
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ’ذکرالہی سے انسانی زندگی قیمتی بنانے‘ پر زور دیتے ہوئے کہا: زندگی کے ہر پل اللہ تعالی کو یاد کرنا چاہیے اور ہر موڑ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر عمل پیرا ہوکر انفرادی واجتماعی زندگی گزارنی چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ (تیرہ دسمبر دوہزار تیرہ) کا آغاز قرآنی آیت: «و أطیعو الله و الرسول لعلکم ترحمون» کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے متعد مقامات پر اپنے بندوں کو اپنی اور اپنے آخری نبی کی پیروی و اتباع کا حکم دیاہے۔ اللہ رب العزت نے اپنی اور اپنے رسولﷺ کی اتباع کو فلاح وکامیابی کا باعث قرار دیاہے۔ اللہ کی رحمتیں اس وقت ہم پر نازل ہوںگی جب ہم اس کی اور اس کے نبی کی اطاعت کریں گے۔
احکام شریعت کی اتباع کو مسلمانوں کی واضح علامات میں شمار کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: سچا مسلمان وہی ہے جو رب العالمین کے دربار میں سرتسلیم خم کرے اور اللہ اور اس کے رسول برحق کی ہدایات کی قدر کرے۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اتباع سے گریز کرتاہے دراصل وہ ان کی پیروی کو کم قدر اور فضول سمجھتاہے؛ اسی لیے اللہ تعالی کو کافر لوگ پسند نہیں ہیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اطاعت وپیروی اور مثالی کردار کیلیے بہت ساری عظیم ہستیاں تھیں، لیکن اللہ تعالی نے سرورکونین محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ و نمونہ قرار دیا جن کی اتباع ہی میں انسان کی کامیابی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برداشت، سخاوت، شب بیداری، ذکر، تواضع، وقار، جلال، عفو وبخشش، بہادری اور اٹھنے، بیٹھنے، بولنے اور سونے کا انداز سب ہمارے لیے قابل تقلید ہیں۔ ہماری نماز اور حج سمیت دیگر عبادات اس وقت تک اللہ کے دربار میں قبول میں نہیں ہوں گی جب تک نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق نہ ہوں۔
مولانا عبدالحمید نے ذکر الہی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمہ وقت اللہ کی یاد میں مگن رہتے۔ اس سے معلوم ہوتاہے بعض جگہوں پر جہاں زبانی ذکر ممکن نہیں ، آپﷺ اپنے قلب مبارک سے اللہ تعالی کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔ آپ ہرگز اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ اللہ تعالی کی یاد اور ذکر سے انسان کی زندگی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ جو اللہ کی یاد سے غافل رہتے ہیں وہ دراصل اپنے ہی مفادات کے خلاف چلتے ہیں۔ اللہ تعالی سب سے زیادہ اثر اپنی یاد وذکر میں رکھاہے۔ اللہ کا نام ہماری زندگی میں اثرگزار ہوتاہے۔
ذکراللہ کی اثرگزاری پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا: جس علاقے میں اللہ کا نام لیاجاتاہے اور اس ذات پاک کی یاد زندہ ہوتی ہے، وہاں نور وبرکت پھیل جاتی ہے۔ آپ مدینہ منورہ میں قدم رکھیں تو آپ کو ایک خاص نورانیت اور روحانیت محسوس ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ ذاکروں، قاریوں اور مجاہدوں کا شہر رہاہے۔ لیکن اگر کسی ایسے علاقے میں چلیں جہاں گناہوں کی بہتات ہو تو دل پر سختی وقساوت آجاتی ہے۔ اللہ کی یاد نور اور روشنائی ہے جبکہ غفلت وگناہ اندھیراپن ہے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی اتباع کو ’بہت بڑی سعادت‘ قرار دیتے ہوئے کہا: اگر کوئی شخص پوری طرح خاتم النبیین علیہ السلام کی سنتوں کو سمجھ کر ان کی پیروی کرے، بلاشبہ یہ اس کیلیے بہت بڑی سعادت ہوگی۔ لہذا آپ علیہ السلام کی سنتوں کو احادیث اور سیرت کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کے ذریعے سیکھنا چاہیے۔
اپنے خطاب کے پہلے حصے کے آخر میں حضرت شیخ الاسلام نے تمام حاضرین کو ذکرالہی، حصول علم ودینداری، باجماعت نماز میں شرکت خاص کر فجرکی نمازمیں اور زاہدان میں خواتین کو نمازجمعہ کیلیے لانے پر زور دیا۔
حکومت انتہاپسندوں کے دباو مسترد کرے
خطبہ جمعے کے دوسرے حصے میں ایرانی اہل سنت کے سرکردہ رہنما نے ایران میں رونما ہونے والی بعض تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نئی حکومت کو اقتدار کے مزے لینے والے انتہاپسندوں کے مشوروں کو مسترد کرنے کا مشورہ دیا۔
صوبہ سیستان بلوچستان کے صدرمقام زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صوبے میں بعض حکام کی تقرری کو مثبت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا: نئے گورنر سیستان بلوچستان، ناظم زاہدان اور وزارت انٹیلی جنس کے نئے صوبائی ڈائریکٹر تینوں سمجھدار، دانش مند اور تجربہ کار لوگ ہیں۔ امید ہے تمام عہدوں کیلیے اہل اور قابل لوگوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایاجائے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: بعض اوقات سننے میں آتاہے کہ کچھ متعصب اور انتہاپسند لوگ اہل سنت کے قابل اور ماہر افراد کو کسی عہدے پر دیکھنا نہیں چاہتے اور انہیں نظرانداز کرنے کیلیے ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر روحانی کی حکومت پر دباو ¿ ڈالاجاتاہے کہ اہل سنت کو عہدوں کی تقسیم میں کوئی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: بندے کو حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے کیسے کیسے لوگ پیدا فرمایاہے؛ کچھ لوگ صرف اپنی ہی برادری اور مسلک کے افراد کی عزت اور ترقی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز دوسروں کو برداشت کرنے کیلیے تیار نہیں ہیں۔ انہیں حق اور انصاف پر ایمان نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا خیال ہے وہ اللہ کے رستے پر ہیں؛ لیکن چاہے ایسے انتہاپسند سنی ہوں یا شیعہ، ان کی وجہ سے سب سے پہلے اسلام کو نقصان پہنچا ہے اور حتی کہ ایسے لوگ اپنے ہی مسلک اور مکتبہ فکر کو کمزور کرتے ہیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: دنیا کے کسی بھی کونے میں دیکھ لیں، جہاں بھی فرقہ وارانہ فسادات اور لڑائیاں پائی جاتی ہیں وہاں ایسے انتہاپسندوں کا کردار واضح دکھائی دیتاہے جو تنگ نظری کا شکار ہیں اور افراط کی راہ پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ بندہ تمام لوگوں کو ایک ہی نظر سے دیکھ لے اور اپنا سینہ کشادہ کرے؛ درست سوچ یہی ہے۔
خطیب اہل سنت نے مزیدکہا: صدرمملکت سے ہماری درخواست ہے کہ انتہاپسندوں اور متعصب لوگوں کے دباو مسترد کریں، ایسے عناصر کے دباو میں آنا شیعہ وسنی کے بھائی چارے کو نقصان پہنچاتاہے۔ یہی عناصر اور جماعتیں الیکشن کے دوران موجودہ صدر کی مخالفت کررہی تھیں۔ انہیں موجودہ صدر کی اعتدال پسندی ہرگز پسند نہیں ہے اور اسی لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں تاکہ انہیں ناکام ثابت کریں۔ لہذا ان متعصب عناصر کا دباو ¿ سختی سے مسترد کیاجائے۔
انہوں نے کہا: سپریم لیڈر سے بھی یہی درخواست ہے کہ وہ موجودہ نئی حکومت کی مدد کریں تاکہ ملک مزید تباہی اور مسائل سے نجات حاصل کرے۔ اگر ان کی درایت و رہنمائی ساتھ ہو تو یہ حکومت مسالک و قومیتوں کے حوالے سے اپنے وعدے پورا کرکے امتیازی سلوک کا خاتمہ کرسکتی ہے ۔ اگر رہبراعلی کی حمایت حکومت کو نصیب ہو تو انتہاپسند عناصر جو اہل تشیع کے بعد دوسری بڑی برادری، اہل سنت، کو نظرانداز کرنا چاہتے ہیں، ان کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: عوام اتحاد کو عمل میں چاہتے ہیں نعرے میں نہیں! جب تک ملک میں اتحاد عملی شکل اختیار نہ کرے دیگر مسائل بھی حل نہیں ہوں گے۔ انصاف، مفاہمت اور امتیازی رویوں کے خاتمے ہی سے ملک پرامن اور محفوظ ہوجائے گا۔ قومی سلامتی کا راز انصاف ہی کی فراہمی میں ہے۔ دیگر مسالک ومذاہب کے عقائد کو مدنظر رکھنے سے اللہ تعالی کی غیبی مدد حاصل ہوسکتی ہے۔