نزول پہلے ہوا۔
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (النحل، آیت 118)
’’ اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘
وَ عَلَى الَّذينَ هادُوا حَرَّمْنا کُلَّ ذي ظُفُرٍ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُما إِلاَّ ما حَمَلَتْ ظُهُورُهُما أَوِ الْحَوايا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذلِکَ جَزَيْناهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَ إِنَّا لَصادِقُونَ (الانعام ۔ آیت 146)
’’اور جو یہودی ہوئے، ان پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کیے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے وابستہ ہو یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی ہو۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی اور ہم بالکل سچے ہیں۔‘‘
لیکن دوسری طرف سورۃ الانعام کی آیت 119 میں بظاہر اشارہ سورۃ النحل کی آیت 115 کی طرف ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ النحل کا نزول پہلے ہوا۔
وَ ما لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُوا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَکُمْ ما حَرَّمَ عَلَيْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ (سورۃ الانعام، آیت 119)
’’اور تم کیوں نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جب کہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام ٹھہرائی ہیں اس استثنا کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہوجاؤ۔‘‘
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النحل، آیت 115)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔‘‘
اس مسئلے کے حل کے لیے ہم نے مختلف قدیم اور جدید تفاسیر کا مطالعہ کیا اور مفسرین کرام کی کاوشوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ شان نزول کی روایات اور آیات کی اندرونی شہادتوں کے درمیان تو افق و ترجیح کے مسئلے کی شاید سب سے اچھی مثال یہی ہے۔ نیز اس اشکال کے حل سے تورات کے نزول کے متعلق بھی ایک اہم حقیقت ثابت ہوتی ہے۔
امام آلوسی نے سورۃ الانعام کے شان نزول کے متعلق عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت پوری کی پوری ایک ہی رات کو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد آلوسی نے بعض دیگر اقوال بھی نقل کیے ہیں جن کے مطابق اس سورت کی چند آیات مدنی ہیں۔ کسی روایت میں آیات 19۔20 کو، کسی میں صرف آیت 111 کو، کسی میں آیات 151 تا153 کو اور کسی میں آیات 19 تا 121 اور آیات 151 تا 153 کو مدنی قرار دیا گیا ہے۔ (11) تا ہم سورت کے نظم اور آیات کے مضامین اور سلسلہ بیان کو مدنظر رکھا جائے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے ہی صحیح معلوم ہوتی ہے کہ یہ پوری کی پوری سورت ایک ہی موقع پر نازل ہوئی۔ جہاں تک بعض آیات کے مدنی ہونے کے متعلق روایات کا تعلق ہے، اگر شان نزول کی روایات کے متعلق علمائے محققین کے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں ان کا جائزہ لیا جائے تو ان کی توجیہ بہت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ یہی بات ان روایات کے متعلق کہی جاسکتی ہے جن میں سورۃ الانعام کی بعض آیات کا الگ الگ شان نزول بیان ہوا ہے۔
سورۃ النحل کی آیت 118 کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا اشارہ سورۃ الانعام کی طرف ہے۔ یہاں ہم سورۃ النحل کی آیت 115 سے 118 تک نقل کردیتے ہیں تا کہ آیت 118 کا سیاق بھی معلوم ہو:
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (115) وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَٰذَا حَلَالٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (116) مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (117) وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (118) (النحل، آیت 115۔118)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ کہوکہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور پھر دردناک عذاب ہے۔ اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانون پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘
آیت 118 کے الفاظ کی سورۃ الانعام کی آیت 146 کے الفاظ کے ساتھ ظاہری مشابہت کی بنا پر عام طور پر مفسرین نے یہ رائے قائم کی ہے کہ سورۃ النحل کا اشارہ سورۃ الانعام ہی کی طرف ہے۔ مثال کے طور پر امام ابن الجوزی کہتے ہیں:
’’یعنی بہ ما ذکر فی الانعام و ھو قولہ تعالی: و علی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر۔‘‘ (12)
امام قرطبی بھی اسی کے قائل ہیں۔ (13) یہی رائے امام بیضاوی نے قائم کی ہے۔ (14) امام آلوسی بھی اسی کے قائل ہیں۔ (15) امام طبری نے اس قول کو عکرمہ اور قتادہ جیسے ائمہ تفسیر سے نقل کیا ہے۔ (16)
اگر یہ بات تسلیم کی جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ سورۃ الانعام کا نزول سورۃ النحل سے پہلے ہوا تھا۔ اب سورۃ الانعام کی آیت 119 پر بھی نظر ڈالیں: وَ ما لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُوا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَکُمْ ما حَرَّمَ عَلَيْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ (سورۃ الانعام۔ آیت 119)
’’اور تم کیوں نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جب کہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام تھہڑائی ہیں اس استثنا کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہو جاؤ۔‘‘
یہ تفصیل قرآن مجید میں چار مقامات پر ذکر ہوئی ہے: سورۃ الانعام، آیت 145؛ سورۃ النحل، آیت 115؛ سورۃ البقرۃ آیت 173 اور سورۃ المائدۃ آیت 3۔
اب یہاں چار امکانات ہیں:
(1) سورۃ الانعام کے اس اشارے کو سورۃ البقرۃ کی آیت 173 کی طرف مانا جائے؛
(2) اسے سورۃ المائدۃ کی آیت 3 کی طرف مانا جائے؛
(2) اسے سورۃ الانعام ہی کی آیت 145 کی طرف مانا جائے؛
(4) اسے سورۃ النحل کی آیت 115 کی طرف مانا جائے۔
پہلی دو صورتوں میں ماننا پڑے گا کہ سورۃ البقرۃ یا سورۃ المائدۃ کی مذکورہ آیت مکی ہے، لیکن دونوں سورتوں میں آیات کا سیاق و سباق اور نظم اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں۔ تیسری صورت مانی جائے تو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر چہ سورۃ الانعام کی آیت 146 تلاوت میں آیت 119 سے مؤخر ہے مگر یہ نزول میں اس سے مقدم ہے۔ گویا نہ صرف یہ کہ ایک ہی سورت کی آیات کی ترتیب تلاوت اور ترتیب نزول میں فرق کو تسلیم کرنا ہوگا بلکہ یہ بھی ماننا ہوگا کہ سورۃ الانعام کی آیات کئی ٹکڑوں میں نازل ہوئیں۔ یہ بات نہ صرف یہ کہ سورت کے نظم کے خلاف ہے بلکہ شان نزول کی روایات سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی۔ چوتھی صورت مانی جائے تو ماننا پڑے گا کہ سورۃ النحل کا نزول سورۃ الانعام سے قبل ہوا تھا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر سورۃ النحل کی آیت 118 کا اشارہ سورۃ الانعام کی آیت 146 کی طرف کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کا صرف ایک ہی امکان ہے اور وہ یہ کہ یہ مانا جائے کہ پہلے سورۃ النحل کی آیت 115 نازل ہوئی، پھر سورۃ الانعام نازل ہوئی، اس کے بعد سورۃ النحل کی آیت 118 نازل ہوئی۔ لیکن کیا سورۃ النحل کی آیات کا نظم اس بخیہ گری کی اجازت دیتا ہے؟
مولانا مودودی نے اس اشکال کا ذکر کیا ہے اور یہی حل پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہمارے نزدیک اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ پہلے سورہ نحل نازل ہوئی تھی جس کا حوالہ سورہ انعام کی مذکورہ بالا آیت [119] میں دیا گیا ہے۔ بعد میں کسی موقع پر کفار مکہ نے سورہ نحل کی ان آیتوں پر وہ اعتراضات عائد کیے جو ابھی ہم بیان کرچکے ہیں۔ اس وقت سورہ انعام نازل ہوچکی تھی، اس لیے ان کو جواب دیا گیا کہ ہم پہلے، یعنی سورہ انعام میں بتا چکے ہیں کہ یہودیوں پر چند چیزیں خاص طور پر حرام کی گئی تھیں۔ اور چونکہ یہ اعتراض سورہ نحل پر کیا گیا تھا، اس لیے اس کا جواب بھی سورہ نحل ہی میں جملہ معترضہ کے طور پر درج کیا گیا۔‘‘ (17)
یہی رائے مولانا اشرف علی تھانوی نے قائم کی ہے۔ وہ اس اشارے کا سورۃ الانعام کی آیت 145 کی طرف ہونا بعید اور سورۃ المائدۃ آیت 3 کی طرف ہونا مستحیل قرار دیتے ہیں۔ (18)
لیکن چونکہ وہ بھی یہی قرار دیتے ہیں کہ سورۃ النحل آیت 118 کا اشارہ سورۃ الانعام آیت 146 کی طرف ہے، اس لیے وہ اس پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہ قرار دیں کہ یہ آیات مختلف ٹکڑوں میں نازل ہوئیں۔
یمکن ان یکون تقدم النحل علی الانعام باعتبار اکثر الاجزاء لا کلھا، و یکون قولہ تعالی: و علی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا الخ متأخرا عن سورۃ الانعام، لاسیما عن قولہ تعالی: و علی الذین ھادوا حرمنا کی ذی ظفر، فافھم۔ (19)
لیکن جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، سورۃ النحل کی آیات 115 تا 118 کے سلسلہ بیان اور نظم کی قطعی شہادت یہ ہے کہ یہ آیات ایک ہی موقع پر نازل ہوئی ہیں۔ پھر اس اشکال کا حل کیا ہوسکتا ہے؟
بعض مفسرین نے یہ رائے اختیار کی کہ سورۃ الانعام کی آیت 119 کا اشارہ سورۃ المائدۃ آیت 3 کی طرف ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہوا کہ سورۃ المائدۃ تو مدنی ہے۔ (20) امام قرطبی نے بھی اس اعتراض کا ذکر کیا ہے اور پھر کہا ہے کہ ’فصّل‘ کو ’یفصّل‘ سمجھا جائے تو پھر یہ اشارہ سورۃ المائدۃ کی طرف ہوسکتا ہے۔ (21) لیکن اس تاویل کا ضعف نہایت واضح ہے کیونکہ آیت میں لوگوں کو توبیخ کی جارہی ہے کہ تمہارے لیے حرام ذبائح کا حکم پہلے ہی سے واضح کیا جا چکا ہے، پھر بھی تم اس حلال ذبیحے کے کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہو جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو! اگر فعل ماضی کو فعل مضارع میں تبدیل کیا جائے تو یہ توبیخ بالکل ہی بے معنی ہوجاتی ہے۔
امام آلوسی نے خود یہ رائے اختیار کی کہ یہ اشارہ سورۃ الانعام ہی کی آیت 145 کی طرف ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ آیت 145 تو آیت 119 کے بعد ہے۔ آلوسی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ تلاوت میں مؤخر ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ نزول میں بھی مؤخر ہے۔ (22) لیکن بصد ادب و احترام گزارش ہے کہ یہ بات نہایت ضعیف ہے کیونکہ اولاً تو تلاوت میں مؤخر ہونے کی وجہ سے اصولاً یہ احتمال پیدا ہوگیا ہے کہ وہ نزول میں بھی مؤخر ہے، اس لیے جو اسے نزول میں مقدم کہتے ہیں ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں قوی دلیل پیش کریں۔ ثانیاً ہم نے پیچھے ذکر کیا ہے کہ سورۃ الانعام کا نظم اور آیات کا سلسلہ بیان قطعی شہادت دیتے ہیں کہ یہ پوری کی پوری سورت بیک وقت نازل ہوئی ہے، اور یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنھما سے بھی روایت ہوئی ہے۔ خود امام آلوسی نے سورۃ الانعام کے نزول کے متعلق جو روایات نقل کی ہیں، ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت 119 اور آیت 145 کا نزول ایک ہی موقع پر ہوا ہے۔ جن بعض آیات کے مدنی ہونے کے متعلق انہوں نے روایت نقل کی ہیں، ان میں آیت 145 نہیں ہے۔
