
زاہدان(سنی آن لائن)ایرانی اہل سنت کی ’اسلامی فقہ اکیڈمی‘ کا انیسواں اجلاس جامعہ دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں اٹھائیس اور انتیس دسمبر دوہزار تیرہ کو منعقد ہوگیا۔
اجلاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہتمم دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید نے تمام علمائے کرام کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے علما وفقہا کی انتہک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا: عوام کے شرعی مسائل کا جائز حل نکالنا علمائے کرام کی اہم ذمہ داری ہے۔ کسی بھی معاشرے میں معیشت اور بینکنگ کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا؛ اسی لیے علمائے کرام کوشش کریں نئی دنیا کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل حل کریں۔
ایران کے سیستان بلوچستان، خراسان جنوبی، خراسان رضوی، ہرمزگان، فارس اور گلستان صوبوں سے تعلق رکھنے والے حنفی وشافعی علمائے کرام نے دو دن تک ’قتل خطا کی صورت میں تعدد کفارات‘، ’مکانات کا کرایہ ونقد رہن‘ اور ’رویت ہلال‘ کے مسائل پر اپنے مقالات پیش کرتے ہوئے ان مسائل پر تفصیلی بحث کی۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق صدر دارالافتا دارالعلوم زاہدان مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی کی تجویز پر اہل سنت ایران کی ایک مستقل رویت ہلال کمیٹی قائم کی جائے گی جس کے شعبے مختلف سنی اکثریت علاقوں میں ہوں گے۔ اس کمیٹی کی تشکیل ، ڈھانچہ اور ذمہ داریوں کے بارے میں اسلامی فقہ اکیڈمی کے آٹھ سینئر ارکان نے مفتی عبدالحلیم قاضی کی سربراہی میںاپنی تجاویز پیش کی جو اسلامی فقہ اکیڈمی کی طرف سے منظور ہوگئیں۔ مفتی قاضی ماہرفلکیات اور دارالعلوم زاہدان کے استاذ الحدیث والفقہ ہیں۔
اسلامی فقہ اکیڈمی کا انیسواں اجلاس اتوار انتیس دسمبر دوہزار تیرہ کی رات کو شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے خطاب اور دعا سے اختتام پذیر ہوگیا۔