غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائلی شہر تل ابیب کے تل شومر اسپتال میں کئی برسوں سے زیر علاج ایریل شیرون کے جسم میں ڈاکٹروں نے غذا کے داخلے کے لئے نئی نالی ڈالی تھی جس کے بعد ان کی طبیقت میں تبدریج خرابی آتی گئی اور گزشتہ کچھ دنوں سے ان کے گردے بھی ناکارہ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ان کی صحت سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوگیا تھا اور ڈاکٹروں نے ان کے اہل خانہ کو جواب دے دیا تھا۔ اور آج ان کے انتقال کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔
ایریل شیرون کو سیاسی اور عسکری اداروں میں کافی اثر و رسوخ حاصل تھا، اس کی وجہ ان کا فوجی کیریئر تھا وہ اسرائیل کے قیام سے 2006 تک تمام جنگوں میں حصہ لے چکے تھے، فلسطینی کیمپوں صابرہ اور شتیلہ میں اس ہی کے حکم پر سیکڑوں نہتے فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی اہم عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائی تھیں، وہ کئی برسوں تک فلسطینی عوام کے خلاف نفرت انگیز جذبات کی حامل جماعت لیکوڈ پارٹی میں رہے اور ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
2005 میں انہوں نے یک طرفہ طور پر غزہ پٹی سے اسرائیلی فوجوں کے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے وہاں گزشتہ 38 برس پرانا اسرائیلی ملٹری کنٹرول ختم کر دیا جس کے بعد پارٹی قیادت سے اختلافات پر انہوں نے لیکوڈ پارٹی سے علیحدگی اختیار کر کے اعتدال پسند نظریات کی حامل کادیمہ پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ 2006 میں ان پر فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد وہ کوما میں چلے گئے، کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی حکومت ہر سال ان کےعلاج پر 440 ملین ڈالر خرچ کرتی تھی۔
ایکسپریس نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…