ایرانی اہل سنت کے ممتاز رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اعتدال ومیانہ روی کو ایران کے لیے اہم ترین ضرورت یادکرتے ہوئے سیستان وبلوچستان کے عوام کو افراط وانتہاپسندی سے بیزار قرار دیا۔
ایرانی صدر ڈاکٹر روحانی کی موجودگی میں پندرہ اپریل کو زاہدان میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: صدر روحانی کے منصوبے خوش آیند ہیں ؛ سیستان وبلوچستان ایک کثیرالقومی صوبہ ہے جہاں شیعہ وسنی دونوں مسالک کے پیروکار آباد ہیں۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ رنگارنگی پسند نہیں مگر اس کا درست فائدہ اٹھاکر صوبے کی ترقی کی رفتار تیز کی جاسکتی ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے صوبہ سیستان بلوچستان میں شیعہ وسنی برادریوں کی باہمی الفت اور شاندار ماضی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: اس صوبے میں شیعہ سنی فسادات اب تک پیش نہیں آئے ہیںاور ان دومسالک کا بھائی چارہ علمائے کرام کی محنتوں کی مرہون منت ہے جو ہمیشہ اتحاد وتقریب کی راہ پر گامزن ہیں۔
انہوں نے کہا: البتہ جس طرح سختیوں میں صوبے کے تمام لوگ برابر کے شریک ہیں، اسی طرح سیاسی، معاشی اور معاشرتی میدانوں میں انہیں برابر کا حصہ ملنا چاہیے اور کسی خاص گروہ کو فوقیت و برتری نہیں دینی چاہیے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ جتنی ضرورت ہمیں میانہ روی کی ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے ایران کے پس ماندہ ترین صوبہ (سیستان وبلوچستان) میں غربت وتنگدستی کو بہت ناپسند یاد کرتے ہوئے کہا: غربت وبے روزگاری کے خاتمے کے لیے صوبے کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے جس طرح صدر روحانی نے بھی زوردیاہے۔ امیدہے صوبے کے عوام اور خواص کی پریشانیاں اس سلسلے میں ختم ہوجائیں۔
مولانا عبدالحمید نے برابری ومساوات کے عملی نفاذ اور امتیازی رویوں کے خاتمے کو پائیدارامن اور اتحاد کے لیے بہترین و آسان ترین راستہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: صوبے کی ترقی میں سب کو حصہ لینا چاہیے اور اس حوالے سے کسی بھی برادری کو پس پشت ڈال کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
یادرہے ایرانی صدر حسن روحانی نے گزشتہ ہفتہ پندرہ اور سولہ اپریل کو صوبہ سیستان وبلوچستان کا دورہ کیا جہاں عوامی خطابوں کے علاوہ صوبے کے علماءومشایخ سے بھی ان کی ملاقات ہوئی۔ اس جلسے میں صدر روحانی کے علاوہ صوبے کے بعض چوٹی کے علمائے کرام نے خطاب کیا۔