وہ اپنی اہلیہ سے شکایت کررہے تھے کہ ’’چراغ کی بتی موٹی ہے جو تیل زیادہ استعمال کرنے کا سبب بن رہی ہے۔‘‘ حاجت مند نے جو سنا تو وہ سوچتا ہی رہ گیا کہ وہ ایسے شخص سے حاجت براری کی کیا توقع کرے‘ جو تیل کے معمول سے زیادہ خرچ پر اپنی بیوی کو سرزنش کررہا ہے۔ اس نے ارادہ کیا کہ حاجت بیان کر دیکھوں‘ شاید میری کچھ امداد کرہی دیں۔ دستک سن کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ باہر آئے‘ حاجت مند نے اپنی حاجت بیان کی اور لہجے میں زیادہ زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ضرورت کچھ زیادہ ہی ہے‘‘
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کا ہاتھ تھاما‘ بستی سے باہر لے گئے۔جہاں آپ کا سامانِ تجارت بڑی تعداد میں رکھا ہوا تھا فرمایا: ’’یہ سب تیری نذر ہے‘ کیا اس سے تمہاری ضرورت پوری ہوجائے گی؟‘‘ وہ شخص حیران‘ ہکا بکا دیکھتا رہ گیا چنانچہ اس نے عرض کیا: ’’حضرت یہ سب کچھ میری ضرورت سے زیادہ ہے۔‘‘ امیر المومنین نے فرمایا: ’’مجھے خوشی ہے کہ یہ تمہاری ضرورت سے کم نہیں۔‘‘ اس شخص نے کہا: ’’اے حضرت! ایک بات بتائیے‘ چراغ کی بتی قدرے موٹی ہو جانے پر آپ اپنی زوجہ محترمہ کو سرزنش کررہے تھے حالانکہ چراغ اس قدر روشنی رکھنے میں شاید صرف ایک درہم کا تیل استعمال بھی استعمال نہ ہوتا‘ وہ تو آپ کو گوارہ نہ ہوا اوریہاں ہزاروں کا سامان مجھے بلا تامل دے رہے ہیں؟‘‘ تب آپ نے فرمایا: ’’بھائی چراغ میں تیل کا زیادہ اسراف ہے اور زیادہ اسراف اللہ کو پسند نہیں اور مجھے اللہ کے حضور اپنے اعمال کی فکر رہتی ہے‘ یہاں مجھے فکرِ اعمال لاحق ہے اس لیے میں نے سرزنش کی۔ سامان تمہیں اللہ کی خوشنودی کے لیے صدقہ دیا ہے اس پر اجر کی امید ہے اور وہاں پر حساب کا خوف ہے۔‘‘!
ہماری ویب
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…