جنگجووں کے زیر قبضہ شمالی صوبے نینوا میں واقع کم سے کم چار سنی عربوں اور صوفیوں کے مزارات گرا دیے گئے ہیں جبکہ اہل تشیع کی چھے مساجد یا امام بارگاہیں بھی مسمار کی جا چکی ہیں۔ نینوا صوبے کا صدر مقام موصل ہے۔
انٹرنیٹ پر دولت اسلامی عراق و شام ‘داعش’ کی پوسٹ کردہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اہل سنت اور صوفیوں کے مزارات پر بلڈوزر چلا دیے جبکہ اہل تشیع کے امام بارگاہیں اور مزارات کو دھماکا خیز مواد لگا کر تباہ کیا گیا۔
یہ تصویریں انٹرنیٹ پر جاری بیان کے ساتھ پوسٹ کی گئی ہیں۔ اس پوسٹ کا عنوان ‘ریاست نینوا میں مزارات اور بتوں کی تباہی’ رکھا گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے تصدیق کی ہے کہ متذکردہ عمارتیں ڈھا دی گئی ہیں اور عسکریت پسندوں نے دو کیتھرڈل کلیسا بھی قبضے میں لے لئے ہیں۔
وصل کے ایک 51 سالہ رہائشی کا کہنا ہے کہ ان مزارات کے انہدام پر میں افسردہ ہوں، یہ ہمارے آبا و اجداد کا ورثہ تھے۔ یہ شہر کی نشانیاں تھیں۔
موصل کے چلڈین کیتھرڈل چرچ کے ایک ملازم نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے اس کا چرچ اور شامی آرتھوڈکس کیتھرڈل خالی ہونے کی بنا پر ان قبضہ جما لیا ہے۔
ملازم نے مزید کہا کہ جنگجووں نے عمارت کے سامنے نصب صلیب ہٹا کر وہاں ‘اسلامی ریاست’ کو سیاہ پرچم لگا دیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…