پولیس کارروائی کی شکایت اقلیتی کمیشن سے بھی کی گئی ہے۔
پولیس کی کارروائی کے بعد مقامی لوگوں میں غصہ ہے جبکہ پولیس کے مطابق کسی کو حراست میں نہیں کیا گیا تھا اور صرف پوچھ گچھ کے لیے لایا گیا تھا۔
الزام ہے کہ پولیس نے ان لوگوں کو بغیر کوئی وجہ بتائے کئی گھنٹے تک تھانے میں بٹھاکر رکھا۔
مقامی رہائشی شہزاد پوناوالا نے اقلیتی کمیشن سے شکایت کی ہے۔
پوناوالا کے مطابق ’اے سی پی امت سیاہ کی قیادت میں یہ کارروائی کی گئی تھی۔ پولیس جنہیں اٹھا کر لے گئی ان میں سکول میں پڑھ رہے لڑکوں سے لے کر 80 سال تک کے بزرگ شامل ہیں۔‘
جن لوگوں کو تھانے لے جایا گیا تھا ان میں 19 سال کے محسن اور 20 سال کے رمیض بھی شامل تھے۔
محسن نے بتایا ’میں نے ابھی 12 ویں کلاس کا امتحان دیا ہے۔ جب میں نے پولیس کو یہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ تم جیب كترے لگتے ہو۔‘
’امتیازی کارروائی‘
رميض نے بی بی سی کو بتایا ’رات کو تقریباً دو بجے کے ارد گرد پولیس والے دروازہ کھٹکھٹانے لگے۔ میرے گھر میں امی اور بہن سو رہی تھیں۔ میں اندر بیڈروم میں سو رہا تھا کہ اچانک پولیس کے آنے سے سب لوگ گھبرا گئے۔ میری ماں دل کی مریضہ ہیں۔ ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ پولیس والوں نے مجھے پکڑا اور کہا چل گاڑی میں بیٹھ۔‘
محسن کا کہنا ہے کہ پولیس نے کئی لوگوں کو چھوڑ دیا تھا مگر ان کو بٹھا رکھا۔
این سی پی کے مقامی ممبر اسمبلی جيتندر اوہاڑ کی مداخلت کے بعد محسن کو پولیس نے چھوڑا۔
اے سی پی امت سیاہ نے بی بی سی کو بتایا ’کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔ انہیں صرف پوچھ گچھ کے لیے لایا گیا تھا۔ جب باہر لوگوں نے ہنگامہ کرنا شروع کیا، تو ان سے پوچھ گچھ بھی پوری نہیں ہو پائی۔‘
شہزاد پوناوالا نے اپنی شکایت میں لکھا ہے ’اس امتیازی کارروائی کے لیے دو خواتین اہلکار سمیت تقریباً 200 کی تعداد میں پولیس والے آئے تھے۔‘
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…