لاکھوں اہل شام پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
بشار رجیم جس نے اپنے ہی عوام پر بمباری کو معمول بنا رکھا ہے اور بھوک کو اپنے شہریوں کیخلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ان حالات میں شام کی متحدہ اپوزیشن ایسے کسی انتخاب کو قبول کرنے کو تیار نہیں جس کا مقصد بشارالاسد یا اس کی ٹیم کو ایک مرتبہ پھر شام پر مسلط کرنا ہو۔ تاہم فوری طور اپوزیشن کا شام کے سایسی مستقبل کے تعین کیلیے جنیوا میں ہونے والی دوسری امن کانفرنس ناکام ہونے کے بعد بشار رجیم نے ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے مخالفین کو کچلنے کی حکمت عملی اپنا لی ، اس وجہ سے اسی مرتبہ پھر بشار رجیم پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔
لیکن پیر کے روز شامی پارلیمان کے سپیکر نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران باضابطہ اعلان کر دیا ہے کہ اگلے صدارتی انتخابات 3 جون کو ہوں گے۔ سپیکر نے صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کے وقت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ صبح سات بجے سے شام سات بجے تک جاری رہے گی۔ فوری طور پر متحدہ اپوزیشن اتحاد کی طرف سے مجوزہ انتخاب پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید