موجودہ دور اہل ایمان کے لیے آزمائشوں، ابتلاآت اور امتحانات کا دور ہے۔ ہر طلوع ہونے والی صبح اپنے ساتھ نئے نئے فتنے لے کر آتی ہے اور ہر رات اپنے پیچھے لاتعداد فتنوں کے اثرات و نقوش چھوڑ جاتی ہے۔
یہ پر آشوب ماحول اور پر فتن ساعتیں صاحبان ایمان کے لیے کچھ نامانوس اور اوپری ہر گز نہیں، کیوں کہ آج سے چودہ سو برس پیش تر ہی ہمارے پیارے نبی، جناب نبی کریم، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ان باتوں کی خبر دے دی تھی ۔ حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں کہ قرب قیامت کی چھوٹی چھوٹی علامات پوری ہوچکی ہیں۔ اب صرف بڑی نشانیاں باقی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں جناب نبی کریم، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”آخری زمانے“ کی جو متعدد نشانیاں بتائی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ قتل و قتال بہت عام ہوجائے گا۔ آج ہم کھلی آنکھوں اس امر کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ معاشرے سے امن و امان عنقا ہے۔ کسی کی جان، مال، عزت اور آبرو محفوظ نہیں۔ہر شخص غیر محفوظ ہے۔امیر ہو یا غریب، افسر ہو یا نوکر،خواص ہوں یا عوام، حد یہ کہ عالم ہو یا عامی، کسی کو جان کی امان حاصل نہیں ہے۔ ہر طرف عدم تحفظ کی فضا عام ہے۔ ہر کوئی اس خوف کاشکار ہے کہ کوئی اندھی گولی اس کی زندگی کا چراغ گل نہ کردے۔ انسانی جان پانی سے زیادہ سستی ہوچکی ہے۔ ذاتی و نفسانی مفادات کے لیے دوسرے انسان کی جان لے لینا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ حالاں کہ قرآن و حدیث کا سرسری مطالعہ بھی کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک انسان کی جان بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور جو اس معاملے میں اللہ کی بتائی گئی حد کو پامال کرتا ہے، اس کے لیے عنداللہ ذلت و رسوائی کا طوق تیار ہے۔
ذیل میں اسی حوالے سے قرآن مجید کی چند آیات اور احادیث مبارکہ سپرد قرطاس کی جارہی ہیں، تاکہ اس گناہ کی قباحت و شناعت سے واقفیت حاصل کی جاسکے اور کتاب و سنت کے آئینے میں انسانی جان کی حرمت و عزت کو سمجھا جاسکے۔
قرآن مجید میں اللہ رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں:﴿وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطأً﴾․ (نساء: 92)
ترجمہ: ”کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے الّا یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔“
جو شخص کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے۔ اس کی سزا کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” اورجو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ (سورة النساء: 93)
جب کہ سورة الانعام میں ارشاد ربانی ہے: ”(ان سے) کہو کہ: ”آؤ! میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے پروردگار نے (درحقیقت) تم پر کون سی باتیں حرام کی ہیں۔ وہ یہ ہیں: اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور ان کو بھی۔ اور بے حیائی کے کاموں کے پاس بھی نہ پھٹکو، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے اسے کسی برحق وجہ کے بغیر قتل نہ کرو، لوگو! یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے، تاکہ تمہیں کچھ سمجھ آئے۔ “(آسان ترجمہ قرآن: 435/1)
درج بالا آیات مبارکہ سے واضح ہوا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قصداً و عمداً قتل نہیں کرسکتا اور جو کوئی کسی مسلمان کو ارادةً قتل کرے تو اس کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ کسی بھی انسانی جان کو، جس کی حرمت دلائل شرعیہ سے ثابت ہو، ختم کرنا حرام ہے۔
٭… حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ شرک کیا جائے۔ کسی انسان کو (ناحق) قتل کیا جائے اور والدین کی نافرمانی کی جائے اور جھوٹ بولا جائے۔“ (بخاری)
٭…حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا: ”ہر معصیت وبرائی (کے مرتکب) کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے، سوائے اس شخص کے جو حالت شرک و کفر میں مرا یا وہ مسلمان ،جو کسی دوسرے مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے۔“ (ابو داوٴد)
٭…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بروز محشر مقتول (اپنے قاتل) کو لے کر آئے گا، اس حالت میں کہ اس (قاتل) کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے۔ اور مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا۔ وہ کہے گا: ”اے میرے پروردگار! اس نے مجھے قتل کیا تھا۔“ (یہ کہتا ہوا) اسے عرش کے پاس لاکھڑا کرے گا۔
٭…حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مسلمان کو ناحق قتل کرنے سے زیادہ حقیر ہے۔“ (نسائی)
٭…حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اسے قتل کرنا کفر ۔“ (بخاری)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن بیت اللہ کو دیکھا اور اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اے کعبہ! تم بہت عظمت والے ہو اور تمہاری حرمت بھی بہت بڑی ہے۔ (لیکن) ایک مومن و مسلمان (کی جان) اللہ رب العالمین کے ہاں تم سے زیادہ محترم و مکرم ہے۔“ (نضرة النعیم: 5298/11)
کسی کو بلاجواز قتل کرنے والا پورے سماج اورمعاشرے پر ظلم وزیادتی کرتا ہے۔ وہ معاشرے کو انارکی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس جرم عظیم کے باعث قاتل کی دنیوی اور اخروی زندگی تباہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس سے سکون و چین چھین لیا جاتا ہے۔ پھر سب سے بڑی حقیقت یہ کہ کل اس قاتل نے خود موت کا پیالہ پینا ہے اور اپنے اعمال کا مکمل جواب دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیں۔آمین !
محترم یرید احمد نعمانی
الفاروق میگزین (جامعہ فاروقیہ کراچی)