کوئٹہ میں بی بی سی کے نمائندے محمد کاظم کے مطابق متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی سہ پہر تین بج کر دس منٹ پر پانچ سرکاری اور ایک قبائلی شخصیت کو تربت کے علاقے گومازی سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افراد کی بازیابی کے لیے جانے والے چھ افراد پر مشتمل اس قافلے میں اسسٹنٹ کمشنر دشت نعیم گچکی، نائب تحصیلدار بلیدہ رفیق احمد، تحصیلدار دشت کھڈان، احمد علی، نائب رسالدار لیویز فورس بشام بلوچ، سپاہی لیویز فورس جمیل احمد اور ایک قبائلی شخصیت شامل ہیں۔
یاد رہے گذشتہ روزکلِکاسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سمیت کئی لیوز اہل کاروں کو تمپ کے علاقے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ یہ لوگ گاڑیوں کے قافلے میں ایران کی سرحد سے لوٹ رہے تھے۔
لیویز حکام کے مطابق گذشتہ روز اغوا ہونے والے تمام لیوز اہل کاروں کو رہا کر دیا گیا لیکن ان کے ہمراہ اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کشمنر تاحال اغوا کاروں قبضے میں ہیں۔
بی بی سی اردو
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید