ایران کی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے بارڈر گارڈز کی بازیابی کے لئے جیش العدل نامی تنظیم سے خود مذاکرات کئے جس کے بعد اغوا کاروں نے مغوی سیکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان میں ایرانی حکام کے حوالے کردیا تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ جیش العدل نے کتنے مغوی گارڈزکو رہا کیا ہے۔ گزشتہ ماہ جیش العدل کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق اغوا کیے گئے ان 5 گارڈز میں سے ایک کو ہلاک کردیا گیا تھا۔
جیش العدل نے ایرانی حکومت کو دھمکی دی تھی کہ ان کے گرفتارساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا تو باقی مغوی گارڈز کو بھی قتل کردیا جائےگا۔ دوسری جانب پاکستانی دفترخارجہ کے مطابق ایرانی گارڈز پاکستانی حدود میں موجود نہیں تھے۔ ترجمان دفترخارجہ تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نےخود جیش العدل سے مذاکرات کرکے مغوی گارڈزکوبازیاب کرایا۔
واضح رہے کہ جیش العدل نامی تنظیم نے 5 ایرانی گارڈز کو بلوچستان میں پاک ایران سرحد سے 6 فروری کو اغوا کیا تھا جس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاورں کو بازیاب کرانے کی کوشش نہ کی گئی تو وہ خود کارروائی کریں گے جب کہ پاکستان کا موقف تھا کہ مغوی اہلکار پاکستانی حدود میں نہیں۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید