خیال رہے کہ جنگی جرائم کے تین سابق ججوں کی حالیہ رپورٹ میں کہا گيا تھا کہ اس بات کے واضح شواہد ہیں کہ شام میں بغاوت کے آغاز سے جنگی قیدیوں پر منظم طریقے سے تشدد کیا گیا اور ان میں سے 11 ہزار افراد کو پھانسیاں دی گئیں تھیں۔
امریکہ نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو برطرف کر دیا جائے۔
دوسری جانب شامی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس رپورٹ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ رپورٹ قطر کی ایما پر تیار کی گئی ہے جو شام کے باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک دن بعد سوئٹزرلینڈ میں شام کے متعلق امن مذاکرت ہو رہے ہیں۔
ان مذاکرات کو تین سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس جنگ میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو گئے ہیں۔
یہ رپورٹ اس باغی فوجی کے شواہد پر منبی ہے جس نے مبینہ طور پر 11 ہزار قیدیوں کی 55 ہزار تصویریں افشا کی تھیں۔
ان میں سنہ 2011 میں بغاوت کے آغاز سے لے کر گذشتہ سال سنہ 2013 جولائی تک کی تصویریں شامل ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے کہا ہے کہ یہ بہت اہم رپورٹ ہے اور ہم جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا ’شام کی صورتِ حال بہت خوفناک ہے، وہاں عبوری حکومت کی ضرورت ہو گی اور ہمیں بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنا ہو گا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس طرح کی ہر رپورٹ کی شدید ترین الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔
اس سے پہلے برطانوی وزیرِ خارجہ ویلیم ہیگ نے بھی اس رپورٹ کی مزمت کرتے ہوئے ہاؤس آف کامنز کو بتایا تھا کہ انھوں نے اس رپورٹ کے حوالے سے ثبوت دیکھے ہیں جو بہت ہی خوفناک ہیں۔
اس رپورٹ کے ایک مصنف پروفیسر سر جیفری نائس نے بی بی سی کو بتایا ’جس سطح پر مسلسل ہلاکتیں ہوئی ہیں اس سے شواہد ملتے ہیں کہ ان میں حکومت شامل ہے اور اس کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔‘
فورنسک تفتیش کار سٹوارٹ ہیملٹن نے بھی ان شواہد کی جانچ کی اور بی بی سی کو بتایا کہ جن تصاویر کو انھوں نے دیکھا ہے ’ان میں سے زیادہ تر کی موت واضح طور پر فاقہ کشی کی وجہ سے ہوئي ہے۔‘
ان کے مطابق ’ بہت سے افراد کے جسموں کو باندھ کر ان پر پر تشدد کیا گیا اور ان کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔‘
دوسری جانب شام کی وزارتِ اطلاعات کے ترجمان بسام ابو عبداللہ نے رپورٹ کی افادیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ رپورٹ شام سے حاصل سے کی گئی ہے یا نہیں۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…