مولانا عبدالحمید نے تیس دسمبر کو حکومت کے دائیں بازو کے حامیوں کے مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بعض سرکاری خطیبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے جنگ جمل کو دوہزارنو کے متنازعہ صدارتی انتخابات سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے ایسے اقدامات کو عقل، میانہ روی اور بصیرت کے خلاف قرار دیا۔
زاہدان میں گفتگو کرتے ہوئے تین جنوری دوہزارچودہ کے خطبہ جمعہ کے دوران انہوں نے کہا: گزشتہ ہفتہ میں ’بصیرت‘ کے عنوان سے ملک کے طول وعرض میں جلسے منعقد کرائے گئے۔ ان جلسوں میں بعض مقررین نے ایسی باتیں کہیں جو میرے اندازے کے مطابق بصیرت ہی میں وہ افراط کا شکار ہوچکے ہیں۔ حالانکہ بصیرت کا مطلب ہے بیداری وہوشیاری، میانہ روی واعتدال اور افراط وتفریط سے گریز کرنا۔ بعض لوگ اس قدر اپنے مخالفین پر برستے ہیں جو افراط اور انتہاپسندی کے زمرے میں آتاہے۔
تہران کے شیعہ سرکاری خطیب کے ایک بیان پر تنقید کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: گزشتہ جمعے کو تہران کے ایک خطیب نے دوہزارنو کے صدارتی انتخابات کے بعد رونما ہونے والی چپقلش اور سیاسی کشیدگی کو جنگ جمل سے تشبیہ دی تھی؛ جنگ جمل صدراسلام میں یہودیوں اور اسلام کے دشمنوں کی سازش کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان پیش آئی تھی۔اس خطیب نے ام المومنین عایشہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی لیا تھا۔ یہ اس حال میں ہوا جب ان دونوں واقعات میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔
ام المومنین سیدہ عایشہ رضی اللہ عنہا کے بعض فضائل ومناقب پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: قرآن پاک کی صریح نص کی رو سے امی عایشہ سمیت تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ کوئی بھی حقیقی مسلمان اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ حضرت عایشہ رضی اللہ عنہا اس کی ماں نہیں ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: ایسی تشبیہات کا استعمال عقل سلیم اور اعتدال کے خلاف ہے اور ایسے لوگ افراط کی راہ پر چلنے والے ہیں۔ مرشداعلی نے بھی فتویٰ دیتے ہوئے ازواج مطہرات، صحابہ کرام اور اہل سنت سمیت تمام مسلم فرقوں کی مقدسات کی شان میں گستاخی کو حرام قرار دیاہے۔ لہذا تمام لوگوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ ایسے مسائل کا خیال رکھیں، ان کا تعلق کسی بھی سیاسی گروہ یا بازو سے ہو۔ سب کو چاہیے اپنے اختلافات کو صدراسلام میں رونما ہونے والے اختلافات ومشاجرات سے تشبیہ نہ دیں۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: جس قدر عالم اسلام کو ان دنوں میں اتحاد ویگانگی اور آرام کی ضرورت ہے، شاید کبھی اتنی ضرورت نہ تھی۔ تمام خطبائ، لکھاری اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران اپنی باتوں کا خیال رکھیںاور فرقہ واریت کو ہوا دینے سے گریز کریں۔ سب کو اتحاد کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید نے تمام سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ہمارا تعلق کسی بھی خاص جماعت یا گروہ سے نہیں ہے، ہم سب کی بھلائی چاہتے ہیں۔ لہذا اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں سمیت تمام سیاسی گروہوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ اپنے سیاسی تنازعات کو چھوڑکر اسلام اور اپنے ملک کی ترقی کیلیے محنت کریں۔ عقل ومنطق اور قانون کے دائرے میں اپنے مسائل حل کرائیں۔ ہم سب کو قانون کا تابعدار ہونا چاہیے اور ایسے حالات میں بھائی چارہ اور اخوت کو مت بھولیں۔
مولانا گرگیج: صحابہ کرام کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے
دوسری جانب ایران کے شمالی شہر آزادشہر کے خطیب اور جامعہ فاروقیہ گالیکش کے مہتمم نے صحابہ کرام خاص کر ام المومنین عایشہ اور طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا: اہل بیت میں سب سے پہلے ازواج مطہرات آتی ہیں پھر آل عقیل و آل جعفر۔ اگر ازواج مطہرات کا شمار مقدس ہستیوں میں نہیں ہوتی تو ’مقدسات‘ کی تعریف پیش کی جائے۔
مولانا محمدحسین گرگیج نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: بعض لوگ تاریخی روایات کا حوالہ دے کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان مین گستاخی کرتے ہیں؛ حالانکہ ان عظیم ہستیوں کو قرآن وسنت کی رو سے پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیا شیعہ مراجع تقلید اپنی فقہی آراءکو تاریخ کی کتب سے ثابت کرتے ہیں؟ تو عقیدے کو تاریخ سے کیوں ثابت کرنے پر زور دیاجاتاہے؟
انہوں نے کہا: ہم صحابہ کرام کی شان میں گستاخی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے؛ ہم مظلوم ہیں مگر ہماری مقدسات کی گستاخی سرخ لکیر ہے۔ یہ کسی بھی صورت میں ناقابل برداشت ہے۔ صحابہ کرام کی شان سے دفاع فرقہ واریت پھیلانا نہیں ہے؛ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے عقائد کا دفاع کریں۔
مولوی باہیئت، جامعہ احناف خواف، صوبہ خراسان، کے مدرس نے بھی اپنے خطاب میں تہران کے سرکاری خطیب کے گستاخانہ بیان پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: اگر کوئی بصیرت کا دعوی کرتاہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ بصیرت کے حامل لوگ اپنی زبان کا خیال رکھتے ہیں اور ایسی کوئی بات زبان پر نہیں لاتے جس سے کروڑوں مسلمانوں کی دل شکنی ہوجائے۔