Categories: اسلام

قرآن کریم میں ضمیر ” نحن ” کے استعمال کا معنی

عربی کا اسلوب ہے کہ اگر شخص اپنے آپ کو ضمیر ” نحن ” سے تعبیر کرتا ہے جو کہ بطور تعظیم ہے ،

اوراپنے آپ کو ضمیر متکلم ” انا ” سے جو کہ مفرد پردلالت کرتی ہے ذکر کرتا ہے اور غا‏ئب کی ضمیر ” ھو ” کے ساتھ بھی ذکر کرسکتاہے ، اور یہ تینوں اسلوب قرآن کریم میں بھی وارد ہیں ، اوراللہ تعالی قوم عرب کو ان کی زبان ولغت میں مخاطب کرتاہے ۔
فتاوی اللجنۃ الدائمۃ جلد نمبر 4/ 143
تو اللہ سبحانہ وتعالی بعض اوقات اپنے آپ کوصیغہ مفرد ظاہر یاغائب کے ساتھ ذکرکرتے ہیں اوربعض اوقات جمع کے صیغہ کے ساتھ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : { ہم نے آّ پ کوفتح مبین عطافرمائ } اور اسی طرح اوربھی کئ ایک فرماین میں ہے ۔
اللہ تبارک وتعالی نے اپنے آپ کو تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ کبھی بھی ذکر نہیں کیا ، اس لۓ کہ جمع کا صیغہ اس تعظیم کا متقاضی ہے جس کا وہ مستحق ہے ، اور بعض اوقات اسماء کے معانی پر بھی دلالت کرے ، لیکن تثنیہ کا صیغہ عدد محصور پر دلالت کرتا ہے ، اور اللہ تعالی اس سے مقدس اور منزہ ہے ۔ ا ھ
دیکھیں العقیدۃ التدمریۃ ص 75 : تالیف شیخ الاسلام ابن تیمیہ
اور لفظ ” انا ” اور ” نحن ” اورجمع کے دوسرے صیغوں کے ساتھ کبھی تو شخص ان الفاظ کے ساتھ اپنی جماعت کے متعلق بات کرتا ہے ، اور کبھی عظمت وجلال والا اکیلا ہی ان کے ساتھ بات کرتا ہے ، جیسا کہ بعض بادشاہ اورحکمران کوئ فرمان جاری کرتے ہيں تویہ کہتے ہیں ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے وغیرہ ، حالانکہ وہ تو صرف ایک ہی شخص ہے صرف اس نے بطور تعظیم یہ الفاظ استعمال کۓ ہیں ۔
تو ہرایک سے زیادہ تعظیم کا حق دار تو اللہ وحدہ لاشریک ہے توجب اللہ تبارک وتعالی اپنی کتاب عظیم قرآن مجید میں “انا ” اورنحن ” کا لفظ استعمال کرتا ہے تو یہ بطور تعظیم ہے ناکہ تعدد ، تو اگر اس طرح کی کسی آیت پرکسی شخص کواشکال پیش آۓ‎ یااس پر مشابہ ہوجا‎ۓ تو اسے چاہۓ کہ وہ اس کی تفسیر کے لۓ اسے محکم آیات پر لوٹاۓ ۔
اگرکوئ عیسائ اللہ تعالی کے اس فرمان { بیشک ہم نے ذکرکو اتارا ہے اورہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہيں } سے تعدد کا استدلال کرے یااس طرح کوکسی دوسری آیت سے تو ہم اس کا رد محکم آیات سے رد کريں گے ،مثلا اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { اور تمہاراالہ اور معبود ایک اللہ ہی ہے ،اس اللہ کے علاوہ معبود برحق کوئ نہیں وہ رحمن و رحیم ہے }
اوراللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :
{ کہہ دیجۓ کہ وہ اللہ ایک ہی ہے } اوراس طرح کی دوسری آیا ت جوکہ صرف ایک ہی معنی رکھتی ہیں ان میں دوسرے معنی کا احتمال ہی نہیں ، تو جو حق تلاش کرنےکا ارادہ رکھتا ہے اس سے شک اورالتباس زائل ہو جاۓ گا ۔
اور اللہ تبارک وتعالی نے جتنے بھی اپنے متعلق جمع کے صیغے ذکرفرماۓ ہیں وہ اس عظمت پر مبنی ہیں جس کا وہ اللہ تبارک وتعالی مستحق ہے اوراس کے کثرت اسماء و صفات اورکثرت جنود اور اس کے فرشتوں کی کثرت کی وجہ سے بھی ۔ دیکھیں العقیدۃ التدمریۃ ص 109تالیف شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ ۔
واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago