- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

شامی حکومت کی حلب پر بیرل بمباری 42 افراد لقمہ اجل

لندن میں قائم انسانی حقوق کی ایک آبزرویٹری کے مطابق شمالی حلب میں اپوزیشن کے زیر کنڑول علاقوں پر شام کے جنگی طیاروں نے دھماکا خیز مواد سے بھرے بیرل بم برسائے ہیں، جس کے نتیجے میں کم سے کم 42 شہری ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

مرنے والوں میں 33 کا تعلق ایک ہی کالونی سے بتایا جاتا ہے۔
آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بتایا مذکورہ بم باری کا نشانہ حلب کی مشرقی کالونیاں تھیں۔ ‘طریق الباب’ نامی کالونی میں اس حملے کے دوران سب سے زیادہ 33 افراد مارے گئے۔
اس سے پہلے فرات لبریشن اسلامک فرنٹ سے تعلق رکھنے والے انقلابیوں نے حلب شہر کو مشرقی مضافاتی علاقوں سے ملانے والے راستے کو القاعدہ کے جنگجووں سے آزاد کرا لیا تھا۔ محاذ نے ‘داعش’ نامی القاعدہ کے گروہ سے ایک بیان میں ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ شام کی فری آرمی کا حصہ ہیں۔
ادھر شام کے جنوبی علاقے میں سرگرم تحریک احرار الشام کے جنگجووں نے القنیطرہ کے نواح میں میں شامی فوج کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
دوسری جانب شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے حلب شہر کی جیل کا محاصرہ کرنے والے انقلابیوں کی ٹولیوں پر بیرل بم برسائے ہیں، جیل میں متعدد حکومت مخالف جنگجو قید ہیں۔ بیرل بم گرائے جانے کے بعد انقلابیوں نے جیل پر متعدد ہاون راکٹ بھی داغے۔
داعش کے 20 جنگجو لواء التوحید یعنی پرچم توحید نامی گروپ کی جانب سےشمالی حلب کے گاوں تل جیجان میں لگائی گئی گھات کارروائی میں مارے گئے۔ حمص کی الدبلان کالونی کی الحسامی مسجد پر ہونے والی راکٹ باری میں تین افراد ہلاک اور متعدد دوسرے زخمی ہوئے۔
یاد رہے کہ جیش الحر اور دولت اسلامیہ عراق و شام ‘داعش’ کے جنگجووں کے درمیان یہ جھڑپیں ایک عرصے سے جاری ہیں۔ حزب اختلاف کے اتحاد نے اپنے ایک حالیہ بیان میں داعش کے خلاف اپوزیشن فورسسز کی لڑائی میں مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ بیان کے مطابق اپوزیشن کے جنگجووں کے لئے ضروری ہے کہ وہ بشار الاسد اور انقلاب کی منزل کھوٹی کرنے والی القاعدہ اور اس کے انڈوں بچون کے خلاف جاری انقلابی جدوجہد کا دفاع کریں۔

العربیہ