ان چاروں اقوال کی بنا یہ امر ہے کہ سورۃ النحل کی آیت118 کا اشارہ سورۃ الانعام کی آیت 146 کی طرف ہے کیونکہ ان کے الفاظ میں بھی ظاہری مشابہت ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی قول مانا جائے تو سورت کی آیت کے سلسلہ بیان اور نظم کو توڑنا پڑتا ہے۔ بعض مفسرین نے ایک پانچواں امکان بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ سورۃ الانعام آیت 119 میں اشارہ وحی غیر متومیں بیان شدہ احکام کی طرف ہے۔ (23) لیکن ظاہر ہے کہ یہ محض بات بنانا ہی ہے۔ یہ قول محض اس وجہ سے وجود میں آیا ہے کہ چاروں اقوال کی غلطی واضح تھی اور کوئی اور حل نظر نہیں آیا۔ لیکن کیا کوئی اور حل نہیں ہے؟ کیا سورۃ النحل کی آیت 118 کے اشارے کو سورۃ الانعام کی آیت 146 کے بجائے سورۃ النحل ہی کی آیت 115 کی طرف سمجھا جاسکتا ہے؟ یہاں ہم یہ آیات پھر نقل کردیتے ہیں:
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (115) وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَٰذَا حَلَالٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (116) مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (117) وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (118) (النحل، آیت 115۔118)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نو کہو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور پھر دردناک عذاب ہے۔ اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘
مولانا امین احسن اصلاحی سورۃ النحل کی آیت 118 کی تفسیر میں کہتے ہیں:
’’یعنی اصلاً یہود پر بھی وہ چیزیں حرام ٹھہرائی گئی تھیں جو اوپر آیات 115 میں مذکور ہوئیں لیکن پھر انہوں نے خود اپنے جی سے کچھ چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں جو ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر حرام کردی گئیں۔ خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔‘‘ (24)
مفسرین نے چونکہ بالعموم سورۃ النحل آیت 118 کے اشارے کو سورۃ الانعام آیت 146 کی طرف سمجھا ہے، اس لیے وہ اس بحث میں پڑگئے کہ سورۃ الانعام آیت 119 میں اشارہ کس طرف ہے؟ اگر یہ بات تسلیم کی جائے کہ سورۃ النحل کی آیت 118 کا اشارہ سورۃ النحل ہی کی آیت 115 کی طرف ہے تو سارا مسئلہ حل ہوجا تا ہے۔ پھر سورۃ الانعام کی آیت 119 کے اشارے کو سورۃ النحل کی آیت 115 کی طرف ماننے میں کوئی اشکال پیش نہیں آتا، نہ ہی ان میں سے کسی بھی سورت کے نظم کو توڑنے کی ضرورت پڑتی ہے، اور نہ ہی وحی غیر متلومیں مذکور احکام فرض کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گویا پہلے سورۃ النحل کا نزول ہوا جس میں بتایا گیا کہ شریعت ابراہیمی میں انعام (مویشیوں) میں اصلاً حرام چار چیزیں تھیں۔ یہی شریعت موسوی کا بھی حکم تھا۔ بعد میں ان پر مزید چیزیں ان کے اپنے ظلم کی وجہ سے حرام کی گئیں۔ یہ چیزیں جو اصل میں حلال تھیں لیکن یہود کے ظلم کی وجہ سے حرام کردی گئیں، ان کی تفصیل سورۃ الانعام میں دے دی گئی جو بعد میں نازل ہوئی۔ سورۃ الانعام میں بعض مسلمانوں کو بھی توبیخ کی گئی جو مشرکین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر بعض ان چیزوں کے کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے جنہیں شریعت نے حلال قرار دیا تھا۔ ان کو کہا گیا کہ تمہارے لیے حرام چیزوں کی وضاحت اور اضطرار کی حالت کی حکم پہلے ہی سے سورۃ النحل میں واضح کیا جاچکاہے، پھر تم کیوں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہو؟
اس طرح دونوں سورتوں کے زمانہ نزول کے تعین کا مسئلہ حل ہوجا تا ہے۔ تا ہم اس قول کے ماننے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ پھر ماننا پڑے گا کہ تورات کا نزول بھی قرآن ہی کہ طرح تدریجی ہوا تھا نہ کہ یک بارگی۔ اس بات کی تھوڑی سے وضاحت یہاں پیش کی جاتی ہے۔

تورات کے احکام کا تدریجی نزول
قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بعض طبی وجوہات کی بنا پر اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا، تا ہم یہ شریعت ابراہیمی میں حرام نہیں تھا۔
کُلُّ الطَّعامِ کانَ حِلاًّ لِبَني‏ إِسْرائيلَ إِلاَّ ما حَرَّمَ إِسْرائيلُ عَلى‏ نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْراةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْراةِ فَاتْلُوها إِنْ کُنْتُمْ صادِقينَ (آل عمران، آیت 93)
’’کھانے کی ساری چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں، مگر وہ جو اسرائیل نے تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے اپنے اوپر حرام تھہرالی تھیں۔ کہہ دو کہ لاؤ تورات اور پڑھو اس کو، اگر تم سچے ہو۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ تورات کے نزول سے پہلے بنی اسرائیل کے لیے وہ سبھی چیزیں حلال تھیں جو شریعت ابراہیمی میں حلال سمجھی جاتی تھیں اور جو سلیم انسانی فطرت کے مطابق کھانے کی چیزیں (الطعام) سمجھی جاتی تھیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تورات میں یہ تصریح بھی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل پر جو مزید بعض چیزیں حرام کی گئیں، وہ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کے زمانے میں حرام نہیں تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہود کو چیلنج کیا گیا کہ اگر تم اس بات کو غلط سمجھتے ہو تو تورات لے آؤ اور اسے پڑھو۔
بائبل کے سفر پیدائش میں حضرت نوح علیہ السلام کی طرف وحی کیے گئے بعض احکام بھی موجود ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کے متعلق کہا گیا کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد کو دیے گئے۔ ان کو ’’حضرت نوح علیہ السلام کا عہدنامہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہود کے بہت سے علما کی رائے یہ ہے کہ ’’غیر قوموں‘‘ کے لیے تورات کے تمام احکام پر عمل کرنا واجب نہیں بلکہ ان کی نجات کا دار و مدار حضرت نوح علیہ السلام کے عہدنامے پر عمل ہے۔ (25) اس عہدنامے میں جو احکام دیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں:
’’سب جیتے چلتے جانور تمہارے کھانے کے واسطے ہیں۔ میں ان سب کو نباتات کی طرح تمہیں دیا۔ مگر تم گوشت کو اس کے خون کے ساتھ مت کھانا، کیونکہ میں تمہارا خون ہر ایک جنگلی جانور سے اور ہم ایک آدمی کے ہاتھ سے طلب کروں گا۔ اس آدمی سے بھی جو اپنے بھائی کو مار ڈالے، میں آدمی کی جان طلب کروں گا۔‘‘ (26)
یہاں نباتات کی طرف اشارے اور جنگلی جانوروں کے ساتھ تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’کھانے کے واسطے‘‘ (الطعام) حلال جانوروں سے مراد مویشی (انعام) ہیں۔ یہی کچھ قرآن مجید سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت ابراہیمی میں مویشیوں میں اصلاً چارہی چیزیں حرام تھیں؛ مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا:
