Categories: پاکستان

’غداری‘ کا مقدمہ، خصوصی عدالت کی تشکیل آج متوقع

پاکستان کی مختلف ہائی کورٹس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آج یعنی منگل کے روز سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمے کے سلسلے میں خصوصی عدالت کے لیے ججوں کے نام سپریم کورٹ کو بھجوائیں گی۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ سے امید کی جا رہی ہے کہ اس مقدمے کے لیے خصوصی عدالت کا اعلان بھی آج ہی کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کی وفاقی وزارت قانون نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے کہ عدالت عظمیٰ اس مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کے سلسلے میں تین ججوں کی نامزدگی کرے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ملک کی تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس ججوں کو 19 نومبر تک اس عدالت کے لیے ججوں کے نام بھجوانے کے لیے کہا تھا۔
حکومت کی جانب سے یہ خط سیکریٹری قانون بیرسٹر ظفراللہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو لکھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ چونکہ اس وقت ملک میں پانچ ہائی کورٹس ہیں جن میں سے حکومت کے لیے تین ہائی کورٹ سے ججوں کی نامزدگی کے لیے مشکلات درپیش آسکتی ہیں۔
’اس لیے یہ مناسب ہوگا کہ عدالت عظمیٰ اس مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کے سلسلے تین ججوں کی نامزدگی کرے۔‘
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وفاقی حکومت کی طرف سے لکھے گئے اس خط پر حکم جاری کیا ہے کہ اس خط کو ملک کی پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کو بھجھوایا جائے اور تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان 19 نومبر تک اپنے اپنے ایک جج کا نام سپریم کورٹ کو بھجوا دیں جن میں سے خصوصی بینچ کی تشکیل کے لیے تین ناموں کی منظوری دی جائے گی۔
وفاقی حکومت کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ فوری طور پر پاکستان کے چیف جسٹس کے نوٹس میں لایا جائے۔ اس کے علاوہ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تین ججوں کی نامزدگی کے بعد اُنہی میں سے ایک جج کو اس خصوصی بینچ کا سربراہ بھی مقرر کیا جائے۔
خط کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ کی تشکیل کے بعد یہ بینچ اسلام آباد ہی میں اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق خصوصی بینچ کی تشکیل کے بعد سیکریٹری داخلہ اس بینچ کے سامنے شکایت کنندہ کے طور پر پیش ہوں گے جس کے بعد عدالت سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے میں عدالتی کارروائی کا آغاز کر دے گی۔
ماہرِ قانون حامد خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بینچ کی تشکیل کے لیے سپریم کورٹ کو خط نہیں لکھنا چاہیے تھا: ’حکومت کمیشن کی تشکیل کے لیے بااختیار ہے اور اس ضمن میں اُسے کسی عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے حامد خان کا کہنا تھا کہ حکومت سابق فوجی جنرل کے خلاف خود کارروائی کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کے کاندھوں پر یہ ذمہ داریاں ڈالنا چاہتی ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے سابق صدر شیخ احسن الدین کا کہنا ہے کہ چونکہ عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات الگ الگ ہیں اس لیے حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے بینچ کی تشکیل کے لیے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔
شیخ احسن الدین اُن درخواست گُزاروں میں شامل تھے جنہوں نے سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔
اس سے قبل وفاقی حکومت نے ذوالفقار عباس نقوی ایڈوکیٹ کو سپیشل پراسکیوٹر مقرر کر دیا ہے۔
شہزاد ملک

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago