ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے سنی ممالک پر الزام لگایا کہ یہ خوف پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کے بقول بعض لوگ اپنی تنگ نظری کی وجہ سے نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ تقسیم ہم سب کے لیے خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ شام میں تنازع فرقہ وارانہ بنیادوں پر شروع نہیں ہوا تھا لیکن اب یہ فرقہ وارانہ رخ اختیار کر گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق فرقہ واریت کی مخالفت میں تمام فریقین کو اپنے اختلافات بھول جانے چاہییں۔ انھوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ سنی عرب رہنما فرقہ واریت پر مبنی تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب سمیت دیگر عرب ریاستیں ایران پر فرقہ واریت کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتی ہیں۔
اردو ٹائمز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید