محترم فاضل، علامہ احمدحسن حنفی بطالوی (پٹیالہ) کانپوری ان علماءکرام میں سے ہیں جو زیادہ سے زیادہ درس دینے اور لوگوں کو فائدے پہنچانے میں مشہور ہیں۔

مولانا کانپوری کے بے حساب شاگرد ہوئے، شہر بطالہ (پٹیالہ) میں پیدا ہوئے جو کہ ’گورداس بود‘ کے مضافات میں سے ہے اور وہیں بڑے بھی ہوئے۔ حصول علم کے لئے علی گڑھ شہر میں مفتی لطف اللہ صاحب کی خدمت میں رہنے لگے اور وہیں سے فراغت پائی۔ پھر مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں بحیثیت استاد مقرر کئے گئے، چنانچہ کافی زمانہ تک تدریسی فرائض انجام دیتے رہے، پھر کانپور شہر کے مدرسہ فیض عام میں ذمہ دار بنائے گئے، نتیجہ کے طور پر وہیں شادی کرکے رہائش اختیار کرلی اور طویل مدت تک درس دیتے رہے۔ پھر وہاں سے سفر کرکے حجاز مقدس تشریف لے گئے اور حج و زیارت مقامات مقدسہ سے فارغ ہوئے۔ پھر شیخ حاجی امداداللہ تھانویؒ مہاجر مکی سے بیعت طریقت حاصل کی اور ہندوستان لوٹ آئے۔

زہد و تقوی
آپ بہت بڑے عالم اور امام تھے۔ دینداری میں بہت پسندیدہ اور مقبول تھے۔ پرہیزگار اور متواضع بھی تھے، بہت زیادہ عقل مند، بہترین اخلاق والے، تمام اچھی صفتوں سے متصف تھے۔ اچھی معاشرت والے، لوگوں کو بہت زیادہ نصیحتیں کرتے رہنے والے، اور اپنے شاگردوں اور دوستوں سے بہت محبت کرنے والے، کم سخن، لوگوں سے کنارہ کش، دنیاداروں کے پاس آمدورفت کرنے سے بھاگنے والے، تھوڑے پر قناعت کرلینے والے، تکلف برطرف کرنے والے، بہت زیادہ انصاف کرنے والے، ان سے کچھ چاہنے والے کو خوش آمدید کہنے والے، اپنی مصروفیت پر مداومت کرنے والے، پڑھانے کے لئے پیش قدمی کرنے والے، بہت ہی صابر، کسی تنگدلی اور رنجش کے بغیر اپنے درس کو جاری رکھنے والے، جیسے کہ آپ درس و تدریس میں شب و روز مشغول رہے۔ میں آپ کے مثل کسی بھی عالم سے اب تک واقف نہیں ہوسکاہوں۔

درس و تدریس
فنون منطق، حکمت و اصول اور کلام کی اہم کتابوں کا درس دیتے۔ مختلف علوم میں باریک تر مسائل میں بھی بحث کرسکتے تھے اور اہم کتابوں کے اسباق ہر روز پندرہ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ ایسی حالت میں ان کو بواسیر کا مرض لاحق ہوگیا جس سے بدن سے بہت زیادہ خون نکل جاتا۔ پھر درس دینے میں رخصت نہیں لیتے۔
بالآخر ان کو بہت زیادہ کمزوری ہوگئی، اس لئے حکماءنے ان کو کلی طور پر پڑھانے سے سختی سے منع کردیا۔ پھر بھی یہ اپنی عادت سے باز نہیں آئے اور اپنا درس کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ روح جسم سے پرواز کرگئی۔

تصانیف: حمداللہ کی شرح سلم پر ان کا بہت مفصل حاشیہ موجود ہے۔ اسی طرح سے مثنوی معنوی پربھی حاشیے ہیں۔ اور اللہ تعالی کے امکان کذب کی بحث میں ان کے انکار پر مستقل رسالہ ہے جس میں دلائل کلامیہ سے امتناع کو ثابت کیا ہے۔

 1322ھ میں کان پور شہر میں آپ کی وفات ہوئی۔

ماخوذ از: ”چودھویں صدی کے علمائے برِّ صغیر“، ”نزہة الخواطر“ کا اردو ترجمہ، 8/ 95

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago