سمیع عنان نے ” العربیہ ” کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی پر ان کا پیچھا کیا اور ان پر فائر کھول دیا لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ اس سے پہلے سمیع عنان کے ایک ترجمان نے بتایا تھا کہ سابق فوجی سربراہ مصر کے متوقع صدارتی انتخابات میں موجودہ فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے مقابل امیدوار ہوں گے۔ ترجمان نے بتایا دو گاڑیوں نے ان کا پیچھا کیا تاکہ انہیں نقصان پہنچا سکیں، تاہم متوقع صدارتی امیدوار ان سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔ سمیع عنان کا جب مشکوک گاڑیوں پر سوار افراد نے پیچھا کیا وہ اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے۔ سابق جنرل کے بچ نکلنے میں ان کے ڈرائیور کی چابکدستی کام آئی اور وہ انہیں حملہ آوروں سے بچا کر لے آیا۔ سمیع عنان کا کہنا ہے کہ اس سارے واقعے کے بارے میں تفصیلی بیان بعد میں ان کے دفتر کی طرف سے جاری کیا جائے گا۔ فوری طور پر حملے کا الزام کسی پر نہیں لگایا گیا ہے۔
اردو ٹائمز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید