نیویارک کے ایک تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں رہائشی عمارت امریکی ڈرون حملوں کا اکثر نشانہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اکسٹھ فیصد ڈرون حملوں کا نشانہ رہائشی گھر رہے ہیں. 380 سے زائد حملوں میں کم از کم 132 رہائشی گھر تباہ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رہائشی عمارتوں پر کئے گئے ان ڈرون حملوں میں ہلاک ہونیوالے پندرہ سو سے زائد افراد میں سے 222 عام شہری تھے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں لوگ ایسی عمارات میں ر ہتے ہیں. جنہیں کمپاوئنڈز کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور ایک کمپائونڈ میںکئی خاندان رہتے ہیں جن میں بھائی اور فرسٹ کزنز وغیرہ شامل ہوئے ہیں کمپائونڈ میں یہ لوگ اپنا اپنا حصہ الگ الگ کرتے رہتے ہیں. رپورٹ کے مطابق کمپائونڈ آدھے ایکڑ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کمپائونڈ میں اکثر پچاس سے زائد لوگ رہتے ہیں. رپورٹ کے مطابق جب ڈرون حملوں کا ان رہائشی عمارت کو ہدف بنایا جاتا ہے تو عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ حملے میں ایک عسکریت پسند کمپائونڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم حقیقت میں یہ ایک رہائشی گھر ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی انسداد دہشتگردی آپریشن غیر قانونی اور غیر موثر ہیں۔
اردو ٹائمز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…