فلسطین کے بزرگ مذہبی اور سیاسی رہ نما الشیخ رائد صلاح نے یہودیوں کے ہاتھوں قبلہ اول کی مسلسل بے حرمتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ قبلہ اول کے دفاع کے لیے مسجد میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عرب شہریوں کی نمائندہ اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ رائد صلاح نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قبلہ اول اور بیت المقدس کے عوام کو کسی صورت میں صہیونی ریاست کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو قبلہ اول سے دور رکھنے کی ایک منظم سازش کررہا ہے لیکن ہم اپنے اس مقدس مقام کو جانوں سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں اور اسے کسی قیمت پر تنہا نہیں ہونے دیںگے۔
الشیخ رائد صلاح کا کہنا تھا کہ اسرائیلیوں کی یہ بھول ہے کہ ہم قبلہ اول کو فراموش کردیں گے۔ چھ دھائیاں گذرچکی ہیں، اسرائیل مسلسل اسی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے لیکن ہم نے اسے بری طرح ناکام بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم گرفتار ہوتے ہیں، زخمی کیے جاتے ہیں، شہید کیے جاتے ہیں تو ہماری یہ تمام قربانیاں صرف قبلہ اول کے لیے ہیں۔ جان سمیت ہم ہر طرح کی بھاری سے بھاری قربانی بھی قبلہ اول کے دفاع کے لیے دینے کو تیار ہیں۔ ہم قربانیاں دے رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری یہ قربانیوں جلد صہیونیوں کے زوال کا سبب بنیں گی۔
الشیخ رائد صلاح کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کےقیام کی راہ میں دانستہ روڑے اٹکا رہا ہے۔ فلسطینی اسیران کا معاملہ پیچیدہ بنا کر فلسطینی اتھارٹی پر بنیادی قومی حقوق سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین