طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ اگر طالبان کو شریعت کے علاوہ کوئی قانون منظور ہوتا تو جنگ ہی نہ کرتے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کااصل مقصد شریعت کے نافذ کے لیے ہے:’ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ شریعت کے لیے ہی لڑ رہے ہیں۔ ابھی جو ہم مذاکرات کریں گے تو وہ شریعت ہی کے لیے کریں گے۔‘ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے پیش کی گئی تجاویز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان پر غور کیا جا رہا ہے تاہم مزید فیصلے وہ اپنی نمائندہ کمیٹی سے ملاقات کے بعد کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ ساری باتیں جب ہم ان (طالبان کمیٹی) سے ملاقات کریں گے تو پوری طرح ان پر واضح کریں گے، ابھی یہ باتیں قبل از وقت ہیں۔‘ اس سوال پر کہ ملک میں پہلے سے نافذ آئین و قانون سے انکار کے بعد شریعت کے نفاذ کے لیے بات چیت کیسے آگے بڑھے گی؟ شاہد اللہ شاہد کا جواب تھا کہ ’یہ بہت آسان سی باتیں ہیں پہلی بات تو یہ ہے جن کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں وہ سب دعوی کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے تو یہ کسی مسلمان کے لیے یہ مشکل نہیں ہے۔ اب ہم امریکہ سے مطالبہ کریں کہ وہ شریعت نافذ کرے تو یہ ان کے لیے مشکل ہوگا لیکن یہ لوگ تو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔‘ طالبان ترجمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم وہ ابھی اس پر ردعمل دینا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو مخالف گروہوں کی جانب سے مذاکرات میں مختلف مطالبات کیے جائیں گے۔ ’لیکن ہم مطمئن ہیں کہ شریعت کے نفاذ کے لیے یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔‘ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی سے ان کی ملاقات آئندہ چار سے پانچ دن میں ہو جائے گی۔
اردو ٹائمز