محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایک اجلاس کی صدارت کے بعد نشری بیان میں کہا ہے کہ ”فلسطینی قیادت نے اتفاق رائے سے ایک فیصلے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے پندرہ اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں کی رکنیت حاصل کی جائے گی اور اس کا آغاز چوتھے جنیوا کنونشن سے کیا جائے گا”۔
انھوں نے کہا کہ ”ہم امریکا کے خلاف نہیں ہیں جو ہماری مدد کررہا ہے اور ہم کسی سے محاذ آرائی کے لیے اپنے اس حق کو استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم مذاکرات کو جاری رکھیں گے”۔
انھوں نے یہ بیان تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کی سینیر قیادت کے اجلاس کے بعد جاری کیا ہے۔اس اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں تعطل کے بعد فلسطینیوں کے نئے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ہے۔
فلسطینی صدر کی جانب سے اس فیصلے کے اعلان سے چندے قبل ہی اسرائیل نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے دورے کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے سات سو سے زیادہ نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں اور اس طرح امن عمل کو پوری قوت کے ساتھ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اس کو بچانے کے لیے کوشاں تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید