شام کیلیے قائم آبزرویٹری کے مطابق اسلام پسندوں نے گاوں پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے مان نامی بستی میں 25 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ ہلاک کیے گئے افراد کی اکثریت بشارالاسد کے حامی فوج سے وابستہ تھے۔
دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کے ہلاک شدگان کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل تھی۔ اسلام پسندوں نے ان افراد کو جنیوا ٹو کے سلسلے میں مذاکرات کے آغاز کے موقع پر ہلاک کیا ہے ۔
واضح رہے مان کے رہائشی جو کہ شمالی اور جنوبی شام کو ملانے والی شاہراہ کے مشرق میں آٹھ کلو میٹر تک پھیلی آبادی بشارالاسد کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔
سماجی بہبود کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں یہ پہلی کارروائی نہیں ہے بلکہ تین برسوں کے دوران متعدد بار اس طرح کی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اسے اس امر پر افسوس ہے کہ اس نے عالمی برادری اور حتی کہ ان لوگوں کی طرف سے بھی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار نہیں سنا جو جنیوا مذاکرات کا حصہ ہیں۔
اس واقعے کے بارے میں جاری کردہ ویڈیو فوٹیجز میں دکھایا گیا ہے کہ اسلامی عسکریت پسند میونسپل کمیٹی کی عمارت کے اوپر نماز ادا کر رہے ہیں۔
شام سے متعلق انسانی حقوق کی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے پہلے خواتین اور بچوں کو علاقے سے نکال لیا گیا تھا۔ جبکہ شامی فوج سے متعلق 20 اہلکار اس علاقے میں ہفتے کے روز ہی مارے جا چکے تھے۔
اتوار کے روز صوبہ ہاما کے ایک دیہاتی علاقے میں 12 باغی بھی مارے گئے ہیں۔ واضح رہے تین برسوں کے دوران مجموعی طور پر شام میں ایک لاکھ تیس ہزار افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…