قُلْ لا أَجِدُ في‏ ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى‏ طاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَنْ يَکُونَ مَيْتَةً أَوْ دَماً مَسْفُوحاً أَوْ لَحْمَ خِنزيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقاً أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ باغٍ وَ لا عادٍ فَإِنَّ رَبَّکَ غَفُورٌ رَحيمٌ (الانعام، آیت 145)
’’کہہ دو میں تو اس وحی میں جو مجھ پر آئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز جس کو وہ کھائے حرام نہیں پاتا، بجز اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون، یا سؤر کا گوشت، کہ ان میں ہر چیز ناپاک ہے، یا فسق کرکے اس کو غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر جو مجبور ہوجائے، نہ چاہنے والا بنے اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
حضرت موسی علیہ السلام کی شریعت میں بھی ابتدا میں یہی چار چیزیں حرام تھیں، جیسا کہ سورۃ النحل کی آیت 118 میں ذکر ہوا ہے۔ بعد میں ان کے ظلم کی بنا پر ان پر مزید کئی چیزیں حرام کردی گئیں۔ آیت 118 کا اشارہ، جیسا کہ پیچھے تفصیل سے واضح کیا گیا، سورۃ النحل ہی میں اس سے قبل آنے والی آیت 115 کی طرف ہے۔ گویا آیات کا مجموعی پیغام یہ ہوا کہ یہود پر اصلاً یہی چارچیزیں حرام تھیں، لیکن بعد میں ان کے اپنے ظلم کی وجہ سے ان پر مزید کئی چیزیں حرام کردی گئیں جن کی تفصیل سورۃ الانعام کی آیت 146 میں بیان کی گئی ہے۔ یہی بات سورۃ النساء میں یوں کہی گئی ہے:
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ (النساء، آیت 160)
’’پس جو یہودی ہوئے، ان کے ظلم ہی کے سبب سے ہم نے بعض پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو ان کے لیے پہلے حلال کی گئی تھیں۔‘
اس کی وجہ یہود کا رویہ تھا۔ وہ طرح طرح کے سوالات کرکے خود ہی اپنے لیے مشکلات کھڑی کرتے تھے۔ اسی لئے مسلمانوں کو اس قسم کے سوالات سے روکا گیا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ (101) قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِّن قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ (102) (المائدۃ، آیت 101۔102)
’’اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو جو اگر ظاہر کی گئیں تو تمہیں گراں گزریں گی۔ اور اگر تم ان کی بابت ایسے زمانے میں سوال کروگے جب قرآن اتر رہا ہو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے درگزر کیا، اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔ اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے ایک قوم نے پوچھیں پھر انہی کے سبب سے کافر ہوگئے۔‘‘
اس کی ایک اور مثال گائے کے ذبح کا واقعہ ہے۔ ابتدا میں انہیں کوئی سی گائے ذبح کرنے کا حکم تھا۔ (27) پھر انہوں نے طرح طرح کے سوالات کرکے اس حکم کو ایک مخصوص گائے کے ساتھ خاص کرلیا۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ چربی کی حرمت کے حکم کو یہود کے احبار کے تشدد نے اور بھی سخت کردیا تھا۔ چنانچہ اسفار خمسہ میں جہاں چربی کی حرمت کا ذکر ملتا ہے وہاں نہ صرف یہ حکم انتہائی تعمیم کے ساتھ دیا گیا ہے، بلکہ قرآن مجید کی مذکورہ استثناء ات بھی صراحتاً ختم کردی گئی ہیں۔ سفر احبار میں یہ حکم یوں بیان کیا گیا ہے:
’’اور خداوند نے موسیٰ سے کہا: بنی اسرائیل سے کہہ کہ تم لوگ نہ تو بیل کی، نہ بھیڑ کی اور نہ بکری کی کچھ چربی کھانا۔ جو جانور خود بخود مرگیا ہو اور جس کو درندوں نے پھاڑا ہو، ان کی چربی اور کام میں لاؤ تو لاؤ، پر تم کسی حال میں نہ کھانا کیونکہ جو کوئی ایسے چوپائے کی چربی کھائے جسے لوگ آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور چڑھاتے ہیں، وہ کھانے والا آدمی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔‘‘ (28)
ایک اور جگہ اس حکم کی مزید وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے:
’’جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور وہ سب چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے اور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جر کمر کے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت، ان سبھوں کو وہ الگ کرے اور کاہن مذبح پر جلائے۔ یہ اس آتشیں قربانی کی غذا ہے جو راحت انگیز خوشبو کے لیے ہوتی ہے۔ ساری چربی خداوند کی ہے۔ یہ تمہاری سب سکونت گاہوں میں نسل در نسل ایک دائمی قانون رہے گا کہ تم چربی یا خون مطلق نہ کھاؤ۔‘‘ (29)
اس سے بخوبی معلوم ہوا کہ سورۃ النحل میں حلت و حرمت کے ضابطے کے بیان کے بعد یہ کیوں کہا گیا کہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھو۔ یہ گویا ’’اصر‘‘ اور ’’اغلال‘‘ کی ایک مثال ہوئی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو آزاد کرانے کے لیے آئے۔ (سورۃ الاعراف، آیات 156۔157) مگر یہود نے اس نعمت کبریٰ کی قدر نہ کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے سے انکار کے لیے دلیل یہ پیش کی کہ وہ تورات کے حکم کو منسوخ کررہے ہیں۔

حواشی
(1) مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: الفوز الکبیر فی علوم التفسیر، اردو ترجمہ مولانا رشید احمد انصاری، (مکتبہ برہان، اردو بازار، دہلی، 1963ء) ص 38 تا 43۔
(2) تفصیل کے لیے دیکھئے: بدرالدین الزرشکی، البرہان فی علوم القرآن، (دارالفکر، بیروت، 1988ء) ج 1، ص 45۔60۔
(3) تفہیم القرآن، (ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، 1974ء) ج2، ص468۔
(4) تفہیم القرآن، ج3، ص672۔
(5) مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: سورۃ النور کے زمانہ نزول پر ان کی تحقیق، تفہیم القرآن ج3، ص306۔318۔
(6) تفہیم القرآن، ج1، ص520۔523۔
(7) تفہیم القرآن، ج6، ص420۔
(8) ایضاً
(9) تدبر قرآن، (فاران فاؤنڈیشن، لاہور، 2001ء) ج1، ص24۔27؛ ج8، ص479۔
(10) البیان، دارالاشراق لاہور، 2001ء۔
(11) روح المعانی، (داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1985ء) ج7، ص77۔
(12) زادالمسیر، (مکتبۃ حقانیۃ، پیشاور) ج4، ص383۔
(13) الجامع لأحکام القرآن، (مکتبۃ رشیدیۃ، کوئٹہ) ج10، ص197۔
(14) تفسیر البیضاوی، (مکتبۃ مدینۃ، لاہور) ج3، ص224۔
(15) روح المعانی، ج14، ص257۔
(16) جامع البیان، (دارالفکر، دمشق، 1978ء) ج14، ص127۔
(17) تفہیم القرآن، ج2، ص579۔
(18) بیان القرآن، (ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان، 1427ھ) ج1، ص587۔
(19) ایضاً
(20) روح المعانی، ج8، ص14۔
(21) الجامع لاحکام القرآن، ج7، ص73۔
(22) روح المعانی، ج8، ص14۔
(23) آلوسی نے اس قول کا ذکر ضعیف صیغے قیل کے ساتھ کیا ہے۔ (ایضاً)
(24) تدبر قرآن، ج4، ص460۔
(25) ملاحظہ کیجئے یہودی ربی مائیکل ویشو گروڈ (Michael Wyschogrod) کا مقالہ زیر عنوان Islam and Christianity in thw Perspective of Judaism (اسلام اور مسیحیت، یہودیت کے تناظر میں)۔
AlFaruqi, Ismai\’l Raji, Trialogue of the Abrahamic Faiths, (Virginia: International Institutw of Islamic Thought, 1991), pp 13-18
(26) پیدائش: باب9، آیات 3۔5۔
(27) سورۃ البقرۃ آیت 67 میں گائے کے ذبح کے متعلق پہلا حکم ذکر ہوا ہے۔ اس میں بقرۃً لفظ آیا ہے جو اسم نکرہ ہے۔
(28) احبار: باب7، آیات 22۔25۔
(29) ایضاً: باب 3، آیات 15۔17۔
…………………………………………
محمد مشتاق احمد
لیکچرر کلیہ شریعہ و قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
منبع: ماہنامہ الشریعہ