کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ شہر میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بدھ کی دوپہر اس وقت شروع ہوا جب مشتعل افراد کی ایک بڑی تعداد نے علمدار روڈ جانے کی کوشش کی جس کی زیادہ تر آبادی شیعہ مسلک باالخصوص ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشتعل افراد کو علمدار روڈ جانے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اگرچہ مشتعل افراد کی علمدار روڈ جانے کی کوشش ناکام بنادی لیکن انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹائر جلائے جبکہ بعض علاقوں میں دکانوں کے شیشے بھی توڑ دیے۔
اس صورتحال کے باعث شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اورشہر کے مر کزی علاقوں میں تمام دکانیں بند ہوگئیں۔
سول ہسپتال کے ذرائع کے مطابق چار افراد کو ہسپتال لایا گیا جن کو گولیاں لگی تھیں جن میں سے ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔
قبل ازیں کوئٹہ کی فروٹ مارکیٹ سے انار کی پیٹیوں سے مبینہ طور پر قرآنی اوراق کی بر آمدگی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔
مظاہرین کا یہ الزام تھا کہ انار کی یہ پیٹیاں ایران سے بر آمد کی گئی تھیں۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلسنت والجماعت کے صوبائی امیر مولانا محمد رمضان مینگل نے شہر میں ہنگامہ آرائی سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے یہ انار بر آمد کیے تھے اس کو گرفتار کر لیا گیا اور فروٹ مارکیٹ میں اس کی دکان کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین نے کوئٹہ شہر میں ہنگامہ آرائی کرنے والو ں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس کے رہنما عباس موسوی نے دعویٰ کیا کہ اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے 12 افراد لاپتہ ہیں۔
کوئٹہ میں بدھ کے روز ہونے والے ہنگامہ آرائی سے متعلق محکمہ داخلہ بلوچستان نے ایک پریس نوٹ جاری کیا جس کے مطابق ایک ریلی کے شرکاء نے لیاقت بازار میں دکانوں کو زبردستی بند کرانے کی کوشش کی۔
پریس نوٹ کے مطابق دکانوں کو زبردستی بند کرنے کے خلاف مزاحمت پر دو گروپوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…