عراقی سیکیورٹی فورسز نے الانبار صوبے کے سب سے بڑے شہر الرمادی میں ایک جامع مسجد پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم سات افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔
‘العربیہ’ کے نامہ نگار کے مطابق الرمادی میں مسجد پر بمباری سے قبل وزیر اعظم نوری المالکی کے زیر کمان فورسز نے لڑاکا طیاروں سے اسی شہر میں قبائل کے زیر نگین علاقوں پر بھی گولہ باری کی جبکہ سرحدی شہر الرطبہ پر شامی فوج کی گولہ باری سے دسیوں افراد ہلاک اور زخمی بتائے جاتے ہیں۔
نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق عراق کے شمال مغربی علاقوں میں گھمسان کی جنگ کے بعد المالکی فورسز نے داعش کی پیش قدمی روک دی ہے۔
عراقی فوج کے دعوے کے مطابق شمالی شہر بیجی میں ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر باغیوں کا ایک اور حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ بیجی میں اسپتال ذرائع کے مطابق فورسز کی طیاروں کے ذریعے کی گئی بمباری سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر چالیس باغیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
قبل ازیں مغربی عراق کے الرطبہ شہر میں شام کے جنگی طیاروں نے ایک پیٹرول پمپ پر دو میزائل داغے جس کے نتیجے میں چالیس افراد ہلاک ہو گئے۔
ادھر عراقی باغیوں نے سرکاری فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرانے اور 35 ایرانی جنگجوؤں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ باغیوں کے ذرائع کے مطابق پکڑے گئے ایرانی جنگجو نوری المالکی کی حمایت میں لڑ رہے تھے۔
خیال رہے کہ ایرانی جنگجوؤں کی گرفتاری کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران، نوری المالکی کی حکومت کو بچانے کے لیے بغداد کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
ایرانی صدرحسن روحانی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ تہران عراق میں موجود مقدس مقامات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