تصویر میں پولیس اہلکار کا ایک پاٶں حجر اسود سے بلندی پر انتہائی گستاخانہ انداز میں رکھا دیکھا جا سکتا ہے۔
گورنر مکہ نے اس صورتحال پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پولیس اہلکار کو کعبہ اللہ کے نزدیک ڈیوٹی سے فوری طور پر واپس بلوانے کا حکم دیا ہے۔ شہزادہ مشعل بن عبداللہ نے پولیس اہلکار کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کعبہ اللہ کے تقدس کا خیال رکھنا تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔ پولیس اہلکار کا تصرف نہ صرف پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے متعین ضوابط سے میل نہیں کھاتا بلکہ اس کے غیر ذمہ دارنہ فعل سے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔
مکہ کے گورنر نے اس واقعہ کے بعد مکہ پولیس کے سربراہ جنرل عبدالعزیز الصولی کو بھی اپنے دفتر میں ایک اہم اجلاس کے لیے طلب کیا۔ ملاقات میں شہزادہ مشعل نے حرم شریف میں خدمات سرانجام دینے والے تمام سول اور فوجی اہلکاروں کے لیے ایک خصوصی پروگرام ترتیب دینے کی ہدایت کی تاکہ ڈیوٹی پر آنے سے پہلے انہیں مقدس مقام کی اہمیت سے روشناس کرایا جا سکے۔ نیز وہ اللہ کے مہمانوں سے بھی حسن سلوک سے پیش آئیں تاکہ وہ مناسک سکون قلب اور اطمینان کے ساتھ انجام دے سکیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید