مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی نوجوان ابو خادر کو اغوا کر نے کے بعد قتل کردیا گیا جس کے بعد فسلطینیوں میں شدید اشتعال پیدا ہوگیا اور فلسطینیوں کی بڑی تعداد مقتول کےگھر کے باہر جمع ہوگئی اور نوجوان کی شہادت پر شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پراسرائیلی پولیس بھی وہاں پہنچ گئی جس کو دیکھ کر نوجوان مشتعل ہوگئےاور اس کے بعد پولیس اور فسلطینینیوں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر ربڑکی گولیاں اور ساؤنڈ بم پھینکے گئے جس کے نتیجے 35 فلسطینی زخمی ہوگئے۔
فلسطینی نوجوان ابو خادر کو رات گئے یروشیلم سے اغوا کیا تھا جس کے بعد ان کی لاش قریبی جنگل سے ملی جس پر فلسطینی حکومت نے شدید ردرعمل میں واقعے کو اسرائیلی نوجوانوں کےقتل کاانتقام قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسرائیلی حکومت اس کی ذمہ دار ہے جب کہ اسرئیلی وزیر اعظم کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیئں۔
دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی نوجوان کے خون کی قیمت اسرائیل کو ادا کرنی پڑے گی، حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی رہنماؤں کو خبردار کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کے خون کا جرم کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 12 جون کو 3 اسرائیلی نوجوان مغربی کنارے سے اچانک لاپتہ ہوگئے تھے جس پر اسرائیل نے ان کی تلاش شروع کردی اور الزام عائد کیا کہ حماس اس میں ملوث ہے، 2 روز قبل ان نوجوانوں کی لاشیں ملنے پر اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرکے 40 سےزائد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا جبکہ فضائی حملوں میں بھی متعدد فلسطینی زخمی ہوئے ۔
ایکسپریس نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…