Categories: اسلام

پانى كے اسراف كے متعلق وارد حديث

 

 

 

امام احمد اور ابن ماجۃ رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ:

” نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سعد رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس سے گزرے تو سعد رضى اللہ تعالى عنہ وضوء كر رہے تھے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
سعد اسراف كيوں كر رہے ہو ؟
سعد رضى اللہ تعالى عنہ نے عرض كيا:
كيا وضوء ميں بھى اسراف ہوتا ہے ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
جى ہاں، اگر آپ چلتى نہر اور دريا پر بھى ہوں تب بھى اسراف ہوتا ہے “
مسند احمد حديث نمبر ( 6768 ) سنن ابن ماجۃ حديث نمبر ( 419 ) شيخ احمد شاكر كہتے ہيں كہ اس كى سند صحيح ہے، اور شيخ البانى رحمہ اللہ نے پہلے تو ارواء الغليل ميں اسے ضعيف قرار ديا تھا، ليكن بعد ميں سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ ميں اسے حسن قرار ديا ہے.
اور كچھ علماء كرام نے اس كى سند ميں ابن لھيعۃ ہونے كى بنا پر اسے ضعيف قرار ديا ہے، ليكن علامہ البانى رحمہ اللہ نے بيان كيا ہے كہ يہ حديث ابن لھيعۃ سے قتيبۃ بن سعيد سے مروى ہے، اور قتيبہ كى ابن لھيعۃ سے روايت صحيح ہے.
ديكھيں: سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 3292 ).
اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:
” علماء اس پر متفق ہيں كہ پانى كے استعمال ميں اسراف سے كام لينا مكروہ ہے ” انتہى
ديكھيں:الموسوعۃ الفقھيۃ ( 4 / 180 ).
اور شيخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ كہتے ہيں:
” پانى كے استعمال ميں اسراف سے كام لينے كى ممانعت پر علماء كرام كا اتفاق ہے، چاہے سمندر كے كنارے پر ہى كيوں نہ ہو، كيونكہ امام احمد اور ابن ماجۃ رحمہما اللہ نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كي ہے كہ:
” سعد رضى اللہ تعالى عنہ وضوء كر رہے تھے تو وہاں سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم گزرے اور فرمايا: “
پھر شيخ نے مندرجہ بالا حديث ذكر كى ہے ” انتہى
ماخوذ از: شرح سنن ابو داود.
اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” ہميں علم ہونا چاہيے كہ وضوء يا غسل ميں پانى زيادہ استعمال كرنا درج ذيل فرمان بارى تعالى ميں داخل ہوتا ہے:
{ اور تم اسراف نہ كيا كرو، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى اسراف كرنے والوں كو پسند نہيں فرماتا }.
اسى ليے فقھاء كرام كا كہنا ہے كہ:
” اسراف مكروہ ہے چاہے چلتى نہر كےكنارے بھى ہو، تو پھر اگر پانى نكالنے والى موٹر كے پاس ايسا كيا جائے تو كيا حكم ہو گا ؟
حاصل يہ ہوا كہ: وضوء وغيرہ ميں اسراف كرنا مذموم امور ميں شامل ہوتا ہے ” انتہى

ماخوذ از: رياض الصالحين

الاسلام سوال وجواب

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

1 month ago