عدالت نے یہ حکم پرویز مشرف کے وکلا کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست کے بارے میں دیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت اس وقت شدت پسندوں کے نشانے پر ہے، اس لیے ایسے حالات میں اُن کے موکل جو کہ ملک کے سابق صدر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان افواج کے سربراہ بھی رہے ہیں، ان کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ دھمکیوں کی وجہ سے اس مقدمے کی سماعت ملتوی نہیں کر سکتے اور پرویز مشرف 11 مارچ کو ہر صورت عدالت میں پیش ہوں۔
سابق صدر کی وکلا ٹیم میں شامل احمد رضا قصوری نے عدالت میں شدت پسندوں کی طرف سے لکھا گیا ایک مبینہ خط بھی عدالت میں پڑھ کر سُنایا جس میں اُن سمیت وکلا ٹیم میں شامل شریف الدین پیرزادہ اور انور منصور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی پیروی چھوڑ دیں ورنہ اُنھیں اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اس خط کے شدت پسندوں کی طرف سے لکھے جانے سے متعلق تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ یہ خط کہاں سے لکھا گیا ہے، تاہم اسے سپریم کورٹ کے پتے پر بھیجا گیا تھا۔
احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ اگر اُنھیں کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب پر ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی ایک وزیر اعظم کو تختۂ دار پر لٹکا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سابق فوجی ضیاء الحق کے دور میں احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی تھی۔
پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل رانا اعجاز کا کہنا تھا کہ اگر شدت پسندوں نے خصوصی عدالت پر حملہ کیا تو اس میں تین جج، ایک پراسکیوٹر اور دو وکلائے صفائی نشانہ بنیں گے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ ججوں کو بھی سیکیورٹی خدشات ہیں اور اُنھیں بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔
چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اُن کی ہمدردیاں وکلائے صفائی کے ساتھ ہیں لیکن عدالتیں جنگی حالات میں بھی کام کرتی رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ سے کہا گیا ہے کہ وہ خصوصی عدالت کے باہر سکیورٹی کے حالات کو مزید موثر بنائیں۔
پرویز مشرف کی وکلا ٹیم نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ اُن کے موکل کی والدہ بیمار ہیں لہٰذا اُن کی تیمارداری کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے نوٹس جاری کردیے ہیں۔
اس کے بعد اس مقدمے کی سماعت سات مارچ تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
آئندہ سماعت پر اس بات کا امکان ہے کہ عدالت سابق فوجی صدر کے وکلا کی جانب سے عدالت کی تشکیل اور ججوں کے تعصبانہ رویے کے بارے میں دائر کی جانے والی دو درخواستوں پر فیصلہ سُنایا جائے گا۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…