مولاناعبدالحمید: سرحدی محافظین کسی تاوان کے بغیر عوامی ثالثی سے رہا ہوگئے

ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے ایرانی سرحدی محافظین کی رہائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے مغوی اہلکاروں کی رہائی عوامی ثالثی اور قرآن پاک کے احترام سے ممکن ہوئی۔

ایرانی اہل سنت کی آفیشل ویب سائٹ، سنی آن لائن، سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ہماری دینی وملی ذمہ داری نے ہمیں مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے کردار ادا کرنے پر مجبور کیا۔ چار سرحدی محافظین کی رہائی مسرت بخش خبر ہے مگر پانچویں اہلکار کی عدم رہائی پر ہمیں افسوس ہے جو قتل ہوچکاہے۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ’جیش العدل‘ نامی تنظیم سے مذاکرات کے لیے بھیجی گئی ٹیم کے بارے میں ہمارے نامہ نگار کو بتایا: صوبے کے سرکردہ قبائلی عمائدین اور سماجی ودینی شخصیات پر مشتمل ایک وفد اغواکاروں کے پاس بھیجاگیا، وفد کے ساتھ میں نے قرآن پاک کا ایک نسخہ اور خط بھیجا جس میں مغوی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ اور تشدد ترک کرنے کی ترغیب شامل تھی۔ اس سلسلے میں ہمیں گورنر سیستان بلوچستان اور ان کے معاون خاص کی حمایت حاصل تھی۔ دراصل مذاکرات صوبائی حکام کی اطلاع کے مطابق ہوئے۔

دارالعلوم زاہدان کے شیخ الحدیث ومہتمم نے ایک سوال کے جواب میں کہا: اغواکاروں کے مطالبات بعض قیدیوں کی رہائی اور کچھ دیگر مسائل تھے، لیکن بالاخر انہوں نے مان لیا کسی تاوان کے بغیر محض قرآن پاک کے احترام میں اور علمائے کرام اورقوم کی عزت کی خاطر مغویوں کو رہا کردیں۔ سرحدی محافظین کو افغانستان کے سرحدی شہر برابچہ میں ہمارے وفد کے حوالے کیاگیا جنہیں بوجوہ دشوارگزار پہاڑی علاقوں سے ایران لایاگیا؛ ان پہاڑی علاقوں پر کسی بھی حکومت کی گرفت نہیں ہے۔

مولانا عبدالحمید نے مذاکرات اور باہمی گفت وشنید کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ اہم مسئلہ صرف گفتگو اور مذاکرات کی وجہ سے حل ہوگیا۔ ہمارے خیال میں تمام مسائل اور اختلافات کو مذاکرات سے حل کیاجاسکتاہے؛ ہمارے وفد نے اغواکاروں کو پرامن طریقوں سے اپنے مطالبات پیش کرنے کی ترغیب دی ہے اور بظاہر انہوں نے بھی اس پیش کش کو قبول کرتے ہوئے اپنی تیاری کا اعلان کیاہے۔حکام کو بھی اسی راہ پر چلنا چاہیے؛ تشدد اور آہنی ہاتھ کا استعمال کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوسکتا۔

مغوی محافظین کی رہائی میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا: مقتول اہلکار کے قتل سے پہلے ہی ہم نے اہلکاروں کی رہائی کے لیے کوششوں کا آغاز کیاتھا لیکن بعض افراد اور اداروں نے اپنے طور پر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جس سے قدرے تاخیر ہوگئی۔ لیکن الحمدللہ ہمارے ساتھیوں کی کوششیں کامیاب ہوگئیں اور کسی بھی تاوان کے بغیر مغوی رہا ہوگئے۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران میں منشیات کے پھیلاو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ پینتیس سالوں سے حکام پھانسی جیسی سخت سزاؤں سے منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے کوشش کرتے چلے آرہے ہیں لیکن نہ صرف منشیات کی سمگلنگ کا سلسلہ بند ہوچکاہے بلکہ الٹا اس میں شدت بھی آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں لوگ معاشی مسائل سے دوچار ہیں اور حکام بھی بے روزگاری ختم کرنے میں ناکام ہیں۔ ان جیسے مسائل کا حل پھانسی میں نہیں بلکہ مذاکرات، گفت وشنید اور ماہرین کی آرا پر عمل کرنے میں ہے۔

اسی مذاکرات اور عوامی کوششوں کی بدولت اب پندرہ سالوں کے بعد سیستان خطے کی جانب پانی افغانستان سے آرہاہے۔ خشکسالی کی وجہ سے عوام دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہوچکے تھے لیکن ہماری کوششوں کی بدولت اب افغان حکام نے مان لیاہے سیستان میں موجود دریا اور تالاب کو مزید خشکی میں نہ رکھیں۔ ہمیں امید اس اہم خطے کا مستقبل روشن ہوگا اور زراعت کے شعبے کو یہاں ایک نئی جان ملے گی، ممتاز عالم دین نے مزیدکہا۔

متعدد شخصیات اور عوامی حلقوں کی جانب سے شکریہ کے پیغامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ہم نے مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے دینی وملی ذمہ داری کے تحت کوشش کی ہے اور ہمیں کسی سے شکریہ کی توقع نہیں ہے۔

یادرہے فروری کے آغاز میں ایرانی بلوچستان کے علاقہ جکیگور سے پانچ سرحدی محافظ اغوا ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری جیش العدل نامی تنظیم نے قبول کیا۔ تقریبا دومہینے بعد ایرانی بلوچستان کے علمائے کرام اور عمائدین کی کوششوں اور ثالثی سے مغویوں کو رہائی مل گئی۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago